Published On: Thu, May 19th, 2016

گاش:سفیرِ کشمیر

Share This
Tags

سیف و سبو:شفقت نذیر
گاش کی اشاعت کے 25سال مکمل ہوگئے۔ان پچیس سالوں میں گاش کے صفحات اس کے کام کی گواہی دیں گے۔اور یہ کہا جائے کہ اس رسالے نے کشمیر کا حقیقی سفیر ہونے کی ذمہ داری نبھائی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ لیکن پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے گاش تو ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس پر تحریروں کی صورت میں ایک عزم اور نظریے کی تصویر چھاپی جاتی ہے مگر اس تصویر کا مصور کون ہے ،کون اس میں رنگ بھرتا ہے، اس کے پیچھے کس کی آئیڈیالوجی ہے؟۔اگر یہ سوال براہ راست مجھ سے پوچھا جائے تو میں بلا تحمل سید نذیر گیلانی کا نام لے دونگا مگر خود وہ نہیں مانتے کہتے ہیں کہ میرا کئی سالوں سے اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں سب کچھ ساجدہ کرتی ہیں لیکن وہ کس کی سوچ اور فکر کے دائرے میں رہ کے یہ سب کچھ کرتی ہیں،وہ نظریہ کس کا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہیں وہ کس کی خواہش کی تکمیل چاہتی ہیں اور وہ کس کے خواب کی تعبیر چاہتی ہیں۔ یقینا وہ ڈاکٹر نذیر گیلانی ہی ہیں ویسے یہ ڈاکٹر نذیر گیلانی ہیں کون؟۔اتنا توشائد سب کو ہی پتہ ہے کہ وہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے ایک گاں نارا ں تھل میں پیدا ہوئے 1973 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1982میں لندن میں جا کر آباد ہوگئے۔اس وقت اقوام متحدہ میں خصوصی مشیر کی حیثت رکھنے والی تنظیم جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے سیکٹری جنرل ہیں اور اقوام متحدہ کے امن ، فلاح و بہبود اور انتخابات کی نگرانی کے امور کے چالیس ماہرین میں شامل ہیں۔مگر اس تفصیل کے باوجود سوال ابھی تشنہ طلب ہے۔ ڈاکٹر نذیر گیلانی کی جدوجہد اور “کشمیریت” کی اپنی ہی ایک کہانی ہے۔ان کا شمارجنرل ضیا کے معتوبوں میں ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں وہ سب سے کم عمر اٹھارویں گریڈ کے کشمیری افسر تھے اور ساتھ ہی ریڈیو پاکستان کی ایکسٹرنل کشمیری سروس کے کنٹرکٹ پر انچارج بھی تھے جو کہ ریڈیو تراڑکھل سے الگ تھی ۔ ان کی ابتلا کا دور اس وقت شروع ہوا جب وہ آزاد کشمیر کے افسرِ اطلاعات کے عہدے سے مستعفی ہو کر آئے اور ہلالِ احمر میں نیشنل ڈائریکٹر تعینا ت ہوئے “کشمیر، مسئلہ کشمیراور کشمیری زبان” کے عنوان سے ایک مضمون لکھنے پر ان پر مقدمات بنائے گئے ان میں مارشل لا ضابطہ13 کے تحت 5سال قید اور 15کوڑے اورضابطہ 53 کے تحت سزائے موت تھی۔
دوسال تک وہ سندھ میں فرار رہے اس کے بعد ان کی ضمانت ہوئی اگر ضمانت نہ ہوتی تو مارشل لا کے ان ضابطوں پر عمل درآمد یقینی تھا۔ان دو سالوں میں گیلانی صاحب کی فیملی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں ہیں مگر گیلانی صاحب نے ان دوسالوں میں ایس ایم لا کالج میں داخلہ لیکر وکالت پڑھ لی۔ اس دور میں ان کے استادوں میں جسٹس وجہہ الدین ، جسٹس ناصر اسلم زاہد،جسٹس حازی قلخیری ،جسٹس بلوچ اور دوسری اہم ماہر قانون شخصیات شامل تھیں۔اور دلچسب بات یہ ہے کہ بعد میں “کشمیر مسئلہ کشمیراور کشمیری زبان”کے اسی مضمون کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ کشمیریات قائم ہوا اور ہائی جیکر اشرف قریشی کو جو باقی تمام ملازمتوں کے لیئے بلیک لسٹ تھے اس میں ملازمت ملی۔ ڈاکٹر صاحب نے جب اپنی پہلی کتاب “کشمیر کا وارث” لکھی تو ایک بار پھر عتاب ان پر نازل ہوگیا ، حکومت کے خلاف بغاوت اور دو حکومتوں کے درمیان تعلقات خراب کرنے کے ان پر مقدمات قائم کردیئے گئے اور نہ صرف کتاب پر پابندی عائد کردی گئی بلکہ کتاب چھاپنے والی پریس پر اس دور میں 15ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے ان کے وکلا ء
