Published On: Thu, Oct 6th, 2016

مودی یاموذی؟

Share This
Tags

samiullah-malik
سمیع اللہ ملک
ظلم کی توایک رات ہی برسوں پرمحیط ہوتی ہے جوانسان کوزندگی بھرذہن سے محونہیں ہوتی لیکن بھارتی درندوںنے کشمیرجنت نظیرکوپچھلی سات دہائیوں سے جہنم زاربناکررکھاہوا ہے ۔اب تک لاکھ سے زائدبے گناہ معصوم کشمیری جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں اوراب ایک مرتبہ پھر گزشتہ دومہینوں سے بھارتی فوج اورسیکورٹی فورسزکے بے محاباظلم وستم اورجانوروں کاشکارکرنے والی پیلٹ گن کابے تحاشہ استعمال سے نوجوانوں کی بصارت کوختم کرکے ان کی زندگیوں کودائمی اندھیروں میں غرق کرنے کے انسانیت سوزبہیمانہ عمل ، اندھا دھند فائرنگ ،فوجی محاصرے،مسلسل کرفیو کے باوجودنوجوانوں کاجذبہ جدوجہدآزادی دن بدن بڑھتاجارہاہے۔بھارتی فوج نے اپنے مذموم منصوبوں کی تکمیل کیلئے اب مساجدکے گردگھیرے تنگ،گلی گلی کوچہ کوچہ کشمیرکے مرغزاروں میں اندھادھندگولیوں کی تڑتڑاہٹ 06سے جموں وکشمیرکامنظرتبدیل کردیاہے۔
خوف ودہشت کے بے تحاشہ مناظرہرروز دیکھنے کومل رہے ہیں لیکن اس کے باوجودکشمیری اپنے سینے تانے سروں پرکفن باندھ کرشہادت کی تمنالئے میدان میں موجود ہیں اور ہر آنے والادن کشمیرپربھارتی فوج کاشکنجہ کمزورہوتاجارہاہے۔ایسے میں اہل کشمیر،بھارتی مسلمان،عیسائی اورہندو،دلت اوردوسری اقلیتیں بھی مودی کوموذی سمجھ کراس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے یک زبان ہورہے ہیں۔بھارتی سیاستدان،دانشور،یونیورسٹی کے طلباء اورطالبات اورخاموش اکثریت بھی دہائی دیتے ہوئے اس نتیجے پرپہنچے چکے ہیں کہ مودی پورے بھارت کیلئے تخریب اور شکست وریخت کاباعث بنتے جارہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کہ اب بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالامیں بھی بہت سے ارکان نے مودی کی ظالمانہ پالیسیوںکوبھارت کے کشمیرپرناجائزقبضے کوہی نہیںخودبھارت کے اپنے استحکام کیلئے بھی چیلنج قراردے دیاہے۔اس سلسلے میں خودبھارتی سپریم کورٹ کے سربراہ ٹی ایس ٹھاکر مودی کے حالیہ اقدامات،پالیسیوں اورمنصوبوں کوملک کے وفاقی وعدالتی نظام کیلئے خطرناک قراردے چکے ہیں۔
دوسری طرف اہل کشمیربھارتی قابض فوج اوران کے سرپرست مودی کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجوداپنے جذبۂ آزادی کوایک نئے آہنگ اورابھرتی جوانیوں کی قربانیوںکے ساتھ سامنے لانے کے بعدپوری استقامت کے ساتھ میدانِ عمل میں کھڑے ہیں۔اس کے باوجودکہ اب تک بھارتی قابض فوج کی اپنی مرتب کردہ رپورٹ جسے بھارتی ریزرو پولیس نے ہائی کورٹ میں پیش کیا ،اس کے مطابق ٨ جولائی سے لیکریکم اگست تک٢٢لاکھ چھرے اورگولیاں چلا ئی جس سے ٧ہزارسے زائدزخمی اور٥٥جام شہادت نوش کرچکے تھے۔یادرہے کہ ان زخمیوں میں دوہزارسے زائدکشمیریوں کی آنکھیں اوربصارت متاثرہوئی اورصرف صدرہسپتال اورجے وی سی میںایسے ٦٤٠مریضوں کاعلاج کیاگیا اوریہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ان زخمیوں میں کالجوں اوراسکولوں کے چارسو سے زائدبچے اوربچیاں بھی شامل ہیںجن کی آنکھون میں تاک تاک کرچھرے مارے گئے اورانہیں بینائی سے محروم کردیاگیا۔
