Published On: Thu, Oct 6th, 2016

یوم شہداء کے عنوان سے سالانہ تقریبات کا پس منظر

Share This
Tags

02
تحریر:آغا سفیر حسین کاظمی
پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات سے نبرد آزما مسلح افواج کو قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے ”چومُکھی”لڑائی لڑنا پر رہی ہے ۔ایک وقت تھا ،جب روایتی انداز سے روایتی دشمن کی سازشوں و جارحیت کا مقابلہ کیا جاتا تھا۔کم تعداد ،کم وسائل حرب کے باوجود”روایتی دشمن”ہندوستان کی جارحیت کا مقابلہ کیا گیا،پھر وقت بدلا ،جنگوں کے انداز و اطواربھی بدلے ،دشمن جوکہ پہلے جارحیت پر یقین رکھتے ہوئے سازشیں روبہ عمل رکھتا،اب اُس نے دیکھ لیا ،کہ پاکستان ”ایٹمی قوت”بن چکا ہے ۔اور جارحیت کا مطلب ”بڑی تباہی ”کو دعوت دینا ہے ۔چنانچہ ”مشرقی پاکستان”کوالگ کرنے کیلئے آزمایاگیا اپنا پرانا نسخہ دوبارہ استعمال کرنے پر توجہ دینے لگا ، اور پھر نائن الیون کے بعد بدلتے ہوئے عالمی مزاج اور منظر نامے سے بھر پور انداز میں استفادہ کیا ۔سفارتی محاذ پر مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی ”دراندازی”ثابت کردی ۔پاکستان پر عالمی دبائو آیا ،تو بندوق دوبارہ صندوق میں بند ہوگئی ۔امریکی سرپرستی میں قائم افغان حکومت میں پاکستان سے ملحقہ افغانی شہروں میں ہندوستانی ”قونصل خانوں ”کا جال بِچھ گیا ،جہاں سے بلوچستان سمیت KPKمیں مداخلت شروع کردی گئی ۔پاکستانی حکمرانوں کی بعض مجرمانہ پالیسیوں نے ہندوستانی سازشوں کیلئے آکسیجن کا کام کیا ،نتیجہ یہ نکلا ،کہ مسلح افواج کو پاکستان کے اندر دشمن کے بِچھائے سازشوں کے جال توڑنے کیلئے جنگ لڑنا پڑی ،اوراس دوران مسلح افواج اور قوم نے ساٹھ ہزار سے زائد جانیں دی ہیں۔اور نجی ،دفاعی تنصیبات پر حملوں میں بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔چونکہ روایتی دشمن (ہندوستان)نے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے ”مشرقی پاکستان”میں استعمال کیا گیا نسخہ دوبارہ اپنایا ہے ۔اس لئے قومی حلقوں میں بھی ”قومی وحدت ”کی اہمیت و افادیت پر کام کی ضرورت شدت کیساتھ محسوس کی گئی ،اسی ضرورت کے پیش نظر مسلح افواج اور قومی حلقوں میں ”احترام و اعتماد”کے رشتوں کے تحفظ کیلئے سرگرمیوں پر توجہ دی جانے لگی ،تاکہ دشمن کو مسلح افواج اور قومی حلقوں میں ”خلیج ”پیدا کرنے کی سازشوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے ۔چونکہ پاکستان کا دشمن ”مکاری اور کمینگی”میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ،اس لئے اس کی چیرہ دستیوں سے بچنے کیلئے ضروری ہے ،کہ پاکستان کے ”اندرونی”ماحول میں ایسی کوئی گنجائش پیدا نہ ہونے دی جائے ،جس سے دشمن فائدہ اُٹھا سکے ۔نیز پاکستان کی سلامتی ،ترقی و استحکام کیلئے کردار ادا کرنیوالوں کی ”تعظیم و ستائش”کی اہمیت و ضرورت کو بھی سمجھا گیا ۔گذشتہ ڈیڑھ عشرہ سے سکیورٹی مسائل بڑھنے سے پاکستان کی مسلح افواج اور قومی حلقوں میں ”روایتی میل جول” انتہائی کم ہوا ،ظاہر ہے دشمن کیلئے ایسی صورتحال سے فائدہ اُٹھانے میں کیا رکاوٹ ہوسکتی تھی؟اور پھر پاکستانی قوم پہلے بھی دشمن کی مکاریوں اور کمینگی کیوجہ سے نقصان اُٹھاچکی ۔لہذا قومی حلقوں نے قومی دنوں کی مناسبت سے ایسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا عمل شروع کردیا ،جو بہت محدود ہوچکا تھا۔ساتھ ہی مسلح افواج اور قومی حلقوں کے اشتراک سے مختلف سرگرمیاں بڑھائی جانے پر توجہ مرکوز کی گئی ۔یوم شہدائے پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یوم شہداء 2012تا2014(تین سال )تک جنرل کیانی کے احکامات کیمطابق 30اپریل کو منایا جاتا رہا ۔