Published On: Tue, Jun 7th, 2016

پاکستان خطرات کی زد میں

Share This
Tags

ملا اختر منصور کو امریکی CIAاور بھارتی RAWنے خفیہ میٹنگ میں کیا پیش کش کی تھی

پاکستان میں ملا اختر منصور کی ہلاکت، ایک تیر دو شکار

sajjadتحریر ۔سید سجاد حسین شاہ – جنوب مشرقی ایشیاءکے خطہ میں پاکستان اپنے خاص محل وقوع کے اعتبار سے ایسی جگہ پر واقع ہے جو بلاشبہ نہ صرف سنٹرل ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے حوالے سے ایک گیٹ وے ہے بلکہ افغانستان اور ایران کے راستے یورپ تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ ماضی میں گرم سمندروں تک رسائی روس کی دیرینہ خواہش رہی ہے جو بالآخر یو ایس ایس آر(USSR ) کی ٹوٹ پھوٹ پر متنج ہوئی کیونکہ روس افغانستان کے راستے پاکستان کو زیر کرتے ہوئے گرم سمندروں تک رسائی کا متمنی تھا لیکن روس کا راستہ روکنے میں پاکستان نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ روس اور امریکہ کے درمیان طویل مدت سرد جنگ کا خاتمہ بھی روس کی افغانستان پر چھڑائی کرنے کی غلطی کے سبب ہوا اور عالمی سطح پر قوت کا تناسب بھی روس کی شکت و ریخت کے بعد بگڑ گیا اور امریکہ کی واحد سپر پاور بننے کی خواہش بھی تکمیل کو پہنچی، روس اور امریکہ جیسی دومنہ زور عالمی طاقتوں کے درمیان چین نے اقتصادی ترقی کے میدان میں عالمی سطح پر ایک اقتصادی قوت کا مقام حاصل کرلیا، جو امریکہ اور نہ ہی روس کو کسی صورت برداشت ہے، قوموں کی برادری میں سفارتی محاذ پر دوستی اور دشمنی کے پیمانے باہمی مفادات سے جڑے ہوتے ہیں کیونکہ آج کا دوست، کل کا دشمن بھی ہوسکتا ہے اور دنیاکے مختلف خطوں میں علاقائی محل وقوع کی بنیاد پر مختلف ملکوں کے درمیان اشتراک عمل اور باہمی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے علاقائی تنظیموں کا وجود بھی ایک لازمی عنصر کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارے کی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ مسلمہ لیکن علاقائی تعاون تنظیموں کا وجود عالمی سطح پر مختلف خطوںمیںاہمیت کا حامل ہے۔ ایران، افغانستان اور پاکستان جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار اور اہمیت کے باعث عالمی قوتوں کا مرکز نگاہ ہیں، روس کی عالمی سطح پر پسپائی کا فائدہ امریکہ نے بھرپور اٹھایا اور نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کو قابو کرنے اور سزا دینے کیلئے افغانستان پر چھڑائی کردی جو روس کی طرح امریکہ کیلئے بھی گلے کا پھندا بننے لگی، امریکہ نے نیٹو افواج کے ذریعے افغانستان میں تسلط جمانے کی تمام تر کوششیں کیں جس میں وہ کامیاب نہ ہوسکا ، لیکن اس سارے کھیل میں جہاں افغانستان میں امن کا قیام دگرگوں ہوا ہے وہاں پاکستان کو تمام تر قربانیوں اور کوششوں کے باوجود بڑی قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے، امریکہ کی لگائی ہوئی جنگ میں پاکستان دہشتگردوں کے نشانہ پر آگیا، پاک۔امریکہ تعلقات قیام پاکستان سے ہیں اور پاکستان کو ہمیشہ امریکی بلاک کا حصہ مانا جاتا رہا ہے لیکن دوسری طرف چین جو پاکستان کا ہر دور کا آزمودہ اور مخلص دوست ہے ، چین کا پاکستان میں بڑتا ہوا اثرو رسوخ امریکہ اور بھارت کو کسی طرح برداشت نہیں، پاکستان کو اپنے جغرافیائی محل وقوع اور ایٹمی قوت کی حامل واحد اسلامی ریاست ہونے کی پاداش میں اسرائیل ، امریکہ اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا نشانہ بننا پڑا جن کے مقاصد میں پاکستان کو عالمی برادری میں سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار کرنا ، پاکستان میں مصنوعی بحرانوں اور اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا اور دہشتگروں کے چنگل میں جھونک کر رکھنا شامل ہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار اسلامی ملک ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کے مفادات کا ہر سطح پر تحفظ کیا ہے، لیکن پاکستان نے عالم اسلام کا جو ”ٹھیکہ“ اٹھا رکھا ہے اس کی اسے ہمیشہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ، کیونکہ طاغوتی طاقتیں دوستی کے پردے میں پاکستان کو اپنے مقاصد میں استعمال کرتے ہوئے مشکلات کے بھنور میں پھنسانے کا کوئی بھی موقع جانے نہیں دیتی ۔

pic
اسرائیل کوپاکستان نے تسلیم نہ کیاجس کی پاداش میں اسرائیل پاکستان کا بدترین دشمن بن چکا ہے،اور اس کی تمام تر توجہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنا، اس کی سالمیت،یکجہتی کو زک پہنچانا،معاسشی اور سیاسی عدم استحکام پر ہے کیونکہ بھارت بھی پاکستان کی عظمت رفتہ سے خائف ہونے اور ریاست جموںکشمیر کو تر نوالہ بنانے کے لئے پاکستان کے خلاف سازشوں میں یکسر مصروف ہے،لہذا انڈیا،اسرائیل اور ان کے مربی امریکہ کے درمیان سہ فریقی گٹھ جوڑ کا سبب صرف پاکستان اور اسلام دشمنی پر مبنی ہے، پاکستان کو قدرت نے تمام وسائل اور نعمتوں سے مالا مال کررکھا ہے لیکن عالمی سازشوں کا شکار یہ ملک غیروں سے زیادہ اپنوں کی غلط پالسیوں اور حکمرانوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑ تا چلاآیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکالا کہ پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے کم وسائل کے حامل ملک ترقی کی منازل طے کرچکے لیکن پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنے کیلئے اسے مشکلات کے بھنور میں پھنسا دیا گیا ، عجیب اور ناقابل فہم بات کہ ایک ایٹمی قوت کا حامل اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک انرجی بحران کا شکار ہے اور جو زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی خوراک کی ضرورت بھی پوری کرنے کی صلاحیت سے محروم نظر آتا ہے۔ بادی النظر میں یہ تمام معاملات سطحی محسوس ہوتے ہیں ، لیکن ہمارے منصوبہ ساز اور حکمران ان تمام محرومیوں کے ذمہ دار ہیں اور قومی جرم کے مرتکب واقع ہو ہے ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے وطن عزیز کو قرضوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے اور امریکہ، ورلڈ بنک ، آئی ایم ایف اور دیگرعالمی مالیاتی اداروں کے دباﺅ سے اپنی وہ تمام شرائط منوانے میں کامیاب ہواہے جو اس ملک کی اقتصادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاﺅٹ ہیں اور اس تمام گورکھ دھندے کا اصل مقصد پاکستان کو بالآخر ا یسی سطح پر لانا مقصود ہے کہ وہ اپنے قرضے معاف کرانے اور اقتصادی حالات کو سدھارنے کیلئے اپنے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے پر آمادہ ہو جائے تاکہ اسرائیل اور انڈیا کے مکروہ خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ یوں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اب ملا اختر منصور کی پاکستان کے علاقہ میں امریکی ڈرون حملہ میں ہلاکت کو ہی لیں، با وثوق ذرائع کے مطابق ملااختر منصور کو خفیہ میٹنگ میںبلایا گیا تھا جس میں انڈیا بھی شامل تھامطالبہ کیا گیا کہ آپ کو انڈیا اور امیریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگامنصور کو مزید کہا گیا کہ آپ کو سراج الدین حقانی اور آئی ایس آئی کے ایک سینئر اہلکار کو اپنی دعوت میں میٹنگ کے لئے کال کر نا ہوگی اور ہم انہیں زندہ یا مردہ گرفتار کریں گےاور آپ کو نکلنے کا موقعہ دیا جائے گابعد میں ہم آپ کو پاکستان میں گھر دیں گے، خدد کش اور دوسرے حملہ آور بھجوانے ہونگے جس کا ملا اختر منصور نے انکار کردیا ۔