اس ظلم وجبر کی خبریں وادی کشمیرسے باہرنکلنے سے روکنے کیلئے دنیابھرمیں خودکوایک بڑی جمہوریت کادعویٰ کرنے والے بھارت نے سوشل میڈیا،انٹرنیٹ،فیس بک،موبائلزفونزپر مسلسل پابندیاں عائدکررکھی ہیں۔٨جولائی سے ١٨/اگست تک بغیرکسی ناغے کے مسلسل کرفیوجاری رکھالیکن رات کوکرفیواٹھالیاجاتارہاکہ دن کے وقت اہل کشمیرکوسڑکوں پرنکلنے سے روکاجائے اوررات کونرمی کرکے پہلگام جانے والے اورپہلگام سے واپس بھارت جانے والے ہندویاتریوں کی آمدورفت میں رخنہ نہ آسکے۔ہندویاتریوں کی کی آمدورفت ممکن بنانے کیلئے فوجی دستے بھی متحرک رہے لیکن دوسری جانب کشمیری عوام پرنہ صرف یہ کہ ہرقسم کی قدغنیں مسلسل بڑھائی جارہی ہیںبلکہ اب ١٨/اگست کے بعدسے جبکہ ہندو یاتریوں کی واپسی مکمل ہوگئی ہے توبھارتی قابض فوج نے کشمیری عوام کے خلاف چوبیس گھنٹوں کاکرفیونافذکررکھاہے۔ایک شہرسے دوسرے شہرتک سفرکے تمام راستے مسدود کر دیئے گئے ہیں۔اس مقصدکیلئے کرفیوکے علاوہ ہرطرح کی پبلک وپرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی آمدورفت مفلوج کردی گئی ہے ۔
تقریباًپچھلے ٥٥دنوں سے دوسرے شہروں میں اپنے کسی کام کاج کیلئے یارشتہ داروں اورعزیزوں سے ملاقات ممکن نہیں رہی۔سرینگرمیں یہ عمومی رائے ہے کہ اگرحزب المجاہدین کے کمانڈربرہان مظفروانی شہیدکے صرف آدھے گھنٹے کے دوران فوج کرفیونافذ نہ کرتی تواس تاریخی جنازے میں شرکت کرنے والے کشمیری عوام کی تعداداس ٹھاٹھیں مارتے سمندرسے کئی گنازیادہ ہوتی۔سرینگرمیں مجھے اپنے ذرائع سے معلوم ہواکہ کمانڈربرہان مظفروانی کی شہادت کاواقعہ شام ساڑھے چھ بجے ہواتوتھوڑی دیرمیں موبائل فونزپرسرینگرمیں اطلاع مل گئی اوراس کے ساتھ ہی لوگ سڑکوں پرنکل آئے ،ان میں بچوں اورنوجوانوں کے علاوہ بوڑھے اورخواتین بھی شامل تھے لیکن آدھے گھنٹے کے دوران ہی فوج نے پوری وادی میں کرفیولگادیا۔ رات ساڑھے آٹھ بجے ای ٹی وی نے تفصیل کے ساتھ خبردی تواس کے ساتھ ہی ترال کے قریبی قصبوں اوردیہاتوں سے لوگوں نے پیدل ہی ترال کی طرف چلناشروع کردیا تاکہ اپنے محبوب کمانڈرکے آخری سفرمیں شرکت کرسکیں۔