تاہم بعد میں موجودہ عسکری قیادت نے یہ طے کیا کہ ہرسال 6ستمبر کو ”یوم دفاع /یوم شہداء ”ایک ساتھ منائے جائیں گے ،چنانچہ 2015میں 6ستمبریوم دفاع کیلئے مخصوص دن پر” یوم شہداء ”کے عنوان سے ملک بھر کے تمام گریژنز اور جنرل ہیڈ کوارٹرز میں تقاریب کا انعقاد ہوا۔اور 1948سے لیکر دور حاضر تک مسلح افواج کے جتنے بھی جانبازوں نے ”دفاع وطن”کیلئے اپنی جانیں قربان کیں ،اُن کے گھرانوں کو ”یوم شہدائ”کی تقریبات میں مدعو کیا جانے لگا ہے ۔ساتھ ہی مسلح افواج کا یہ نعرہ بھی قابل قدرہے”ہم کوئی شہادت نہیں بُھولے”بِلاشُبہ پاکستانی قوم کی غیرت و وقار کی علامت اور محافظ مسلح افواج ”کوئی بھی شہادت نہیں بُھول سکتیں”اور نہ ہی وہ عظیم مقصد فراموش کیا جاسکتا ہے ،جسکی خاطر مسلح افواج کے جانبازوں نے تاریخ رقم کی ہے۔اور تسلسل سے قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔اور یہ سب کچھ پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے کیا جارہا ہے۔مسلح افواج کی کمان نے ”یوم شہداء ”کے عنوان سے ہر سال گریژن لیول پر تقریبات کے انعقاد کا فیصلہ اس لئے کیا ،کہ اپنے شہداء کے گھرانوں سمیت سول سوسائٹی کے موثر و ذمہ دار افراد کیساتھ ایک قریبی تعلق استوار ہو ،شہداء کے گھرانوں کیساتھ اٹوٹ رشتوں میں ایک اعتماد اور گرمجوشی لائی جاسکے ۔شہداء کے گھرانوں کو درپیش مشکلات و مسائل سے آگاہی حاصل کی جاسکے ،اور پھر ہر ممکن حل تلاش کیا جاسکے ۔اور شہداء کے گھرانوں کو یہ پیغام بھی مل سکے ،کہ مسلح افواج اپنی بے مثال تاریخ کے کرداروں(شہدائے وطن)کے گھرانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔اِسی طرح ان تقریبات میں شریک سول سوسائٹی کے دیگر مہمانان گرامی کو بھی پیغام ملتا ہے کہ مسلح افواج ملک و قوم کیلئے جانیں نچھاور کرنیوالوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہیں ،اور اُن شہداء کے گھرانوں کیلئے عزت و احترام کے جذبات رکھتی ہیں۔بلکہ مملکت خداداد کے ہر خاص و عام کوایک دعوت فِکر بھی ملتی ہے۔اس بار5ویں بار”یوم شہدائ”کی مناسبت سے ملک کے تمام گریژنزمیں مادر وطن پر قربان ہونیوالے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ”یوم شہدائ”کی تقاریب 6ستمبرکو منعقد ہورہی ہیں۔اگر چہ ان تقاریب میں قومی حلقوں کی شرکت قابل ذکر حد تک بڑھ رہی ہے ،تاہم شہدائے وطن کے ورثاء NOKکی مکمل شرکت یقینی نہیں بن سکی ۔بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر ورثاء کی تقریبات میں مکمل موجودگی کا عمل توجہ طلب ہے۔اس حوالے سے”سہولت کار”کے طورپر شہداء خاندانوں ،سابق فوجیوں کے اُمور سے متعلق پاک فوج کی طرف سے قائم کردہ ”آرمڈ سروسز بورڈ”کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان آتا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے قرب و جوار میں موجود دشمنوں کے گھنائونے کردار سے مکمل آگاہ رہنے کیساتھ ساتھ ”مسلح افواج اور قومی حلقوں”میں باہمی احترام و عتماد کی فضا مذید مستحکم کریں ،اس حوالے سے ”شہدائے وطن”مضبوط کڑی ہیں۔شہداء سے عقیدت و احترام کے اظہار کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اُنکی قربانیوں کی قدر و قیمت کا ادراک و احساس کریں،دفاع وطن میں جہاں ملک کے دیگر صوبوں و علاقوں کے جانبازوں کا خون شامل ہے ،وہیں آزادکشمیر کی دھرتی سے تعلق رکھنے والے اُن بہادر سپاہیوں کاحصہ بھی نمایاں ہے ۔اور یہ وہ جانباز ہیں جنہوں نے 1948سے ئاب تک آزادخطہ کے3997 کے بہادر سپوتوں نے دفاع پاکستان اور تحفظ آزادی (بیس کیمپ )کے لئے بہادری و شجاعت کی داستانیں رقم کی ہیں ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>