Published On: Tue, Jun 7th, 2016

گھر کے چراغ سے گھر کو جلانے کا منصوبہ

Share This
Tags

2جون2016ءکو جب جامعہ میرپور آزاد کشمیر (MUST)کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بلائے گئے کشمیر سیمینار کے دوسرے دن شرکاءقضیہ کشمیر پر بحث میں مصروف تھے اسی وقت بھارتی دارلخلافہ دہلی میں مقبوضہ کشمیر میں پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے درمیان ایک اہم میٹنگ میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق اہم فیصلہ ہورہے تھے۔ محبوبہ مفتی اقتدار میں رہنے آئی ہے اور داو پیچ اپنے مرحوم والد سے سیکھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی جاسوس ایجنسی RAWکے سربراہ اے ایس دُلت کی کشمیر پر لکھی گئی کتاب سے اقتدار حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے تقاضوں سے باخبر ہوچکی ہے۔ اقتدار میں برقرار ی کا سب سے بڑا ذریعہ کشمیر میں موجود بھارتی آئی بی (IB ) کی ہمنوائی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ محبوبہ مفتی اور راج ناتھ سنگھ میٹنگ میں اعتماد سازی (CBMs) کے حوالے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلح جدوجہد سے فارغ یا مسلح جدوجہد کی تربیت سے فارغ آزاد کشمیر اور پاکستان میں موجود ایسے نوجوانوں جو اپنے گھروں کو واپس آنا چاہتے ہیں کیلئے نیپال کا راستہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر واپس آنے کیلئے قانونی قرار دیا جائے۔ اگرچہ بھارت اور کشمیری حکومت نے مسلح جدوجہد سے فارغ اور دوسرے نوجوانوں جو گھر سے مسلح جدوجہد کیلئے آزاد کشمیر یا پاکستان آئے تھے کیلئے واپسی کے بعد بحالی کے ایک پروگرام کا اعلان کیا ہے تاہم ان نوجوانوں کو نیپال کے راستے جانے پر ایک بار پھر گرفتاری اور تفتیش کا سامنا رہتا تھا۔ اس نئے فیصلے کے بعد نیپال سے واپسی کو قانونی قرار دیا گیاہے۔ ان کشمیری نوجوانوں جو جنگ آزادی اور ادھوری جنگ میں ہی روک دیئے گئے ہیں یا جو صرف تربیت ہی پاچکے ہیں یا تربیت کی غرض سے آنے کے بعد ایک کھوکھلے امن اور ایک کھوکھلی سفارتکاری کے ہاتھوں لٹ گئے ہیں کیلئے واپسی کی یہ پیشکش ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ مسلح جدوجہد کے رہنماﺅں نے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کو بھارتی بندوقوں کا شکار کرایا اور بقیہ نوجوانوں کے معمولات زندگیوں سے شرمناک حد تک بے اعتنائی برتی۔ اب یہ نوجوان ایک احساس شکست کو لیکر بھارتی اور مقبوضہ کشمیر حکومت کی مہربانی کے محتاج رہےں گے۔ بھارتی قبضہ کے خلاف مسلح جدوجہد کشمیری عوام کا ایک بینادی حق ہے اور یہ حق اہل کشمیر اور ان کے دوست ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعہ بھی استعمال کرنے کی تحریک کراسکتے ہیں۔ بہتر تو یہ تھاکہ ہم بھارت کی جملہ خلاف ورزیوں کے خلاف فوجی اور دوسری کارروائی کیلئے سلامتی کونسل ہی سے رجوع کرتے ۔ لیکن نیم حکیموں نے ایک پوری نسل کو بھارت کی تیار کردہ چتا میں بھون ڈالا۔ آج ہم عددی اعتبار سے بہت کمزور ہیں اور شائید بھارت کی مہربانیوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں۔ نوجوانوں کی اس کھیپ کے واپس جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی عام مسلم آبادی اور تحریک دوست لوگوں میں مایوسی پھیل جائے گی جس کے نہایت ہی نامناسب نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ محبوبہ مفتی اور راج ناتھ سنگھ کی اس میٹنگ میں کشمیر کی وزیر اعلیٰ نے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی بے روزگاری ختم کرنے کیلئے انہیں IRPFانڈین ریزرو پولیس فورس کے خصوصی دستوں میں بھرتی کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا۔ بندوق، اظہار اور استدلال سے جنگ ِ آزادی لڑنے والی اس نسل کو اب بھارتی پولیس فورس میں بھرتی کرنے کے بعد یہ اپنے ہی گھر کو آگ لگانے والے چراغ ثابت ہونگے۔ کشمیر کی سول سوسائٹی میں ایک بنیادی دراڑ آجائے گی۔ کشمیری ہی کشمیری کا جانی دشمن بن جائے گاکیونکہ یہ بات ناقابل فہم لگتی ہے کہ ایسے بے روزگار نوجوانوں کو صرف فوج یا سیکورٹی کے اداروں میں ہی کیوں نوکری دی جانےکا منصوبہ بنایا گیا ہے کیاان کیلئے دیگر محکموں یا اداروں میں نوکری کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہاں ایسا ضرور لگتا ہے کہ یہ منصوبہ بھائی کے ہاتھوں دوسرے بھائی کو مروانے کی سازش ہے۔ عام کشمیری کو بھارتی بندوق ، اپنے ہی کشمیریوں کے ہاتھوں میں دی گئی بھارتی بندوق ، بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور ان ایجنسیوں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں اور کشمیری مسلمانوں کے ستم کا سامنا رہے گا۔ محبوبہ مفتی نے امن اور مفاہمت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ کیسا امن اور کس کے ساتھ مفاہمت ہونی ہے یہ معاملہ واضح نہیں۔ مراد یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسلمان جسے محبوبہ مفتی بدامنی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے بھارت کے ساتھ امن کیلئے آمادہ کرنے کا منصوبہ ہے اور مفاہمت سے مراد بھارت کی جانب سے 1990ءسے لیکر اب تک کشمیریوں کے قتل عام، عصمت ریزی اور تذلیل کی طویل داستان کو درگزر کرانے اور چھوٹے موٹے مفادات پر گزارہ کرنے پر آمادہ کرانے کا منصوبہ ہی ہوسکتا ہے۔ امن اور مفاہمت کا منصوبہ بھارتی افواج اور دوسری ایجنسیوں کے پھیلائے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کی ایک سیاسی چال ہے۔ اس چال کو بے نقاب اور ناکام کرنے کی اشد ضرورت ہوگی۔ چاڈ”Chad“ کے سابق سربراہ کی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث پائے جانے پر سینگال کی عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی ہے اس کے بعد یہ امید جان پکڑ گئی ہے کہ ایک دن بھارتی ذمہ داران بھی بھارت سے باہر کسی دوسرے ملک کی عدالت میں نہتے کشمیریوں پر کئے گئے مظالم کیلئے جوابدی کیلئے کٹہرے میں کھڑے کئے جائیں گے اور وہ دن دور نہیں جب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم میں ملوث بھارتی اور کچھ کشمیری سینگال کی طرح بھارت اور کشمیر کے باہر کسی دوسرے ملک کی عدالت میں اپنے جرائم کیلئے جوابدہ ہونگے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ کشمیر کی جنگ آزادی میں سیاسی، عسکری اور سفارتی بیانیہ جاندار ہوتا جارہا ہے ، سید علی شاہ گیلانی کا کہنا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتخابات جمہوری عمل Democratic Exerciseنہیں بلکہ ایک فوجی عمل Military Exerciseہےں ایک جاندار بیانیے کی اچھی ابتداء ہے جس کی شنوائی بھی ہوگی اور پذیرائی بھی۔ اہل کشمیر اور ان کی قیادت کو سیاسی، سفارتی اور عسکری بیانیہ ، ٹھوس ، جاندار اور قابل قبول بنانا ہوگا ۔ اسلئے ضروری ہے کہ اس گھر کو گھر کے چراغ سے جلانے کے منصوبے کو نا کام بنایا جائے اور کشمیری نوجوانوں کو ایک اچھے مستقبل میں شریک قرار دینے کیلئے ٹھوس اور جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>