Published On: Thu, May 19th, 2016

پیاسا پاکستان اور پانی کی بردہ فروشی

Share This
Tags

(محمد اکرم سہیل)
سندھ طاس معاہدہ کی رُو سے تین مشرقی دریابھارت کو طشتری میں پیش کرنے کے بعد بھی تین مغربی دریاو¿ں پر بھارت کی دست درازی اپنی جگہ لیکن پاکستان کے ارباب بست و کشاد اس وقت تک نہ بولے جب تک دریائے چناب پر بگلہیارڈیم مکمل نہ ہوگیا اورپاکستان کی طرف آنے والے دیگر دریاو¿ں پر بھارت نے مزید ڈیم بناناشروع نہ کردئیے۔ موجِ خون سرسے اُترنے کے بعد بے حسی اورقومی مفادات پر خامشی اختیارکرنے والوں کی جانب سے ایسے واویلا کو تاریخ اپنے کوڑے دان میں جگہ دیتی ہے۔ قائداعظم نے جب کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیاتھاتو اُس زیر ک اور داناراہنماکے ذہن میں یہ بات ضرورموجود ہوئی ہوگی کہ جغرافیائی اور اسلام کے اَمر رشتو ں کے علاوہ جب تک کشمیر کے پہاڑوں سے برف نہ پگھلے گی ، پاکستان میں ماو¿ں کے سینے میں دودھ نہیں اُتر سکے گا۔ یہی وہ لازم وملزوم حقائق ہیں کہ جن کی بنیاد پر کشمیر اورپاکستان کے درمیان رشتہ کو لازوال قرار دیا جاتا ہے۔ کشمیر میں موجود پانی کے ہر قطرے پر بھارت کی نظر ہے اور ادھر ہم اُسے صرف بدعائیں اور کوسنے دینے کے علاوہ اپنے اخباروں میں اس کے خلاف بیانات چھپواکر خود ہی اُنہیں پڑھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔
M .akramپانی کے معاملے کا ایک اندرونی مسئلہ بھی ہے جو بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے بھی زیادہ خطرناک ہے لیکن اسے ایسی میٹھی گولیوں میں لپیٹ پر پاکستانی قوم کو دیا جا رہا ہے کہ بقول شاعر
“وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا ”
ہندوستان کے ہاتھوں بچ جانے والا پانی جب آزادکشمیر اورپاکستان کی سرحدوں میں داخل ہوتاہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کاری اور بجلی کی پیداوارکے نام پر اس “سیال سونے “کو نجی ہاتھوں میں دینے کی کارروائی شروع ہوجاتی ہے۔ گرگانِ گرسنہ اس کے ایک ایک قطرہ سے دولت کشید کرنے کے لئے نظریں جمائے رکھتے ہیں ۔ پانی پاکستان کے لئے سب سے بڑے قومی وسیلہ (National Resource) کادرجہ رکھتاہے۔ ہر صوبہ یا ریاست جہاں سے پانی گزرتاہے اس پر اس علاقہ کے لوگوں کے استفادہ کاحق تسلیم شدہ ہوتاہے۔ جبکہ قومی وسائل پر اُس ملک کے لوگوں کوانفردی اور اجتماعی طور پر ملکیت کا مساوی حق حاصل ہوتاہے۔ اس لئیے قومی وسائل کو ریاست اور عوام کی ملکیت قراردیاجاتاہے اور حکومت اس کے لئے صرف ایک ”امین “ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت کو یہ وسائل ملکی اور قومی مفاد کے خلاف نجی ہاتھوں میں دینے کا اختیار نہیں ہے۔ حکومت ان ریاستی وسائل کو فقط ریاست اور اس کے عوام کی فلاح وبہبودکے لئے ہی استعمال کرسکتی ہے۔ چونکہ ملکی قدرتی وسائل عوامی اور ریاستی ملکیت ہوتے ہیں ۔ لہذا اسے قومی ملکیت سے نکال کر چند نجی ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا۔ اس ”سیالّ سونے“کو سرمایہ کاری کے نام پر ملکی اور غیر ملکی افراد کے حوالہ کرناقومی اور عوامی مفاد کو فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ بجلی کابحران جس کے سبب آج ملک پاکستان کی ترقی رُک چکی ہے اور بیروزگاری کاعفریت منہ کھولے مفلوک الحال لوگوں کو خودکشیوں پر مجبورکررہاہے۔ اس پسماندگی اور تاریکی میں ملک کامستقبل کیاہوگا؟ یہ اہل نظر سے پوشید ہ نہیں ہے۔ صنعتی ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی ۔ جب تک کہ سستی بجلی مہیا نہ کی جائے۔ سستی بجلی سے ہی کارخانوں کے پہئیے چل سکتے ہیں اور روزگار کے علاوہ وافر سستی اشیاءلوگوں کو مہیا ہو سکتی ہیں۔ پبلک سیکٹرمیں ہائیڈل پراجیکٹس مکمل ہونے کے 5سال کے اندراندر اپنی لاگت پوری کرلیتے ہیں اور پھر یہ بجلی تقریباًمفت دستیاب ہوتی ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹرسے مہنگے داموں 10روپے سے 15 روپے تک فی یونٹ بجلی خرید کر حکومت کم از کم 25 یا 50 سال تک ان پرائیویٹ کمپنیوں کے ہاتھوں ہمیشہ کے لئے یرغمال بن کررہ جاتی ہے اور یہ کمپنیاں ملکی وسائل اوردولت لوٹنے کی خاطر سانپ کا رُوپ دھار لیتی ہیں اور اُن کا کام ریاست اور اس کے عوام کاخون چوسنا رہ جاتاہے۔ اگرچہ یہ وعدہ کیاجاتا ہے کہ پچیس سال یاپچاس سال بعد یہ پراجیکٹ حکومت کے حوالے کردئیے جائیں گے لیکن پچاس سال بعد کیا صورت ہوگی ۔ بقول شاعر

