Published On: Thu, Oct 6th, 2016

کپڑے خواہ پرانے ہوں مگر کتاب ہر روز نئی خریدنی چاہیے

Share This
Tags

منشا قاضی
05
ایدھی کی خدمات پر عالمی سطح پر فلم بنائیں گے
آسٹریلیا میں پاکستان کے ثقافتی سفیر صدر پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ ارشد نسیم بٹ سے بات چیت
اگر آپ کو پہاڑ سرکانے کی خواہش ہو تو پہلے زروں کو سرکانا سیکھنا ہوگا۔ کامیابی کا زینہ ناکامی کے دنڈوں سے تیار ہوتا ہے۔ جانا بلندی پر چاہو تو پہلے بنیاد مضبوط کر لو۔ جفا کشی کے سمندر کی تہہ کامیابی کے موتیوں سے بھری پڑی ہے۔ کمزور موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن باہمت انسان خود موقعوں کو پیدا کر لیتے ہیں۔ ہمت فتح کا پہلا زینہ ہے اور زندگی کامیابی کے بغیر بے کار۔ غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ اقوالِ زریں میں آپ کو ایک ایک لفظ میں عبرت کے سامان دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ایسا ہی نوجوان جس کو میں نے بالکل مذکورہ بالا اقوال کے بین السطور میں دیکھا۔ اس نے زروں کو سرکایا، کامیابیوں کے زینے تلاش کیے، اپنی ہمت سے شاندار مواقع تلاش کئے اور آج وہ 21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر اپنی شہرت کی بلندیوں پر مقیم ہے۔ میری مراد پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ کے صدر ارشد نسیم بٹ سے ہے جس کی ابتدائی زندگی جہدِ مسلسل اوردرمیانی زندگی شور مسلسل اور اب تیسرے مرحلے میں زور مسلسل کی بے مثال کارکردگی دکھائی دے رہی ہے۔ ارشد نسیم بٹ کو میں نے جن دنوںلاہور کے جواں فکر پلیٹ فارم پر دیکھا تھا وہ دبلا پتلا اور اپنے اندر ارادوں اور عزم کی کئی بجلیاں لیے ہوئے تھا۔ گمنام لوگوں کو اس نوجوان نے اپنے تشہیری منصوبہ ساز ذہن سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ سماجی زندگی فکر و عمل سے متصف سیاسی زندگی مقابل اور مدمقابل کے تصور میں گزری اور آج دونوں حالتوں کی موجودگی میں بین الاقوامی سطح پر گہری اور عمیق نظری سے جائزہ لے رہے ہیں ۔ ارشد نسیم بٹ نے اپنی زندگی خود بنائی ہے اور علامہ اقبال کے اس مصرعہ کے مصداق ثابت ہوئے ہیں
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سوال: جناب ارشد نسیم بٹ صاحب آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ارشد نسیم بٹ: میری زندگی میں بھی بہت سارے امتحان اور آزمائشیں آئیں مگر میں نے اُن کو طرح دے کر کامرانیوں کی راہ لی اور ناکامیوں پر ماتم نہیں کیا بلکہ کامرانیوں کے شادیانے بجائے اور آج بھی میں مسکراہٹوں کے پھول دوستوں پر نچھاور کرتا ہوں۔ آسٹریلیا میں پاکستان کی ثقافتی سرگرمیوں کا سفیر ہوں اور اخوت و رواداری کی بادِ بہاری ہمیشہ میرا نظریہ محبت رہا ہے۔
سوال: سیاست کا چلن چھوڑ کر محبت کی زمین میں لالہ و گل دیارِ غیر میں آپ نے کیسے پیدا کیے ؟
ارشد نسیم بٹ: میں نے سیاست کا چلن چھوڑ کر محبت کی زمین میں لالہ و گل پیدا کیے ہیںاور دیارِ غیر میں بھی نئے زمانے اور نئے صبح و شام پیدا کیے۔ میں پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ کے چیئرمین کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے درمیان خوبصورت تعلقات کا سبب بن کر قومی خدمات کا ناقابلِ فراموش فریضہ سر انجام دے رہا ہوں ۔ ملک کے نامور شعرا کرام اور ادیب حضرات نے آسٹریلیا میں میری میزبانی کا لطف اٹھایا ہے اور یہ اعزاز بھی مجھے حاصل ہے کہ احمد فراز اور قتیل شفائی مرحوم کو بھی میں نے آسٹریلیا میں بہت بڑے مشاعروں میں عزت افزائی کی۔ یہاں ایک لطیفہ بھی آپ کی نذر کرتاہوں ۔ جن دنوں آسٹریلیا میں پاکستان سے ایک شاعر کو بلایا گیا اور اس کا اہتمام کیا گیا تو آسٹریلیا میں مقیم ایک پٹھان نے دریافت کیا کہ بٹ صاحب کس شاعر کو بُلا رہے ہو تو میں نے کہا قتیل شفائی کو ۔ اس پر خان صاحب بولے یا ر بٹ قتیل شفائی بھی کوئی شاعر ہے اگر بلانا ہے تو علامہ اقبال کو بلائو جس کی پوری دنیا میں دھوم ہے اور ہر کوئی اسے جانتا ہے اس پر سب دوست مسکرائے اور محظوظ ہوئے۔ جب قتیل شفائی مرحوم ایئر پورٹ سڈنی آسٹریلیا پہنچے اور ایک ویل چیئر پر بیٹھ کراُن کو ایک لڑکی لا رہی تھی تو میں نے سر پکڑ لیا کہ قتیل شفائی تو بیمار ہیں انہوں نے خاک مشاعرہ پڑھنا ہے لیکن جب قتیل شفائی میرے پاس آکر تیزی سے ویل چیئر سے اترے اور سرگرمی میرے گلے لگے تو معلوم ہوا کہ قتیل شفائی نے منصوبہ بندی سے ویل چیئر کا استعمال کیا تاکہ میں کسی الجھن میں پڑے بغیر سیدھا اپنے میزبان کے پاس پہنچ جائوں ۔ میں جب بھی پاکستان کی فضائوں میں داخل ہوتا ہوں اور ایئر پورٹ پر دوستوں کا ایک جمِ غفیر ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لَومیں میرے شاعر دوست شفیق سلیمی صاحب کا یہ شعر مجھے سناتے ہیں