ڈا کٹر باسط اور منٹو کی دارخوست پر ان کی ضمانت منظور کی کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے کے حوالے سے جس شخص کی ابتدا ایسی ہو پھر اس کی انتہا کیا ہو گی ابھی ایک حالیہ سوال جواب کی محفل میں جس کا اہتمام “سٹیٹ ویوز” نے کیا تھا ڈاکٹر نذیر گیلانی نے اپنے کام کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ “ہماری تنظیم جے کے سی ایچ آر1984سے حق خودارادیت کو اجاگرکرنے اورانسانی حقوق کے دفاع میں مصروف عمل رہی ہے اگرچہ اس عمل کی مکمل تفصیل کا تذکرہ ممکن نہیں تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ سرنیگر میں 8اور 9 جنوری 1990 کی درمیانی رات کو جو گولی چلی اور شہادتیں ہوئی اس کی پہلی اطلاع ہم نے اقوام متحدہ کو 10 جنوری 1990 کی صبح دی تھی یعنی نہ آزاد کشمیر سے اور نہ پاکستان سے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر سے کسی نے اطلاع دی اس تحریک کے دوارن یہ ہمارا پہلا کام تھا ، پھر ہم اقوام متحدہ کی دعوت پر اسی سال مئی میں اقوام متحدہ گئے اور ہم نے ان کو 12 نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس میں قیدیوں کے بارے میں اور باقی معاملات زیر بحث آئے سب سے بڑا کام جو کیا وہ 1948سے لے کر1990 تک پہلی دفعہ اقوام متحدہ میں ضابطہ 1503 کے تحت ہم نے ہندوستان کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، ایسا پہلی مرتبہ ہوا ۔ اس مقدے کی کاروائی ان کیمرہ ہوئی اور یہ بھارت کے لئے شرمندگی کا موقع تھا ۔ 1948 سے لے کر 1990 تک کشمیر میں ہمارے علاوہ کوئی انسانی حقوق کا مشن نہیں تھا ۔ پھر ہم نے 1993اور 1995 میں بین الااقوامی سطح پر دو بڑے وفد کشمیر میں لائے، ، پہلا وفد انٹرنیشل فیڈریشن آف ہومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ) فرانس کی تنظیم ہے اس کا 6 رکنی وفد ہماری دعوت پر آیا جس نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کیمپو ں کا دورہ کیا۔ اسی طرح ہماری دعوت پر ایک دوسرا وفد ڈبلیو ایس وی جو جرمنی کی تنظیم ہے وہ آزاد کشمیر آیا۔ ہم نے ایف آئی ڈی ایچ اور ڈبلیو ایس وی کے تعاون سے اگست1993 میں اقوام متحدہ کے ا نسانی حقوق کے 49ویں اجلاس کے دوران مقبوضہ کشمیر کی ایک خاتون بیگم شمیم شال کو ان کے خاندان سمیت گواہ کے طور پر پیش کیا اور کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ۔( دسمبر 1990 کو ہم نے انسانی بنیادوں پر آزاد کشمیر کے مہاجر کیمپو ں میں ریلیف تقسیم کیا اس میں آزاد حکومت نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔ آزاد کشمیر کا ایک وفد جس میں سردار خالد ابراہیم ، سردارعتیق خان ، عبدالرشید ترابی اور دیگر لیڈر شامل تھے ان کو جنیوا انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے لے گئے۔ اس کے بعد 1993 میں ورلڈ ہومن رایٹس کانفرنس ویانا میں (جے کے سی ایچ آر) نے بھرپورکردار ادا کیااور ان اقوام کی نمائندگی کی جن کی اقوام متحدہ میں نمائندگی نہیں تھی ، یہ ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز تھا اور وہاں پر ہم نے ایک نمائش کا ا ہتمام بھی کیا ۔ جموں و کشمیر کونسل براے انسانی حقوق ریاست کے تمام حصوں میں واحد تنظیم ہے جس کو اقوام متحدہ میں خصو صی مشاورتی درجہ حاصل ہے اس وجہ سے ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر تحریری دستاوایزت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ارسال کرتے ہیں جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دستاویزات کے طور پر اجلاس میں تقسیم کی جاتی ہیں۔19دسمبر 1995کو آسام راشٹریا رائفل نے میرے والد سید سعد الدین گیلانی ، میرے چچا سید جعفر گیلانی اور ماموں سید حمید گیلانی کو مجاہدین کی امداد کرنے اور اپنے باغات میں اسلحہ چھپانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ان کی گرفتاری کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بھارتی حکومت کو فوری مراسلہ ارسال کرتے ہوئے تینوں افرادکی زندگی کی ضمانت طلب کی۔اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ان تینوں بزرگ افراد کو محض سید نذیر گیلانی کے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کے حقوق کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ میں موثر کردار اور سرگرمیوں کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھااور بالآخر 22جنوری 1996کو عالمی دبا کی بنا پر بھارت نے اقوام متحدہ کو اطلاع دی کی ان تینوں افراد کو رہا کردیا گیا ہے”۔ یہ تو تھی ڈاکٹر نذیر گیلانی کی کمیٹمنٹ اور “کشمیریات”کی مختصر کہانی مگریہ کیا میں نے تو “گاش”کے بارے میں لکھنا تھا اور سارا مضمون باندھ دیا ڈاکٹر نذیر گیلانی پر۔۔۔۔۔ لیکن میں بھی کیا کروں جب بھی “گاش” کو سامنے رکھتا ہوں اس کے صفحات کے پیچھے سے نذیر گیلانی ہی جھانکتے نظر آتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>