Published On: Mon, Jul 18th, 2016

ہماری منزل اور قومی مفادات مشترک ہیں ۔۔۔ملا عمر

Share This
Tags

جنرل مرزا اسلم بیگ(سابق چیف آف آرمی سٹاف)
2001aslam baig1ئ میں جب امریکہ نے افغانستان پرمصائب و الم (Shock and Awe)کے پہاڑ ڈھائے اور قبضہ کرلیا تو اس وقت ملا عمر نے پاکستان کوپیغام بھیجا تھا کہ آپ نے ہمارے خلاف جنگ میں ہمارےدشمنوں کا ساتھ دیا ہے لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کو اپنا دوست سمجھتے ہیں کیونکہ ہمارےقومی مفادات اور منزل مشترک ہیں۔ ان الفاظ کے بہت گہرے معنی ہیں جن کو سمجھنے کیلئے باریک بینی سے تجزیہ کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ بحرانی دور میں ہم کوئی قابل عمل حکمت عملی وضع کر سکیں۔اس تجزیے سے جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ سوویٹ یونین کی جارحیت کے خلاف افغانیوں کی جنگ آزادی میں بھرپور مدد کے باوجود امریکہ نے افغانیوں سے کیوں پیٹھ پھیر لی تھی جبکہ وہ فاتح تھے اور ان کی خودمختاری کےقیام کی مخالفت کی تھی اور اب بھی شدت کے ساتھ یہ مخالفت جاری ہے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:
سی آئی اے(CIA) اور آئی ایس آئی (ISI)نے اس گوریلا جنگ کی منصوبہ بندی کی جو کہ دنیا
کے ستر (70)ممالک سے آئے ہوئے جہادیوں کی مدد سے لڑی گئی تھی۔ اس کے سبب افغانستان
میں ایک مزاحمتی قوت کا مرکز وجود میں آیا جس نے سپر پاور سوویٹ یونین کو شکست دی جس
کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ کو بڑے مفادات حاصل ہوئے اوراسے ڈر تھا کہ اگریہ مزاحمتی قوت کا
مرکز اگر قائم رہا تواس کے مفادات کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔
لہذاافغانستان میں جہادی قوت کی تویج اور اسلامی مملکت کے ممکنہ قیام کومغربی دنیا نے اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اسے محدود کرکے ختم کرنا ضروری سمجھا۔
آئی ایس آئی نےدنیا بھر کے جہادیوں کے ساتھ اچھےمراسم قائم کر لئے تھے جس کی وجہ سے اسےمزاحمت کاطاقت ور ہتھیار سمجھتے ہوئے اس کی طاقت اور اثرورسوخ کو ختم کرنا ضروری سمجھا گیا تاکہ امریکی مفادات کیلئے وہ خطرہ نہ بن سکے۔
ان اہداف کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوویٹ یونین کی پسپائی کے بعد امریکہ نے مجاہدین کو افغانستان میں شریک اقتدار ہونے سے محروم کر دیا اور دانستہ خانہ جنگی کرائی اور افغانیوں کے مزاحمتی مرکز کو کمزور کیا لیکن تمام ہتھکنڈے ناکام ہوئے کیونکہ 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو مزاحمتی قوت پھر سے یکجا ہوگئی جس نے امریکنوں اور نیٹو کوبدترین شکست سے دوچار کیا اور اب صرف12000 فوجیوں کی مدد سے ایک بار پھروہ طالبان کواقتدارمیں شرکت کے حق سے محروم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیںجبکہ امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف طالبان متحد ہیں اور مکمل فتح کی خاطر ایک بھرپوراور بامقصد جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔
1024px-thumbnail_5اپنی سازشوں کی تکمیل کیلئے امریکہ نےپاکستانی حکومت کی مدد سے آئی ایس آئی کو افغان جہاد سے وابستہ تمام اہلکاروں سےپاک کر دیا جس سے دنیا بھر کے جہادیوں سے اس کے تعلقات ختم ہوگئے جو آٹھ سالہ طویل مزاحمتی جنگ میں شامل رہے تھے۔ لیکن ان اقدامات سے امریکہ کو خودبڑا نقصان اٹھانا پڑا۔اس لئے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو 2001 سے 2016 تک کی جنگ میں مدد کی ضرورت پڑی توآئی ایس آئی معمولی مدد کے قابل رہ گئی تھی۔ امن مذاکرات بھی ناکام ہو گئے اور اب مزاحمتی جنگ کی شدت بڑھتی جا رہی ہے جو طالبان کیلئے فتح کی نوید اور منزل کے قریب ہونے کی علامت ہے۔بلا شبہ اس وقت افغانستان کی قابل ذکر قوت طالبان ہیں کیونکہ ان کیمزاحمتی قوت کامرکزناقابل تسخیرہے جو افغانستان میں اسلامی مملکت کے قیام کی ضمانت ہے۔
