Published On: Thu, May 19th, 2016

نیک کاری کے سفیر ڈاکٹر آصف محمود جاہ

Share This
Tags

حسبِ منشا ….منشا قاضی
manshaqazi@hotmail.com
مولانا محمد علی جوہر انگریز گورنر کی ضیافت میں عربی لباس پہن کر گئے تو گورنر نے کہا مسٹر محمد علی آپ تو بالکل عرب معلوم ہورہے ہیں۔ مولانانے جو جواب دیا وہ ہماری اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔ آپ نے کہا مسٹر گورنر میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجویٹ ہوں، میں نے پینٹ کوٹ ، ٹائی پہنی ہے اور مجھے تو آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ مسٹر علی آپ انگریز معلوم ہوتے ہیں۔ یہ اعجاز تو میرے آقا محمدعربی ﷺ کا ہے کہ ایک ہی روز عربی لباس پہن کر بلا حیل و حجت عربوں میںشمار کیا جارہا ہوں۔ ایک آدمی کا اچھا عمل پورے عالم اسلام کا عمل قرار پاتا ہے اور وہ نیک نامی کا چلتا پھرتا سفیر بن جاتا ہے ۔ قیام پاکستان سے لے کر ہمارا ایک محکمہ بدنام زمانہ چلا آرہا ہے اس میں اگر کوئی کسی جگہ بہتری آئی ہے تو وہ ایک فرد کے عمل نے تبدیلی کی گنجائش پیدا کی ہے اور آج اس بدنام زمانہ محکمہ کو یہ اعزاز، یہ شرف اور سعادت حاصل ہوئی کہ کلکٹر کسٹم کے عہدہ جلیلہ پر فائز شخص کو حکومت پاکستان نے ستارہ¿ امتیاز سے نوازا ہے اور ایک شخص اس محکمہ کی نیک نامی کا چلتا پھرتا اشتہار بن گیا ہے کہ اس کا نام حلق سے نکل کر سیدھا خلق تک پہنچتا ہے اور آج تو وہ فلک پر پہنچا ہوا ہے۔ میری مراد کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے صدر کلکٹر کسٹم ڈاکٹر آصف محمود جاہ سے ہے جنہوں نے آسانیوں کا راستہ چھوڑ کر مشکلات کی گھاٹیوں کا رخ کیا اور ایثار و قربانی کی شاہر اہ کا انتخاب کرکے اپنے ہاتھوں سے صحرا میں باغبانی کی بنیاد رکھ دی۔ مصائب و آلام کی گود میں پلنے والے، بیابانوں میں آبلے لے کر چلنے والوں کو میں نے تاریخ میں اکثر دیکھا ہے کہ ان جلیل القدر ہستیوں نے اپنے دست مبارک سے تپتے ہوئے صحراﺅں میں آب شیریں کے کنویں بنوا کر خوشحال اسلامی معاشرے کے خدو خال منصہ شہود پر ہویدا کر دیئے اور 21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر جب لوگ خود غرضی کے بحر اوقیانوس میں ڈوب چکے ہیں اس ماحول میں ایک بے غرض اور با عمل شخص گھر سے تھر تک لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے ۔ گزشتہ روز پنجاب کے اضلاع سے آئے ہوئے سوشل ورکر کی ایک کثیر تعداد کے اعزاز میں عشائیہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے سماجی کارکنوں کی حقیقی کارکردگی کو شاندار الفاظ میں سراہا اور اُن کے حسنِ طلب کی داد دی کہ وہ ملازمت کے لئے آئے اور خدمت انسانی کا جذبہ لے کر واپس جارہے ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے سید محبوب علی کی صدارت میں اس تقریب میں آئے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور سوشل ورکرز کو اسناد، انعامات سے نوازا۔ سید محبوب علی نے اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے کام کو سراہا اور کہا کہ میں نے جب سے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو دیکھا ہے مصروف خدمت انسانی میں ہی مشغول پایا ہے۔ وہ اس گئے گزرے دور میں غنیمت ہیں۔ آج ہم خود غرضی کے تپتے ہوئے صحرا میں جھلس رہے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ معاشرے میں ناپید ہوجائےں تو معاشرہ بھیڑ بکریوں اور خود غرضیوں کی آماجگاہ بن جائے۔ ڈاکٹر آصف جاہ کو میں جب بھی دیکھتا ہوں تو یہ شعر میری زبان پر آجاتا ہے