مقبوضہ کشمیرمیںبرہان وانی شہیدکی ایک ہی عیدگاہ میں پچاس مرتبہ نمازجنازہ اداکی گئی ،لوگ عیدگاہ میں آتے اورنمازجنازہ اداکرکے چلے جاتے اورنئے لوگوں کے آنے پردوبارہ نمازجنازہ اداکی جاتی،اس طرح برہان وانی شہیدکی پچاس مرتبہ نمازجنازہ اداکی گئی جوکہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے ۔اس سے پہلے کسی بھی شخصیت کی پچاس مرتبہ نمازجنازہ ادانہیں کی گئی ۔یہی وجہ ہے کہ اب بھارتی قابض فوج نے خوفزدہ ہوکر فوری طورپرمقبوضہ وادی کے شہروں،قصبوںکی بستیوںاوربادیوں کاآپس کازمینی اورمواصلاتی رابطہ بھی ناممکن بنادیاہے۔ کرفیو لگاکروادیٔ کے شہروں سرینگر،بڈگام،اسلام آبادبارہ مولا،سوپور،پٹن،شوپیاں،بانڈی پورہ،ککرناگ،ترال،پلوامہ،بڈگام اورقصبات کوایک دوسرے سے کاٹ دیاگیاہے حتیٰ کہ ان شہروں اورقصبوں کے اندرقائم بستیاں بھی باہم کٹی ہوئی نظرآتی ہیں۔ایسابھی ہورہاہے کہ ایک بستی میں کسی شہری کی شہادت یاانتقال کی خبرکئی کئی روزتک دوسری بستی اورمحلے میں رہنے والے ان کے رشتہ داروں کے علم میں نہیں آپاتی۔
سرینگراوردوسری بڑے شہروں کی سڑکوں پراب عام لوگوں کی گاڑیاں نہیں آسکتی ہیں۔ان کی سڑکوں پراب صرف فوج اورپولیس کی گاڑیاں نظر آتی ہیںیاپھربھارتی قابض فوجی کی اندھادھندفائرنگ سے زخمی ہونے والوں کوہسپتالوں میں منتقل کرنے والی ایمبولنسزہوتی ہیں۔ان ایمبولنسزکے ڈرائیوروں کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے زخمیوں کوہسپتالوں میں اس طرح بھربھرکرلارہے ہیں جیسے کشمیرمیں کوئی جنگ ہورہی ہواورانہیں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو ۔ سرینگرکے تین بڑے ہسپتالوں میں صورہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ،سرینگرمیڈیکل اسپتال اوربمناانسٹیٹیوٹ زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔زخمیوں کوہسپتالوں میں لیکرآنے والے کئی کئی روزسے کرفیوکی وجہ سے گھروں کونہیں لوٹ پائے ہیں۔وادیٔ کشمیرسے تعلق رکھنے والے ایک واقف حال بتارہے تھے کہ کشمیری عوام بھارتی قابض فوج کی اس حکمت عملی کو ناکام بنارہی ہے اورکم ازکم دوماہ تک مزیدبھی کرفیوجاری رکھاگیاتوکشمیری عوام اپنے لئے خوراک کی قلت پیداکرنے کی فوجی منصوبہ بندی کاتوڑکرسکیںگے۔اس واقف حال کے مطابق عام کشمیری کے گھروں میں مزیددوماہ یہی سلسلہ چلتارہاتوبھی کشمیری عوام کوبھارت پرمسلط ایک موذی وزیراعظم اپنی سازش کے مطابق بھوک سے نہیں مارسکے گا۔سرینگر کے ہسپتالوں میں کرفیوکے باعث اورزخمیوں کی حالت کے باعث پھنس کے رہ جانے والے تیمارداروں کی ضروریات اورمجبوریوں کے پیش نظرکشمیری نوجوانوں اورآس پاس کی بستیوں کے رہائشی اہل خیرنے ان تمام بڑے ہسپتالوں کے ساتھ زخمیوںاوران کے تیمارداروں کیلئے لنگروں کااہتمام کیاہے۔ہسپتالوں کے باہرکئی ہفتوں سے فعال اوران لنگروں سے متاثرین کومفت کھاناپیش کرنے کیلئے صبح وشام دیگیں پکائی جارہی ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے قابض فوج کی طرف سے مسلسل کرفیوکومستردکرتے ہوئے سڑکوں پرعوام کورکھنے کیلئے بنائی گئی حکمت عملی کے تحت اہل کشمیرسے ایک یہ اپیل کررکھی ہے کہ عوام نمازعصرمساجدسے باہرسڑکوں اورگلیوں میں اداکریں اورسرینگرسے ایک اطلاع کے مطابق یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اورعوام بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ کرفیوکی پرواہ کئے بغیرنمازعصرکیلئے سڑکوںپرنکلتے ہیں۔