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے
آج کل یعنی مستقبل کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں ارشد نسیم بٹ نے کہا انصاف سب کے لئے …ہم اس موومنٹ کو آگے بڑھا رہے ہیں اور جلد ایسا ایونٹ کرنا چاہتے ہیں ۔ دس ہزار آدمی سڈنی میں اجتماعی طور پر احتجاج کرے گا اور دنیا کا سارا میڈیا اسے دکھائے گا کہ کشمیر پر ہونے والے ظلم سے دنیا میں زیادہ سے زیادہ آگاہی ہو، اسی طرح پاک آسٹریلیا فرینڈ شپ دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے ہر دو سال بعد کانفرنس کروانے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔ آسٹریلیا اور پاکستان کے دانشوروں کو ایکسچینج پروگرام کے تحت ایک دوسرے کے خیالات سے آگاہی ہو، اس دفعہ ملک کے نامور صحافی ، دانشور الطاف حسن قریشی آسٹریلیا جارہے ہیں اور کچھ دانشوروں کے نام زیرِ غور ہیں۔ اسی طرح پاکستانی آرٹسٹوں کو وہاں لے جایا جائے گا اور پاک آسٹریلیا فرینڈشپ کے ذریعے اہل قلم، بزنس اور دیگر شعبوں کے آپس میں روابط کروائے جائیں گے ۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہر سال ان کو ستر ہزار پاکستانیوں کی ضرورت ہے جب کہ پندرہ سے سولہ سو جاتے ہیں اور ان میں طلبہ زیادہ ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا ایسا ملک ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو بھجوانے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ زرِ مبادلہ آئے ۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو خاص طور پر سفارت کاروں کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ۔ من پسند سفارت کار کی بجائے تجربہ کاروں کو بیرون ملک بھیجا جائے اور وہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ثقافت بہت بڑا ہتھیار ہے جس کو میں بڑی خوبصورتی سے استعمال کرتا ہوں اور انڈین ثقافت پر نظریہ پاکستان ہمیشہ غالب رہتا ہے ۔
پاکستان میں آمد اور اپنی موجودہ سرگرمیوں کے حوالے سے ارشد نسیم بٹ نے بتایا کہ شاعر ، ادیب ناصر رضوی نے ادبی تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا اور اردو دائجسٹ کے روح رواں الطاف حسن قریشی نے پنجاب یونیورسٹی میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا جس میں پاکستان کے نامور شاعروں ، ادیبوں نے شرکت کی اور میری خدمات کو سراہا ۔ تحریک رحمت کے امیر خواجہ محمد اسلم ، مجیب الرحمن شامی نے بھی مہربانی کی گھر بھی تشریف لائے اور پاک آسٹریلیا فرینڈشپ کے حوالے سے بات چیت کی ۔ اسی طرح مجھے آسٹریلیا میں پاکستانیوں کیلئے ثقافتی سفیر کے علاوہ بے شمار ایوارڈ ملے۔ سینکڑوں تحریریں لکھیں اور یہی لکھا کہ انسانی حقوق کے علمبردار اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ۔
عبدالستار ایدھی کا پیغام بڑے موثر طریقے سے پھیلانے کا پلان ہے ۔ وہ دنیا کے لئے بھی رول ماڈل ہیں ۔ انہیں کسی اعزاز کی ضرورت نہیں تھی وہ پاکستان کو ایک اعزاز دے گئے۔ ایدھی پرفلم عالمی سطح پر بنانے کا پروگرام ہے ۔ ان کے حالات پر دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ایک جوتی دو جوڑوں میں زندگی گزار دی اور جاتے جاتے اپنی آنکھیں بھی عطیہ دے گئے ۔ ایسے درویش صفت کی زندگی بارے دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے ۔میرا نوجوان نسل کو یہ پیغام ہے کہ کپڑے خواہ پرانے ہوں مگر کتاب ہر روز نئی خریدنی چاہیے اور اس کامطالعہ انسانی فکرمیں وسعت پیدا کرتا ہے ۔
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>