افغان مزاحمتی قوت کا یہ مرکز اپنے اندر ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پڑوسی ممالک مثلا روس چین ایران اور وسطی ایشیائی ممالک اسی کشش سے مرعوب ہو کر طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کررہے ہیں لیکنپاکستان ابھی تک امریکہ کا اتحادی ہونے کے زعم میں مبتلا ہے اوراس حوالے سے ہماری پالیسی تذبذب کا شکار ہے لیکن خوش قسمتی سےامریکہ نےخودپاکستان کے ساتھ اتحادی تعلقات کی بے توقیری کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھائے ہیں جس کے سبب قدرت نے ہمیں منفرد فیصلہ کرنے کاایک سنہری موقع عطا کیا ہے۔جبکہ بھارت امریکی خواہش پرطالبان کے ساتھ دھوکے اور فریب کا کھیل کھیلنے اورطالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنے کیلئے مکمل طور پر رضا مندہے ۔اب ہمارےراستے جدا جدا ہیں ۔ ہمارا راستہ حق و صداقت اور ایثار و قربانی کا راستہ ہے جو حصول مقصد کا راستہ ہے۔
پاکستان کیلئے مثبت اور باہمت اقدامات اٹھانے کا یہ فیصلہ کن لمحہ ہے ۔آسان سی بات ہے جس پر عمل کرنا بھی نہایت آسان ہے کیونکہ آج پاکستان کونئے مواقع درپیش ہیںجنہیں نہایت دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے عمل کرنا ضروری ہے مثلا:
ضرب عضب کے مقاصد پایہ تکمیل تک پہنچنے کے قریب ہیں اس لئے ضروری ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبائلیوں اور اسکاﺅٹس کو سونپ دی جائے اور افغان فوجوں کی جانب سےکسی قسم کی سرحدی خلاف ورزی اور حملے کا سخت اور منہ توڑ جواب دینے کی حکمت عملی تیار کرلی جائے۔
اندرون ملک بے گھر افراد (IDPs)کی بحالی کیلئے حکومت کی مدد کی جائے اور سول انتظامیہ کے ذریعے حکومتی رٹ قائم کرنے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔
امریکہ کی جانب سے افغان حکومت کی 12000 فوجیوں کے ذریعے فوجی مدد بڑھانے کا فیصلہ اعتراف شکست ہے اس لئے کہ ماضی کی بدترین شکست کی حکمت عملی کو دہرایا جا رہا ہے یعنی پہلے والی غلطی کوپھر سے دہرایا جا رہا ہے۔ گذشتہ عشرے میں 150,000 امریکی اور نیٹو فوجیوں کے باوجود انہیں طالبان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی ہے اور اب افغانستان کی آزادی کی جنگ اس مقام پر آ پہنچی ہے جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت کا غرور خاک میں ملنے کو ہے۔ یہ منظر ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔امریکہ کے اس فیصلے کا نتیجہ طالبان کے حق میں ہوگا جن کا عزم پختہ ارادے مصمم اور مقصد سے وابستگی لازوال ہے یعنی اپنے مادر وطن کی آزادی کی جنگ ان کیلئے ایک مقدس فریضہ ہے۔
دانشمندی اور بصیرت سےفیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو حاصل مواقع کی مناسبت سے اقدامات اٹھانے ہوں گے کیونکہ افغانیوں کی مزاحمتی قوت کی کشش نشان منزل کی نشاندہی کرتی ہے اور ہمسایہ ممالک کواپنی جانب راغب کرتی ہے اسی سوچ کے گرد علاقائی تذویراتی اتحاد بنتا نظر آرہا ہے جو امن و سلامتی کی ضمانت ہوگا اور بیرونی سازشیں دم توڑ جائیں گی۔
حرف آخر:
دو دن قبل تورخم کے بارڈر پر افغان فوج نے کسی کی شہ پر بلا اشتعال پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستانی فوج نے جوابی کاروائی کر کے اس سازش کو افغان سرزمین ہی پر دفن کر دیا تاکہ پاکستان کے خلاف دوسرا محاذ کھولنے کی کوئی جرات نہ کر سکے۔
friendsfoundation@live.co.uk

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>