Published On: Mon, Feb 6th, 2017

پاکستان قرضوں کا بوجھ ،خود انحصاری کی منزل ایک خواب

Share This
Tags

ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرض اتارو ملک سنوارو اور خود انحصاری کی منزل کا حصول ایک خواب ہوگیاہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب یہ باتیں نعروں کی حد تک ہی رہ گئی ہیں کیونکہ معاشی اور اقتصادی صورتحال کو ئی اچھی شکل میں سامنے نہیں، اقتصادی پنڈت اور شعبہ معاشیات اور اقتصادیات سے منسلک ماہرین ملک کی اقتصادی صورتحال سے کوئی زیادہ مطمئن نظر نہیں آرہے۔ دریں اثناء عالمی بینک نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے قرضوں کو معاشی ترقی کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے ‘ عالمی بینک نے خطے میں سکیورٹی چیلنجز اور پاکستان’ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں سیاسی محاذ آراہی کو ان ممالک کی معاشی ترقی کیلئے منفی اثرات کا حامل قرار دیا ہے۔ عالمی بینک نے بڑھتے ہوئے قرضوں کوپاکستان کی معاشی ترقی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کی طرف سنجیدگی سے توجہ دے۔بلاشبہ وطن عزیز پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے جہاں ہرقدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ذرا سی غفلت بھی لمحوں نے خطا کی، صدیوں نے سزا پائی کے مصداق ثابت ہوسکتی ہے۔ جنوبی ایشیائی خطے میں بالخصوص سی پیک کے باقاعدہ آپریشنل ہونے کے بعد جو تبدیلیاں بڑے پیمانے پر متوقع ہیں اس کے باعث پاکستان کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوگالیکن ایک ایسے وقت میں جب حکومت معیشت کو قرضوں کا سہارا لے کر چلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتو ملکی ترقی ایک خواب سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس لئے حکومت کو ملک چلانے کیلئے قرضوں کے حصول پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ چند روز قبل ہی یہ خبر شائع ہوئی کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خالص آمدنی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ناکافی ہے مگر وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کروا دیاکہ پریشانی کی کوئی بات نہیں مگر آج کے 20کروڑ عوام پہلے کی نسبت زیادہ باشعور ہیںاور حالات کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہیں ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی نے پاکستان کی عوام کو شعور و آگاہی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے لہذا اب عوام طفل تسلیوں پر زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اعتبار کرنے کیلئے بھی تیار نہیں۔ 2013ء کے عام انتخابات میں حکومت نے عوام سے کشکول توڑنے کا وعدہ کیا تھا مگر صرف 3برس میں حکومت نے بیرونی قرضوں کے حجم میں 12ارب ڈالرز کا اضافہ کیا جبکہ حکومتی معاشی ترقی کے دعوئوں کے برعکس 3برس میں برآمدات میں 20فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔ ادھر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 8′ 9ماہ میں 7ترقی پذیر ممالک نے سکوک بانڈز کے ذریعے قرض حاصل کیا۔ 7 میں سے 5 ممالک نے اوسطاً 3فیصد شرح سود پر جبکہ ہماری حکومت نے یہ قرض 5.5فیصد کی انتہائی مہنگی شرح پر حاصل کئے۔ اگرچہ چند روز قبل آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت میں اصلاحات کیلئے حکومتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا تھا مگر وہ کیا جانے کہ اس کی ظالمانہ شرائط پر بلاچوں چراں عمل کرنے سے عوام کو کتنی پریشانی اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ دنوں برآمدکنندگان کیلئے 180ارب کے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے ٹیکسٹائل مشینری پر سیلزٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ختم کرتے ہوئے کہاکہ زراعت’ صنعت ترقی کرے گی تو ملک خوشحال ہوگا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے ٹیکسٹائل پیکج کو مسترد کرتے ہوئے
کہا کہ اس پیکج کا حشر بھی کسان پیکج کی طرح ہوگا اور یہ کہ ٹیکسٹائل پیکج کو الیکشن مہم کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ درست ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے بجلی اور گیس کی قیمت ناقابل برداشت ہوچکی ہے جس سے ملک میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ حکومت برآمدات بڑھانے کیلئے کوئی اقدامات کرتی مگر انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ حکومت آمدنی بڑھانے کیلئے صرف غریب عوام پر بوجھ ڈالنے کی حکمت عملی پر ہی عمل پیرا ہے جیسے چینی کے بعد سیمنٹ کی قیمت میں بھی مزید اضافہ ہوگیا ہے جس سے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان کے عوام کی مشکلات ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہیں جیسے آنے والے دنوں میں بجلی اور گیس بحران میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ تربیلا بجلی گھر کے 11یونٹ بند ہونے سے بجلی کی پیداوار صرف 297 میگاواٹ رہ گئی ہے، اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ 25ہزار روپے کا مقروض ہے۔ پاکستانی معیشت کو اس وقت ایک اوورہالنگ کی ضرورت ہے، کرپشن کا عفریت منہ زور گھوڑے کی طرح بگڑ چکا ہے لہذا اس کیلئے ضروری ہے کہ اربوں روپے یومیہ کی کرپشن روکنے کی تدبیر کی جائے۔ عوام مہنگائی سے ادھ موئے ہوکر رہ گئے ہیں اور ان کو کسی قسم کی کوئی ریلیف کہیں سے نہیں مل رہی۔ پراپرٹی ٹیکس’ صفائی ٹیکس، نجانے اور درجنوں قسم کے ٹیکس عوام پر عائد کردیئے گئے ہیں مگر عوام کی حالت میں کوئی بہتری درجنوں ٹیکس ادا کرنے کے باوجود بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے اور اگر موجودہ حکومت 2018کے انتخابات کو اپنی جیت میں بدلناچاہتی ہے تو ابھی بھی وقت ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں کہ ملکی معیشت کو مثبت انداز میں سہارا دیکر عوام کی حالت زار میں بہتری لائی جائے اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے صحیح معنوں میں کشکول توڑنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ حکومت کا یہ نعرہ قرض اتارو ملک سنوارو اپنے حقیقی تناظر میں عوام کے لئے مفید ثابت ہوسکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>