Published On: Mon, Feb 6th, 2017

کر نئے رنگ سے تخلیق قوانین سے سحر

Share This
Tags

3aسقراط کا قول کتنا جاوداں اور ہر دم مستعمل ہے۔ فلسفہ وہ انداز فکر ہے جو انسانوں کو خود آگاہ بنا دیتا ہے۔ سچائی کو دریافت کرنا اور اچھائی پر عمل پیرا ہونا فلسفے کے دو اہم مقاصد ہیں ۔ شاعر مشرق نے کہا تھا کہ قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہوجاتی ہیں۔ فکر سے بڑی کوئی سائنس نہیں ، فکر کسی بھی سچائی کی شہ رگ ہے۔ فلسفہ کے معنی حکمت سے محبت رکھنے کے ہیں، پس جو شخص علم و حکمت سے محبت رکھے معنی کی روح سے وہ فلسفی کہلاتا ہے، پہلے پل جوشخص دنیا میں ایک فلسفی کی حیثیت سے جانا پہچانا گیاوہ مشہور عالم شخصیت فیثا غورث ہے۔ فیثا غورث جو یونان کے دواولین کے فلسفیوں میں ہے مورخین لکھتے ہیں کہ یہ عظیم فلسفی جناب سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں پیدا ہوا۔ فیثا غورث ہی نے لفظ فلسفی کو وضع کیا تھا جس کے معنی دانش دوست کے لیے گئے ہیں۔ فلسفے نے انسان کی فکر کو جلا بخشی ہے ۔ اعلیٰ نصب العین اور صالح قدروں کی نشاندہی ہمیشہ فلسفی لوگ ہی کرتے ہیں۔ افلا طون کے گراں مایہ خیالات ملاحظہ فرمائیں۔ زندگی کے بارے میں انسان کا شرافت مندانہ اور غائر تجزیہ فلسفہ کہلاتا ہے جب اسے گالیاں دی جاتی ہیں تو وہ اپنے بد گو کی ذات پر کوئی حملہ نہیں کرتا ، جب وہ سنتا ہے کہ فلاں شخص ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین کا مالک ہے وہ اسے ایک نہایت ہلکی بات سمجھتا ہے اس لیے کہ وہ تو اپنے عالم تصور میں ساری دنیا کو پیش نظر رکھنے کا عادی ہے جب اس کے سامنے کسی شخص کی عالی نسبی کے راگ اس بنا پر گائے جاتے ہیں کہ وہ پشت ہا پشت سے رئیس ہے تو وہ ان مداحوں کے متعلق اپنے دل میں کہتا ہے کہ یہ کس قدر تنگ و محدود نظر رکھنے والے کم ظرف لوگ ہیں جو سارے عالم پر نگاہ نہیں کرتے اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ہر فرد کے ہزارہا اسلاف گزر چکے ہیں ۔ فلسفی اس کو کہتے ہیں جو حکمت پسند ہو اور عقل کی طرف سے مایوس نہ ہو، جو اس بات کا قائل ہو کہ حیات و کائنات میں کچھ مطلق اور مستقل صداقتیں پائی جاتی ہیں اور تلاش و تحقیق سے ان صداقتوں کو ڈھونڈ نکالتا ہو اور پھر دنیا اور انسانیت کو اپنی ثابت کردہ سچائیوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے کمر بستہ رہتا ہو۔اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر گذشتہ روز ایک ایسے ہی فلسفی حکیم پروفیسر سید ظل الرحمن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ملاقات کا اہتمام حکیم راحت نسیم سوہدروی نے اپنی رہائش گاہ پر تقریب عشائیہ کی صورت میں کروادیا۔ حکیم سید ظل الرحمن طب کی آبرو اور ہماری آرزو ہیں۔ دوسرے روز آپ کے اعزاز میں ہمدرد سنٹر ہال میں ایک تقریب کا بھی اہتمام حکیم راحت نسیم سوہدروی کی نظامت میں ہوا جس میں حکمائے لاہور نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ یورپ میں بھی مسلمان سائنسدانوں کو ہی تمام علوم کا موجد ٹھہرایا گیا ہے۔ طبیعات ، نجوم، فلسفہ اور ریاضی چودھویں صدی عیسوی سے یورپ میں رائج ہوئے ۔ وہ سب کے سب عربی مدارس سے ہی ماخوذ ہیں ۔ جان ڈیوٹ لکھتا ہے کہ اس بنا پر ہسپانیہ کو یورپی فلسفہ کا موجد تسلیم کیا گیا ہے اور پروفیسر فلپ کے ہتی اپنی کتاب دی عربز (The Arabs…A Short History) میں رقم طراز ہے کہ اُس زمانہ میں جب کہ عرب علماء ارسطو کا مطالعہ کر رہے تھے یورپ میں شارلیمان اور اس کے امرا اپنے نام کے ہجے سیکھ رہے تھے ایک اسلامی شہر قرطبہ ہی میں سترہ بڑے کتب خانے تھے ان میں سے ایک کتب خانے میں چار لاکھ سے زیادہ کتابیں تھیں ایسے زمانے میں جب کہ جامعہ آکسفورڈ کے عالم غسل کرنے کو بے دینوں کی رسم سمجھتے تھے اسی قرطبہ کے مسلمان سائنسدان پرتکلف اور آرام دہ حماموں میں لطف اندوز ہورہے تھے ۔آج حکیم سید ظل الرحمن کو دیکھ کر اچھے وقتوں کے عظیم المرتبت سائنسدان نگاہوں میں گھوم گئے ہیں ۔ آپ سکوت و شگفتگی کا حسین امتزاج ہیں۔ وہ تین روزہ بین الاقوامی طب کانفرنس کے لیے کراچی روانہ ہورہے تھے اس تھوڑے سے وقت میں ہم نے اُن سے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے حوالے سے بہت ساری باتیں سُنیں۔ اُن کا ہوم ورک ہمالہ کی رفعتوں کو چھوتے ہوئے دیکھا اُن کا ذاتی عجائب گھر جس میں انہوں نے زریں روایات کی پاسدار ی کا تحفظ کیا ہوا ہے اور اُن کا غالب کے حوالے سے بھی کام دنیا میں سب سے زیادہ آپ ہی نے کیا ہے ۔ ابن سینا اکیڈمی بھی قائم کر رکھی ہے۔ طب کے محسن ہیں ۔ حکیم سعید شہید کے بعد آج آ پ کو پوری دنیا میں طب کے محسن کے طور پر اتنی بڑی شخصیت نظر نہیں آئے گی۔ حکیم راحت نسیم سوہدروی کے ہم سب احباب بے پناہ ممنون احسان ہیں کہ انہوں نے بہت کم وقت میں اتنی بڑی شخصیت سے ملاقات کروائی۔ علم و حکمت کے انمول موتیوں کی بارش جب انہوں نے اپنی تقریر میں کی تو ہمارے حکما ورطۂ حیرت میں ڈوب گئے۔ مختار مسعود نے ایسے ہی جلیل القدر انسانوں کے بارے میں کہا تھا کہ محسن دوسروں کے لئے زندہ رہتا ہے او رشہید دوسروں کے لیے جان دے دیتا ہے ۔ اس قحط الرجالی میں آج غالب بہت یاد آیا
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
حکیم سعید شہید نے طب کے حوالے سے گراں بہا خدمات سر انجام دیں اور وہ اس میدان میں جہالت کے خلاف لڑتے لڑے میدان کارزار میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور لاکھوں انسانوں کے لیے زندگی کا سامان کر گئے ۔ آج ہم دیکھتے ہیں دوسروں کے لئے زندہ رہنے والے حکیم پروفیسر ظل الرحمن جو محسن طب ہیں اور دوسروں کے لیے جان دینے والے حکیم سعید احمد شہید طب قرار پاتے ہیں۔
حکیم محمد حامد نظامی نے اپنے صدارتی کلمات میں شاندار الفاظ میں حکیم صاحب کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ حکیم سکندر واسطی ، حکیم سلیم اختر، پروفیسر میاں سعیداحمد ، حکیم رضوان ارشد اور حکیم پروفیسر شفیق کھوکھر نے بھی خطا ب کیا۔ یہ تقریب پاکستان ایسوسی ایشن فار ایسٹرن میڈیسن کے زیر اہتمام انعقاد پذیر ہوئی تھی۔ آخر میں تحریک رحمت کے امیر خواجہ محمد اسلم جو حکیم جمالیات فلسفی ڈاکٹر نصیر احمد ناصر کے شاگردِ رشید ہیں اُن کے خطبات پر مبنی ”نسخہ ء کیمیا” علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے دیا گیا۔ حکیم صاحب نے راقم کو ارمغانِ دیوان غالب عکسی پیش کیا جو میرے لیے بہت بڑ ااعزاز ہے ۔ میں نے اُنہیں اپنی جانب سے دیوانِ غالب کا انتہائی نایاب نسخہ پیش کیا جسے میں نے حرزِ جاں بنایا ہوا تھا ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>