یہ سب کچھ اس کے باوجودجاری ہے کہ صرف سرینگرشہرمیں کم ازکم پچاس بھارتی فوجی کیمپ قائم ہیںاوربھارتی قابض فوج کی تعداد وادیٔ میں مسلسل بڑھ رہی ہے ۔واضح رہے یہ فوجی کیمپ زیادہ سرینگرکے ڈاؤن ٹاؤن ایریازمیں قائم ہیں۔قابض فوج ایک جانب توکشمیری عوام کودبانے کیلئے اورانہیں بھارت کے ساتھ وفاداری پرجبراًمائل کرنے کیلئے ظلم وستم کے پہاڑتوڑ رہی ہے تودوسری جانب اس کے ذمہ کشمیرکی کٹھ پتلی حکومت اورکٹھ پتلی اسمبلی کے اراکین کوکشمیری عوام کے غیظ وغضب سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی ڈیوٹی انجام دے رہی ہے۔سرکاری بنگلوں میں مقیم اورمحصورہوکررہ جانے والی محبوبہ مفتی اوران کی کابینہ کے اراکین کوفوجی نگرانی میں نشاط باغ روڈ سے سیکرٹریٹ تک لمبے لمبے فوجی کانوائے کی صورت میں لاتی اورواپس لے جاتی ہے۔سرینگرکے حالات سے براہِ راست واقفیت رکھنے والوں کاکہناہے کہ سیکرٹریٹ میں مقامی کشمیریوں کی جگہ مقبوضہ صوبہ جموں اوردوسرے مقامات سے ہندوؤں کولاکر تعینات کیاگیاہے جومحض سیکرٹریٹ کے متحرک ہونے کاتاثراوربھرم قائم کرنے کیلئے بھاری معاوضے پر یہاں لاکربٹھائے گئے ہیں۔ان ہندودفتری اہلکاروں کونہ صرف یہ کہ خصوصی مراعات دی جاتی ہیںبلکہ ان کے طعام وقیام کوبھی سرکاری وسائل سے پوراکیاجاتاہے تاکہ دنیاکویہ بتایا جاسکے کہ کشمیرحکومت کاسیکرٹریٹ مفلوج نہیں ہے اورسب اچھاہے۔
واقعہ یہ ہے کہ بھارتی قابض فوج کی طرف سے تقریباًدومہینوں کے دوران چلائی گئی گولیوں اورچھروں سے سیکڑوں کشمیریوں کی آنکھوں سے بینائی چھین کربھی بھارتی حکومت اس میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے کہ اہل کشمیرکواس کی آزادی کی راہ سے ہٹاسکے ۔سچی بات یہ ہے کہ بینائی سے محروم ہونے والے کشمیری نوجوانوں ،بچوں اورخواتین نے آزادی کی راہ دیکھ لی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جوں جوں بھارتی مظالم بڑھ رہے ہیںکشمیری نوجوانوں کی تحریک میںشدت آرہی ہے۔سرینگرکالال چوک محض اپنے نام کی وجہ سے نہیںبلکہ آزادی کے جذبے سے سرشار اہل کشمیرکے لہوکی وجہ سے لال ہے،اسی طرح کشمیرکے چنارکے روایتی درخت بھی کشمیرمیں بہائے جانے والے اہل کشمیرکے خون کی گواہی دے رہے ہیں۔ اپنی آزادی کی منزل پانے کیلئے اہل کشمیرنہ گولیوں سے ڈرنے کوتیارہیںنہ ہی ادویات کی قلت سے ان کے عزم میں کمزوری آسکی ہے اورنہ ہی انہیں بھوکوں مارنے کی مودی سازش اپنے راستے سے ہٹاسکی ہے۔اب تک ٨٦سے زائدکشمیری برہان وانی کی شہادت کے بعداپنی جانیں قربان کرچکے ہیں جبکہ یہ تعدادان ہزاروں شہیدوں کی قربانی کاتسلسل ہے جنہوں نے ٩٠ء کی دہائی سے ایک نئے عزم کے ساتھ حریت کاسفرشروع کیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ ٨جولائی کوبرہان وانی اپنے دوساتھیوں کے ساتھ شہیدہوئے تواگلے دن تین روزہ ہڑتال کے پہلے دن مزیدچارافرادنے اپنی جان جان آفرین کے سپردکردی۔ہڑتال کے تیسرے روزپھردوشہیدکردیئے گئے۔
