Published On: Tue, Jun 7th, 2016

کشمیر !!!ایک نئی کشمکش کے آثار

Share This
Tags

arif bسیدعارف بہار : سری نگر میں سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی ملاقات کی تصویر اور کشمیری پنڈتوں کے لئے الگ بستیاں بسانے کے خلاف مشترکہ احتجاجی پروگرام کے کلینڈر کا اجراءہوئے ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہونے کو ہے مگر ابھی تک بہت سوں کواس معجزے کے رونما ہونے کا یقین نہیں آیایقین نہ آنے کی وجہ ماضی میںحریت پسند قیادت کا ”سولو فلائٹ“ کا طرز عمل ہے ۔ اس ملاقات کے بعد حریت پسند قیادت کی طرف سے وادی میں ایک ہڑتال بھی منعقد ہو چکی جس کے بعد مذکورہ تینوں راہنماوں کو نظربند کردیا گیا ہے۔یہ بھی اطلاع ہے کہ اب بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے سری نگر میں امریکہ کی گوانتاناموبے طرز کی ایک بڑی جیل کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور بھارتی وزیر داخلہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط بھی ہوچکے ہیں۔یہ ہائی سیکورٹی جیل صرف حریت پسندوں کے لئے تعمیر کی جارہی ہے۔یہ سارے واقعات کشمیر میں ایک نئی کشمکش کی بنیاد بنتے جا رہے ہیں۔ ماضی میں کشمیری قیادت کے متحد نہ ہونے سے کشمیر کی صورت حال پر کچھ خاص اثر تو نہیں پڑا البتہ کشمیر کا عام آزادی پسند ان راہنماﺅں کو ہمیشہ متحد دیکھنے کا متمنی رہا ہے۔اس اتحاد سے آزادی کی منزل تک پہنچنا سردست ممکن تو نہیں مگر مدتوں سے حالت جنگ میں کھڑا عام کشمیری اپنی قیادت کو متحد دیکھ کر کچھ اطمینان اور سکون پاتاہے۔یہ تینوں راہنما کشمیر کی آزادی پسند سیاست میں محض تین نام نہیں بلکہ تین لگیسیز کے قائد ،نمائندے اور علامتیںہیں۔وہ سیاسی اور مزاحمتی لگیسیز جو آج کشمیر کی زمینی حقیقت کے طور پر موجود ہیں اور بھارت پوری کوشش کے باجود اس حقیقت کو تبدےل نہیں کرسکتا۔میرواعظ عمر فاروق کشمیر کی سب سے قدیم سیاسی لگیسی کے قائد ہیں ۔جب کشمیر میں ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف مسلمانوں کی سیاسی مزاحمت کا آغاز ہو اتو سری نگر کے وسط میں جامع مسجد اور انجمن نصرت الالسلام نے اس تحریک کی آبیاری کی اسے آگے بڑھایا اورقیام پاکستان کے وقت یہ لگیسی پاکستان نواز رہی ۔سری نگر کے ایک حصے میں اس سوچ کا راج تھا جبکہ دوسرے حصے میں شیخ محمد عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کی سیاست کا غلبہ تھا اور دنوں سوچوں کے درمیان شدید کشمکش اور کشیدگی رہتی تھی۔قیام پاکستان کے بعد میرواعظ کشمیر مولوی محمد یوسف شاہ پاکستان آئے اور یہیں پھنس کر رہ گئے۔وہی میرواعظ کشمیر جوآزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک ویران اور اُداس مقبرے میں امانتاََ آسودہ ¿ خاک ہیں ۔سری نگر سے میرواعظ کشمیر کے چلے آنے سے یہ لگیسی پر و پاکستان ہونے کی وجہ سے شدید دباﺅ کا شکار ہوگئی۔شیخ عبداللہ کی نیشنل گارڈز نے انہیں ہر ممکن طریقے سے دبانے کی کوشش کی ۔