یہ کیا کم ہے کہ ناموس حرم ہے باقی
گرتی ہوئی دیوار سے کیا چاہتے ہو
یہ کیا کم ہے کہ جلتے ہیں ابھی چند چراغ
بند ہوتے ہوئے بازار سے کیا چاہتے ہو

اس لیے آج میں ناامید نہیں ہوں کیونکہ ڈاکٹر آصف جاہ نے پوری دنیا میں اپنے جیسے سماجی کارکنوں کی ایک کھیپ تیار کر لی ہے۔
نہیں نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
سیدمحبوب علی نے کہا 2001 سے میں دیکھ رہا ہوں ڈاکٹر آصف جاہ نے خدمت کو قضا نہیں ہونے دیا اور اسے عبادت سمجھ کر دکھی انسانیت کے لئے وہاں تک سفر کیا جہاں دھرتی لرزہ براندام ہے۔ زلزلوں کے درمیان خدمت کی جو طرح ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ڈالی ہے وہ ہماری سماجی تاریخ کے رخ تاباں پر دمکتی رہے گی۔ ممتاز صحافی فاروق تسنیم نے بھی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے عظیم کارناموں کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ پروفیسر شفیق کھوکھرنے کہا کہ آج سید محبوب علی کی آمد سے پنجاب سے آئے ہوئے سماجی کارکنوں کو حوصلہ ملا ہے اس پر ہم اپنے محبوب سماجی رہنما سید محبوب علی کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

آمد جو سنی اُن کی اللہ رے انتظار
آنکھیں بچھا دی ہم نے جہاں تک نظر گئی

پروفیسر شفیق کھوکھر نے کچھ اشعار سید محبوب علی کی آمد پر کہے جو اس وقت میرے حافظے میں محفوظ نہیں ہیں ۔ لیہ سے مسرت بی بی، سرگودھا سے فریال بشیر، نصرت بی بی، اٹک سے نوید احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ تو خود غرضی کے جذبات لے کر آئے تھے اور چاہتے تھے کہ اچھی ملازمت مل جائے مگر ہم نے جب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے کام کو دیکھا تو ہمارے اندر کا انسان جاگ اٹھا اور آج ہم بے غرض سماجی کارکن کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے ہوئے دنیا کے بڑے سے بڑے عہدے سے بھی مرعوب نہیں ہوںگے
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا اک دور
نکلے جو میکدے سے تو حالت بدل گئی
آج ہماری کیفیت اور حالت کا یہ عالم ہے کہ خدمت کا جذبہ ہمیں ایک نیا طرزِ زندگی عطا کر رہا ہے اور ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہماری ضرورت جب بھی اور جس وقت بھی کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کو پڑے گی اُن کی ایک کال پر ہم عرصہ خدمت میں موجود ہوں گے۔ نقابت کے فرائض خاکسار نے ادا کیے اور لیلائے زلف شب دراز تا حد کمر پہنچنے سے پہلے تقریب کا اختتام لذت کام و دہن کے اعلان کے ساتھ ہوگیا۔ تقریب کے منتظم جناب اشفاق احمد کے حُسنِ انتظام کی سب نے دل کھول کر تعریف کی۔ حکومت پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے محترمہ فرحت اکرم نے اپنے تجربات و مشاہدات سے ثابت کر دیا کہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا وسائل کی عدم موجودگی میں بھی حکومت سے بھی بڑا کام ہے ۔ سید محبوب علی ڈاکٹر آصف جاہ، پروفیسر شفیق کھوکھر نے تحائف اور اسناد اپنے دستِ مبارک سے تقسیم کیں اور ملازمت کے حصول کے لیے آنے والے تمام سماجی کارکن ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی شخصیت کے اسیر ہوگئے اور دیوانہ وار وہ اس شمع محفل پر قربان ہونے کے لیے آمادہ و تیار کھڑے ہیں کیونکہ اس شمع محفل نے اپنے پروانوں کو سوزِ حقیقی سے آشنا کیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>