اب اگر ملا منصور واپس افغانستان پنچ جاتاتو ساری سازش کا آئی ایس آئی اور حقانی گروپ کو معلوم ہو جاتاسو ملا کو افغانستان پنچنے سے پہلے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاجس کے لیے پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک موزوں نہ سمجھا گیا۔امریکہ نے ایک پن دوکاج کے مصداق ملا اختر منصور کو افغانستان کے علاقے میں حملہ کر کے ہلاک کرنے کی بجائے پاکستان کی سرزمین کا انتخاب کیا تاکہ ایک طرف اپنا ھدف حاصل کیا دوسرا طالبان کو پاکستان کے خلاف نئی صف بندی کیلئے متحرک کر دیا ہے۔امریکہ اپنے مفادات کیلئے پاکستان کو استعمال کرتا چلا آرہا ہے جبکہ اس کی پالیسی واضح طور پر بھارت نواز ہے،ایسے میں پاکستان کو امریکہ پر واضح کرنا ہوگا کہ وہ اپنی ایسی منافقانہ پالیسی پر نظر ثانی کرئے وگرنہ پاکستان خود کو امریکی مفادات اور دہشت گردی کی جنگ سے علیحدہ کر سکتا ہے۔
قابل غور نقطہ
پاکستان کا عالمی سطح اور بالخصوص او آئی سی میں ایک کلیدی کردار ہے لیکن جس مقصد کے حصول کیلئے عالم اسلام نے اس تنظیم کی بنیاد ڈالی تھی وہ یہ کہ صیہونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصیٰ کو جلانے کے واقع کے خلاف ردعمل میں اسلامی ملکوں نے اپنے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسلامی کانفرنس کی تنطےم کی بنیاد رکھی تاکہ مسلم دنیا کو ایک مضبوط اور موثر عالمی سیاسی پلیٹ فارم میسر ہو ، لیکن آج اسلامی ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی جارہی ہے اور بھارت عالم اسلام کے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا ہے، اور یہ تنظیم عملاً اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھی ہے آج جو صورت حال ایران اور سعودی عرب اور پھر یمن اور سعودی عرب کے درمیان ہے۔،جو حالات عراق، اور افغانستان میں پیدا کئے گئے ہیں اسلامی کانفرنس بجائے ان حالات کو بہتری کی طرف لاتی،امریکہ اور اسرائیل کا لاڈلہ بغل بچہ بھارت ، اسرائیل کے خلاف بننے والے اس فورم میں شگاف ڈالنے اور اسلامی اخوت کے رشتوں میں پابند برادر اسلامی ملکوں میں اختلافات کی خلیج کو طویل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے او ر آج وہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی ماضی میں جسے امریکہ نے اس کے دہشت گرد ی میں ملوث ہونے کے با عث و یزا کی سہولت سے محروم رکھا ہوا تھاسعودی عرب میں اسے اسقدر پروٹوکول دیا گیا اور سعودی عرب کے سب سے بڑے سول ایوارڈ سے نوازا جانا چہ معنی دارد، صرف یہی نہیں سعودی عرب کی حکومت نے بھارت کے ساتھ پانچ اہم معاہدے بھی کئے، سعودی عرب اور بھارت کے درمیان خام تیل کی تجارت کا حجم 39بلین امریکی ڈالرز سے بھی زیادہ ہے۔
پاک ایران تعلقات میں سرد مہری
ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور مشکل کی ہر گھڑی میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا ہے، ایران نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی بھرپور حمایت کی تھی لیکن بالآخر ایران اور پاکستان کے درمیان سرد مہری اور ایران میں بھارت کے اثر و رسوخ میں اضافہ ، دوستی کی پینگیں خطہ میں آنے والے وقتوں میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کررہی ہے، ایران کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی یا یوٹرن اور بھارت کیلئے نرم جذبات پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہوسکتے ہیں، یہ بات اپنی جگہ کہ ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اور ملکی مفادات کیلئے کسی دوسرے ملک کا پابند نہیں لیکن ماضی مےں ایران نے بھارت کے مقابلے میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے اب دونوں ملکوں کے درمیان سرد مہری کی وجہ اگر پاکستان کا سعودی عرب کی طرف جھکاﺅ کہا جائے تو یہ غلط ہوگا کیونکہ پاکستان نے اپنے خارجہ امور اور دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان توازن قائم رکھا ہے، پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ دونوں ملکوں میں اختلافات اور کشیدگی کی فضاءکو ختم کیا جائے۔ مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو حالیہ دورہ ایران میں جو پزیرائی ملی ہے اور ایران کے جنوبی شہر چاہبار میں بندرگاہ کی تعمیر کے لیے بھارت اور ایران کے درمیان معاہدہ اور علاوہ ازیں بھارت ،ا فغانستان اور ایران کے درمیان سہ فریقی راہداری کا معاہدہ بھی طے ہوا ہے۔ ان صف بندیوں اور معاہدات کا مقصد ایک طرف بلوچستان میںگوادر پورٹ کے مقابلے میں ایران کے جنوب میں چاہبہار بندرگاہ کو تقویت پہنچانا اور بھارت کیلئے افغانستان اور ایران کے راستے یورپی منڈیوں تک بلاواسطہ رسائی کو ممکن بنانا ہے،ایران کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت عالم اسلام اور پاکستان کا بدترین دشمن ہے اس کے مقابلے میں ایران پاکستان کا ہمدرددوست اور ساتھی رہا ہے،پرانے تعلقات کو ازسرنو استوار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور ایران کے جہاں اسلامی اخوت کے رشتے ہیں وہاں دونوں ملکوں کی سرحدیں بھی جڑی ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ ایران کا ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے۔
بیرون ملک پاکستانی سفارت کی ذمہ داریاں
پوری دنیا میں جہاں بھی پاکستان کے سفیر اور دیگر سفارت کار تعینات ہوتے ہیں ان کی ملکی امور کے حوالے سے دوہری ذمہ داریاں ہوتی ہیں، ویسے بھی کسی ملک کا سفارت کا اپنے ملک کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان سفارت کاروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتاہے کہ وہ بدلتے حالات کے تناظر میں اپنی جانے تعیناتی والے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں اورپاکستان سے متعلق اس ملک میں پائے جانے والے جذبات کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھیں تاکہ کسی خرابی کی نشاندہی کی صورت میں فوری تدارک ممکن ہوسکے۔ لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ ہمارے اکثر سفارت کا ر اہم اور بڑے ملکوں میں اپنی تعیناتی کے دور میں اس فکر میں وقت گزار دیتے ہیں کہ تین سال کے عرصہ میں ایکسٹینشن یامستقل رہائش کے لئے کیا اقدامات اٹھائیں جائیں اور اس طرح اپنے بچوں کو وہاںمستقل ایڈجسٹ کرنے کی فکر میں اپنا عرصہ تعیناتی گزار دیتے ہیں، سب سفارت کار نہیں مگر اکثر کی خواہش یہی ہوتی ہے۔ ہمارے ایسے سفارت کاروں کی غفلت اور ذاتی مفادات کیلئے تگودو ملکی مفادات کیلئے نقصان کا باعث بنتی ہے۔
لمحہ موجود میں پاکستان عالمی خطرات کی زد میں ہے اس ملک کو عالمی سازشوں سے محفوظ رکھنے کیلئے قومی یکجہتی کے ساتھ ساتھ خارجی اورداخلی امور میں یکسوئی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت پاکستان کو قومی اور بین الاقوامی معاملات کو ازسرنو مرتب کرنے کیلئے عوام کی رضااور اعتماد کے تابع کام کرنا ہو گا ہر طبقہ فکر کو اعتماد میںلیتے ہوئے تمام قومی اداروں میں یکسوئی پیدا کرنا ہوگی تاکہ ایک قومی سوچ سامنے آئے جس کی روشنی میں حکومت اپنے داخلی اور خارجی امور بارے اعتماد کی فضا میں پہلے سے بہتر انداز میں فیصلے کرنے کی اہل ہو سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>