اس لگییسی نے ساٹھ کی دہائی میں دوبارہ اس وقت سر اُٹھایا جب ایک نوجوان میرواعظ مولوی محمد فاروق کو اس کا سربراہ بنایا گیا ۔سری نگر کی خانقاہ معلی سے موئے مبارک چوری ہوگیا تو اس دبی ہوئی لگیسی کو سر اُٹھانے اور سر اُٹھا کر چلنے کا موقع ملا ۔کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز ہوتے ہی جب میرواعظ مولوی فاروق قتل کر دئیے گئے تو ان کے انیس سالہ صاحبزادے مولوی عمر فاروق کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا۔شہر خاص کے ایک مخصوص حصے میں آج بھی یہ سوچ توانا اور مضبوط ہے اور اکثر نماز جمعہ کے بعد یہ سوچ سبز پرچموں والے جلوس نکال کر اپنی جرات اظہار کا ثبوت دیتی ہے۔وادی¿ کشمیر کے اعصابی مرکز میں موثر حلقہ رکھنے اور طویل تاریخی پس منظر کی وجہ سے اس سوچ کو نظر انداز کیا ہی نہیں جا سکتا۔محمد یاسین ملک ایک فرد ایک سوچ اور ایک لگیسی کا نام ہے ۔وہ ایک بہادر انسان ہیں جو جدوجہد میں تن کو سو روگ لگا بیٹھے ہیں شاید اسی لئے وہ اپنے حلقہ¿ اثر میں مقبول اور محترم ہیں۔اس سوچ نے کشمیر میں مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والے حالات وواقعات سے جنم لیا۔کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہوتے ہی وہاں کی سب سے بڑی سیاسی قوت نیشنل کانفرنس کا زوال شروع ہو گیا ۔وادی کے طول وعرض میں لوگ اخبارات کے ذریعے نیشنل کانفرنس سے اعلان برات کرنے لگے ۔سری نگر کا ایک علاقہ جو روایتی طور پر نیشنل کانفرنس کے زیر اثر تھا نیشنلسٹ اپروچ کے باعث مسلح جدوجہد میں اپنے نظریات سے قریب تر جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے قریب ہوتا چلا گیا اور نیشنل کانفرنس کی راکھ سے لبریشن فرنٹ کا شعلہ بھڑک اُٹھا اور اس سوچ کا مرکزی حوالہ یاسین ملک قرار پائے۔اب صرف شہر خاص کا یہ علاقہ ہی نہیں وادی کے طول عرض میں یاسین ملک کے حامی موجود ہیں مگر سری نگر کا پرانا علاقہ ان کی سیاست کا پاور بیس ہے۔وادی کی تیسری اور 674871-Image_CH-1393051533-512-640x480مقبول زمینی حقیقت سید علی گیلانی کی ہے ۔وہ کسی بھی بینر تلے ہوں کسی بھی پلیٹ فارم سے سامنے آئیں وہ سید علی گیلانی ہی رہیں گے اور نوجوان ان کے گرد اسی طرح منڈلاتے رہیں کہ جیسے شمع کے گرد پروانے۔گیلانی سوچ اور اپروچ کا اصل جنم مسلح جدوجہد کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے دوران ہوا۔جب بھارت نے ساڑھے سات لاکھ فوج کو مرکزی قوانین اور جدید ہتھیاروں سے لیس کرکے کشمیریوں پر مسلط کیا تو ان سے دانستہ حماقتیں سرزد ہونے لگیں ۔ظاہر ہے کہ طاقت کا اپنا نشہ اپنی نفسیات ہوتی ہے ۔اس نشے اور نفسیات میں طاقت بہک کر حماقتوں کی دلدل میں دھنس کر رہ جاتی ہے ۔بھارتی فوج نے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرکے کشمیر کے سماج میں خوفناک ردعمل کی آبیاری کی ۔اس ردعمل کو ایک جی دار قائد درکار تھا ۔