آئے عشاّق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر

یہ شرط ایک مذاق اور خود فریبی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ چین اگر آج صنعتی ترقی کی منزلیں طے کررہاہے تو اُس کی وجہ صرف توانائی ہے۔ چین پبلک سیکٹرمیں بجلی پیداکرکے صنعتوں کو تقریباًمفت فراہم کررہاہے ، جس کی وجہ ساری دنیامیں چین کی سستی مصنوعات دنیاکی مارکیٹ پر قبضہ کررہی ہیں۔ چین یادیگر ترقی یافتہ ممالک میں پانی جیسے قدرتی وسائل کبھی بھی پرائیویٹ سیکٹرمیں دے کر اُن کے ذریعہ اپنے قدرتی اور مالیاتی وسائل کو استحصال کیلئے پیش نہیں کیاجاتا۔ اﷲتعالیٰ نے پاکستان اور آزادکشمیر میں پانی کے اتنے وسائل مہیاکئیے ہیں کہ اگر اسے درست پالیسی کے تحت استعمال کیاجائے تو چند ہی سالوں میں پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتاہے۔ صرف آزادکشمیر میں بجلی کا اتناپوٹینشل موجودہے کہ پاکستان کے ہر کارخانہ کاپہیہ چلانے کے علاوہ ہر تاریک گھر روشن ہوسکتاہے۔ لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ قدرت کے قومی توانائی کے اس عطیہ کو کبھی سیاست کی نذر کردیاجاتاہے اور کبھی بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری کے نام پر نجی ہاتھوں میں دئیے جانے کیلئے لنگوٹ کس لیاجاتاہے۔ اس قدرتی وسیلہ سے نجی پراجیکٹس کے ذریعہ جوبجلی پیداکرکے حکومت خریدے گی وہ نہ ہی صنعتی مقاصد کیلئے Feasibleقیمت پر دستیاب ہوگی اور نہ ہی اس ملک کے غریب لوگوں کے تاریک گھروندوں کو روشن کرسکے گی۔ اس قومی دولت کو چند لوگوں کے ہاتھوں کے ذریعہ دولت کمانے کے لئے اُن کے حوالہ کرناملکی وسائل اور عوام کابدترین قسم کااستحصال اور ملک ااور اس کے عوام کو ان کے قدرتی اور ملکیتی دستیاب وسائل سے محروم کرناہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھاجائے توقومی وسائل کی یہ نج کاری ” جدیدایسٹ انڈیاکمپنی “کو دوبارہ ملکی وسائل لوٹنے کے لئے دعوت دینے کے مترادف ہے۔میں خاص طورپر آزادکشمیر کے حوالہ سے بات کروں گا، جہاں مخصوص جغرافیائی حالات کی بنیاد پر کوئی صنعتی سرگرمیاں یاکوئی ایسی انڈسٹری نہیں لگ سکتی جو آزادکشمیر کی ریاست کے لئے مستقل آمدن اور ترقی کی خاطر مالیاتی وسائل کاسبب بن سکے ماسوائے پانی کے جو دریاو¿ں کے ذریعہ قدرت نے اس خطہ کو بے بہادولت دی ہے جو پورے پاکستان کے لئے بھی خوشحالی اور ترقی کی ضامن بن سکتی ہے۔ اس قدرتی دولت کو نام نہاد سرمایہ کاری کے نام پر نجی ہاتھوں میں دینا آزاکشمیر کو اس قدرتی اور وقومی وسیلہ سے ہمیشہ کیلئے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ ان دریاو¿ں پر پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے ۔ اس کے لئے بین الاقوامی ڈونرز ، ایشین ڈویلپمنٹ بنک وغیرہ کے علاوہ پاکستانی بینک اور مالیاتی کمپنیاں رقم مہیا کر سکتی ہیں۔ ہائیڈل جنریشن کے پبلک سیکٹر میں یہ منصوبے تکمیل کے پانچ سال میں اپنی لاگت پوری کرکے پانچ یا دس پیسے فی کلو واٹ یونٹ کے حساب سے تقریباً مفت بجلی مہیا کر سکتے ہیں جو خوشحالی اور روشنی کے لئے ترسے ہوئے اس ملک کے غریب عوام کو مفت بھی دی جا سکتی ہے۔ قدرت کی جانب سے اس عطیہ کو عوام اور ریاست کے اجتماعی مفاد میں استعمال کرنے میں ہی قومی ترقی کا راز پوشیدہ ہے ۔اس کے لئے قومی مفادات کی پالیسیاں اپنانا ہوں گی نہ کہ حکومت کو ریاستی وسائل کے استحصال کا ذریعہ بننا چاہیئے۔ نجی ملکیت میں چلنے والے ہائیڈل پراجیکٹس سے خرید کی جانے والی بجلی اتنی مہنگی ہو گی کہ عام صارف کی پہنچ سے باہر ہو گی اور اس سے صنعتی ترقی کا خواب بھی کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا، جو آج کے حساب سے بھی 10تا15 روپے فی یونٹ سے کم نہیں پڑے گی۔
پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کے نام پر پانی کے وسائل جن نجی کمپنیوں کے حوالے کیئے جا رہے ہیں ،انہیں ریاست کو Net Hydel Profit ادا کرنے سے بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے اورسرکاری سیکٹر میں قائم واپڈا بھی منگلا سے پیدا ہونے والی بجلی پر آزاد حکومت کو Net Hydel Profit دینے سے انکاری ہے جبکہ باقی صوبے اپنے علاقوں میں قائم بجلی گھروں سے Net Hydel Profit حاصل کر رہے ہیں (مگر اِرسا والے میرپور شہر کیلئے400 کیوسک پینے کا پانی دینے سے بھی گریزاں ہیں )۔ حکومت آزادکشمیر کو منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سے Water Use Charges کے نام پر فی یونٹ صرف15پیسے ادا کیئے جاتے ہیں۔ شاید کوئی ایک سو سال پہلے کشمیریوں کی ڈوگروںکے ہاتھوں فروخت کے بارہ میں علامہ اقبالؒ نے جو کچھ کہا تھا ، وہ آج بھی درست ثابت ہو رہا ہے،
دہقان و کشت و جوئے خیاباں فروختند
قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند
یورپ میں ہائیڈل جنریشن کے منصوبوں کو Money Minting Machine یعنی نوٹ چھاپنے کی مشین یا ٹکسال کہاجاتا ہے ۔ یہ ٹکسال حکومت خود کیوں نہ لگائے اور قومی ملکیت کے وسائل کو خود ملکی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے نہ کہ قومی ترقی کے اس بیش بہا وسیلہ کو ملکی اور غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کے ہاتھوں استحصال کے کیلئے غیروں کے حوالے کر دیا جائے۔
پاکستان میں آج کل ہائیڈل سیکٹر میں پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ(PPIB) اور پرائیویٹ انویسٹمنٹ بورڈ کے نام پر قائم ادارے “سیال سونے” کے ہاتھ پاو¿ں باندھ کر نجی ہاتھوں میں اِستحصال (Exploitation) کیلئے دینے کیلئے سہولتیں مہیا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں سرمایہ کاری ضرورکرائیں مگر پانی کے وسائل کو اس نئی شکل کی ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے حوالے کرنے کی پالیسی پرنظر ثانی کریں۔ یقینایہ پالیسی قومی مفاد کے خلاف ہے ۔ اس پالیسی کے تحت پانی کی اس “بردہ فروشی ” کے ذریعہ ہم ہندوستان سے بھی زیادہ خود اپنے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں حصہ دار بن رہے ہیں۔ PPIB نے آزادکشمیر کے دریاو¿ں کی ایسی تمام جگہیں جہاں پبلک سیکٹر میں ہائیڈل جنریشن آسانی سے کی جا سکتی ہے ، گزشتہ دس سال سے ان سائیٹس(Sites) کو نا معلوم نجی ہاتھوں میں یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ اس پر مُستزا د یہ کہ کشمیر کونسل نے بدوں اختیار آزادکشمیر سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے PPIBکو آزادکشمیر کے پانی کے وسائل فروخت کرنے کے لئے اپنا ایجنٹ مقرر کر دیا ہے ، جس پر تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ:۔
بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووئے
۔۔۔۔۔

    Print This Post Print This Post
Displaying 1 Comments
Have Your Say
  1. akram says:

    گاش انتظامیہ کی طرف سے اردو ورژن کو آن لائن کرنا قابل تحسین عمل ہے

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>