Published On: Thu, May 19th, 2016

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان مرتے وقت اپنے درزی اور ایک کریانہ سٹور کے مقروض تھے

Share This
Tags

خان صاحب کا تعلق بھارت ضلع قنداسے تھا اور وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے جاگیر دار اور نواب تھے۔ لیکن انہوں نے تقسیم ہند کے بعد نہ صرف اپنی ساری زمین اور جائیداد چھوڑ دی بلکہ انہوں نے پاکستان آکر اس جائیداد کے عوض کوئی کلیم بھی جمع نہیں کروایا۔ خان لیاقت علی خان کے پاس پاکستان میں ایک انچ زمین کوئی ذاتی بینک اکاﺅنٹ، اور کوئی کاروبار نہیں تھا۔ خان صاحب کے پاس دو اچکن، تین پتلونیں اور بوسکی کی ایک قمیض تھی، اور ان کی پتلونوں پر بھی پیوند لگے ہوتے تھے اور وہ اپنی پتلونوں کے پیوندوں کو ہمیشہ اپنی اچکن کے پیچھے چھپا لیتے تھے۔ 16اکتوبر 1951ءکو جب راولپنڈی میں خان لیاقت علی خان شہید ہوئے تو ان کی لاش پوسٹ مارٹم کیلئے لیجائی گئی تو دنیا یہ دیکھ کر حیرات رہ گئی کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے اچکن کے نیچے ناصرف پھٹی ہوئی بنیان پہن رکھی تھی بلکہ ان کے جرابوں میں بھی بڑے بڑے سوراخ تھے۔ شہادت کے وقت نا صرف خان صاحب کا اکاﺅنٹ خالی تھا بلکہ گھر میں کفن دفن کے لئے بھی کوئی رقم نہیں تھی، خان صاحب اپنے درزی حمید ٹیلر اور ایک کریانہ سٹو کے بھی مقروض تھے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان، خان صاحب کی بیگم نے خان صاحب کی شہادت کے بعد حکومت کو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم ہاﺅس کے لئے چینی کا کوٹہ طے کررکھا تھا یہ کوٹہ جب ختم ہوجاتا تھا تو وزیراعظم اور ان کی بیگم ان کے بچوں اور ان کے مہمانوں کو بھی چائے پھیکی پینا پڑتی تھی۔
پچاس کی دہائی میں ایک بیورو کریٹ نے بیگم رعنا لیاقت علی خان سے پوچھا انسان ہمیشہ اپنی بیوی اور بچوں کیلئے کچھ نا کچھ ضرور جمع کرتا ہے، خان صاحب نے کیوں نہ کیا تھا ۔ بیگم صاحبہ نے جواب دیا یہ سوال میں نے بھی ایک مرتبہ خان صاحب سے پوچھا تھا ، لیکن خان صاحب نے جواب دیا تھا ،میں ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، میں نے زندگی میں کبھی ایک لباس دوسری بار نہیں پہنا تھا، میرے خاندان نے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں خانساماں، خادم اور ڈرائیور دے رکھا تھا، اور ہم لوگ کھانا کھاتے یا نہ کھاتے مگر ہمارے گھر میں پچاس سے سو لوگوںتک کا کھانا روز پکتا تھا، لیکن جب میں پاکستان کا وزیراعظم بنا تو میں نے اپنے آپ سے کہا لیاقت علی خان اب تمہیں نوابی یا وزارت عظمیٰ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا ، اور میں نے اپنے لئے وزارت عظمیٰ منتخب کرلی، بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی اپنے لئے نیا کپڑا خرید نے لگتا ہوں تو میں اپنے آ پ سے سوال کرتا ہوں کیا پاکستان کی ساری عوام کے پاس کپڑے ہیں؟
اور جب میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ رقم جمع کرنے کیلئے سوچتا ہوں ، تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کیا پاکستان کے تمام لوگوں کے بیوی بچوں کے پاس مناسب رقم موجود ہے؟ مجھے جب ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کو نیا لباس ، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھروسہ
جنگ میں جانے سے پہلے بادشاہ نے اپنے خوبصورت بیوی کے کمرے پہ تالا لگاکر چابی اپنے عزیز دوست کو دے دی اور بولا کہ اگر میں چار دن میں نہیں لوٹا تالا کھول لینا اور پھر وہ تمہاری ، بادشاہ گھڑے پر بیٹھ کر جانے لگا کے قریب آدھے گھنٹے بعد ہی اس نے دیکھا اس کے پیچھے دھول غبار اور آواز آرہی تھیں، بادشاہ رک گیا اور دیکھا کے اس کا دوست تیزی سے سواری کرتے ہوئے اس کی طرف آرہا ہے ۔ کیا ہوا بادشاہ نے پوچھا ، دوست سانس بھرتے ہوئے بولا۔ اے چابی غلط اے، لگدی نی پئیں ۔
۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>