بیشتر حریت قائدین گومگوں کا شکار تھے کہ اگر وہ سخت لائن لیں تو کل ریاست پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوجائے گی اور وہ میدان میں تنہا رہ جائیں گے ۔بعد میں یہ بات اس وقت درست ثابت ہوئی جب جنرل پرویز مشرف نے حریت قیادت کو مزاحمت کی راہوں سے ہٹا کر پاکستان اور بھارت کے درمیان ”پُل “ بننے کا راستہ دکھادیا۔پل تو وہ کیا بنتے کہ جن کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا مگر حریت قیادت انتشار کا شکار ہو گئی۔سو کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے نتیجے میں ردعمل کو جس قائد کی تلاش تھی وہ انہیں ایک نحیف اور علیل بوڑھے کی صورت مل گیا ۔سید علی گیلانی نے حالات کی پرواہ کئے بغیر بھارت اور اس کی فوج کے بارے میں و ہ دوٹوک موقف اپنا یا جو کسی شہید ہونے والے ،کسی قیدی اور کسی گم شدہ شخص کے والدین ،بھائی بہنوں اور بچوں کے دل کی آواز تھااور یوں وادی میں گیلانی لگیسی جنم لیتی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ آج وادی کے اخبارات اپنے تجزیوں میں یہ سوال دہراتے ہیں کہ اگلا گیلانی کون ہوگا؟گیلانی کشمیر کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی اپیل کی صلاحیت اور مقبولیت سب سے زیادہ ہے۔ جذبات سے بھرے نوجوان ان کی ایک آواز پر جان لینے اور دینے پر آمادہ رہتے ہیںجون کا مہینہ آرہا ہے اور یہ برف پوش وادی میں موسم گل کی نوید سناتا ہے۔جون وادی میں زندگی کی تمازتوں اور حرارتوں کے آغاز کا پیغام لے کر آتا ہے ۔دنیا بھر سے سیاح وادی کا رخ کرتے ہیں ۔ویرانے خیمہ بستیوں سے سج جاتے ہیں ۔جھیل ڈل کے شکاروں پر رنگ ونور کی برکھا برسنے لگتی ہے۔عام آدمی کا کاروبار ترقی کرتا ہے ۔ چند برس پہلے بھی ”خون کا بدلہ جون میں“ کے نعرے لگتے رہے ہیں۔میرواعظ عمر فاروق ، محمدیاسین اورسید علی گیلانی صورت آزادی پسند زمینی حقیقتوں کی تثلیث نے پہلی بار پنڈت بستیوں اور امرناتھ یاتریوں کے لئے کالونیوں کے خلاف مشترکہ احتجاج کی خاطر سر جوڑ لئے ہیں تو سمجھ جانا چاہئے کہ وادی کے مخصوص اسلامی تشخص اور کشمیریت کو سنجیدہ خطرہ درپیش ہے ۔ کشمیریوں کا یہ شک تقویت حاصل کررہا ہے کہ نریندر مودی عمرعبداللہ کی طرح محبوبہ مفتی کو دباﺅ کا شکار بنا کر کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا کوئی کھیل کھیلنے میں مصروف ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ انہیں اسرائیل جیسے تجربہ کار دوستوں کی مدد اورمشاورت بھی حاصل ہے ۔ کون نہیں جانتاکہ پہلے یہودی نے جب فلسطین میں قدم رکھا تھا تو پھر” اونٹ خیمے کے اندر تھا اور خیمہ اس کے سر پراور اصل مکین در بدر“کے مصداق فرزندان زمین فلسطینی اُردن اور مصر کے مہاجر کیمپوں میں دربدرتھے اور سپین ،جارجیا ،روس ،اٹلی اور برطانیہ کے لوگ ان کی زمینوں اور باغو ںکے مالک ومختار بنے بیٹھے تھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>