وادیٔ کشمیرکاجنوبی علاقہ جوماضی میں جدوجہدآزادی کے حوالے سے شمالی کشمیرسے نسبتاًپیچھے سمجھاجاتاتھا،اب کی باراس نے بھی آگے بڑھ کرنہ صرف نعرۂ آزادی بلندکردیاہے بلکہ جنوبی کشمیراس سفرمیں پیش پیش نظرآرہاہے۔اب کی بارتحریک آزادیٔ کشمیرکی خاص بات یہ ہے کہ اسے تھوڑے ہی وقت میں بھارت میں بھی محسوس کیاجانے لگاہے ۔پورابھارت مودی کواپنے لئے موذی سمجھنے لگاہے ۔نواب ہری سنگھ کے بیٹے ڈاکٹرکرن سنگھ نے بھی بھارتی راجیہ سبھامیں کہہ دیاہے کہ کشمیربھارت کااٹوٹ انگ نہیں ہے۔بھارتی کشمیرکی دفعہ ٣٧٠ اس کی عملی گواہی ہے جس میں کشمیرکوبھارت میں ضم ہوجانے والی ریاست کے طورپرنہیں دکھایاگیابلکہ ایک متنازعہ ریاست کے طورپرپیش کیاگیاہے۔اسی سبب دفعہ٣٧٠ میں ریاست جموں وکشمیرکوخصوصی اسٹیٹس دیاگیاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کہ جنت نظیرکشمیرکوجہنم زاربنانے والے مودی سے موذی بن جانے والے بھارتی وزیراعظم کوعالمی برادری کب احساس دلائے گی،کب عالمی ضمیرجاگے گا،کب ذاتی تعلق پرقومی فرض اورضمیرکی آوازغالب آئے گی؟؟؟وزیراعظم کی طرف سے بیس ارکان اسمبلی کومختلف ممالک میں کشمیر کی صورتحال پربریفنگ کیلئے توبھیجاجارہاہے لیکن کیایہ ممکن نہیں کہ آزادکشمیرکے حالیہ منتخب صدرجوکہ سابقہ سفارتی معاملات کابہترین تجربہ بھی رکھتے ہیں،ان کواس کام کیلئے اقوام عالم کی بڑی اورمؤثرطاقتوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے روانہ کیاجائے جوبھارت کوکشمیرکے معاملے پراقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمدکیلئے مجبورکرسکیں نہ کہ بیس رکنی ارکان اسمبلی کوقومی خزانے کے خرچ پرسیرسپاٹے کیلئے روانہ کیاجائے۔
مقبوضہ کشمیرکی تحریک آزادیٔ میں مصروف کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کیلئے اپنے دوست ممالک کی مددسے پاکستان کوفوری طورپراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلانے کامطالبہ بھی کرناچاہئے جہاں اقوام عالم کاباورکرایاجائے کہ پاکستان اوربھارت دونوں جوہری طاقت بن جانے کے بعداب مسئلہ کشمیراقوام عالم کے امن کیلئے شدیدخطرہ ثابت ہوسکتاہے ۔بے گناہ معصوم کشمیریوں پربھارت کے ان مظالم پرپاکستانی قوم انتہائی کرب سے گزررہی ہے اورکہیں ایسانہ ہوکہ ایک معمولی سی چنگاری جہاں اس خطے کوبھسم کردے وہاں تیسری عالمی جنگ کاسبب بن جائے!

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>