Published On: Mon, Feb 6th, 2017

مشرف فارمولے کے تنِ مردہ میں جان کے آثار؟

Share This
Tags

arif bسوشو بھا باروے کا نام پاکستان میں بہت سوں کے لئے نیا نہیں ۔نوے دہائی میں امریکہ کی اشیر باد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ڈھیلے ڈھالے حل کی کوششوں میں دوہزار کی دہائی میں تیزی آگئی تو مس باروے کا نام اکثر پڑھنے اور سننے کو ملتا رہا ہے ۔ یہ خاتون تنازعات میں گھرے بھارت اور آبادیوں کے مسائل اور تعلقات پر کئی کتابوں کی مصنف اور دہلی میں قائم ایک تھنک ٹینک سینٹر فار پیس اینڈ ری کنسلی ایشن کی پروگرام ڈائریکٹر ہیں اور خود کو بھارت کے اندر مختلف تنازعات کے حل اور متحارب آبادیوں میں مفاہمت کے لئے وقف رکھے ہوئے ہیں۔گزشتہ دہائی میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا عمل تیز ہوا تو سوشوبھا باروے ان سرگرمیوں کی ایک اہم سہولت کار کے طور پر سامنے آئیں ۔اس عرصے میں پاکستان آتی جاتی رہیں ۔سری نگر اور اسلام آباد اور دہلی میں کئی انٹر اکشمیری ڈائیلاگ انہی کی میزبانی میں منعقد ہوئے ۔سوشوبھا بھارتی شہری ہیں ظاہر ہے ان کی وفاداری کا محور بھارت ہی ہوگا مگروہ انسان دوست شخصیت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سری نگر کے نامی گرامی اور سخت گیر آزادی پسندوں کے جو دروازے بہت کم بھارتیوں کے لئے کھلتے ہیں سوشوبھا ان میں جھانکنے اور انہیں پار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر جذبات اور بغاوت کا کھولتا سمندر بن چکا ہے ۔بھارت میں اس صورت حال کا ادراک ہوا اور راجیہ سبھا میں گرماگرم بحث کے بعد ایک پارلیمانی وفد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔اس وقت کشمیر میں پیلٹ گن کی برسات جاری تھی اور جسموں کے بے جان اور آنکھوں کے بے نور ہونے کا عمل زوروں پر تھا ۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جو عملی طور پر کشمیر میں فوجی کارروائیوں کے نگران تھے، کی سربراہی میںاس وفد نے حریت راہنمائوں سے ملاقات کی کوشش کی مگر حریت قائدین نے عالم اسیری میںملاقات سے انکار کیا ۔تب بھی وفد کے ارکان ٹکڑیوں میں بٹ کر مختلف دروازوں کے باہر جا کھڑے ہوکر کال بیل بجاتے رہے مگرکوئی دروازہ کھل نہ سکااور بند کواڑوں پر دستک بے سود ہی رہی ۔ دوسری بار سوشوبھا باروے نے خالص انسانی پہلو سے وفد تشکیل دیا جس کی قیادت بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کر رہے تھے اس وفد میں یشونت سنہا اور سوشوبھا باروے کے علاوہ بھارت میں اقلیتوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ اور کشمیر کے سابق چیف سیکرٹری وجاہت حبیب اللہ اور ریٹائرڈ وائس ائر مارشل کپل کاک اور معروف صحافی مسٹربھوشن بھی شامل تھے ۔جن لوگوں کے دروازے پہلے وفد کے لئے نہ کھل سکے تھے سوشوبھا باروے ان دروازوں سے داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں جن میں حیدر پور میں واقع سید علی گیلانی کی رہائش بھی شامل تھی جہاں وفد کو خوش آمدید کہا گیا ۔ اس وفد نے دو بار کشمیر کا دورہ کیا ۔ وفداعلیٰ ترین قیادت سے ایک عام مجروح شخص تک ہر کسی سے ملا کشمیریوں کے زخمی دلوں میں جھانکا،ان کی آواز کو سنا اور اسے بلاکم وکاست دنیا تک پہنچایا ۔وفد نے اپنے دورے کے تاثرات پر مبنی کشمیر کی زمینی صورت حال کی عکاسی کرنے والی رپورٹ جاری کی ہے ۔یہ کشمیر کے تلخ زمینی حقائق اور نفرت انگیز جذبات کی عکاسی کرنے والی متوازن رپورٹ ہے ۔جس میں کشمیر کی آواز کو بغیر کسی ترمیم واضافے کے ساتھ دنیا کے سامنے لایا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں بہت فراخ دلی کے ساتھ کشمیر کی زمینی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے ۔ پانچ رکنی وفد کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی طرف سے مظاہروں کو دبانے کے لئے طاقت کے استعمال نے نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے او ر وہ موت کو گلے لگانے کے تیار رہتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی ریاست کی طرف سے اس بحران کا اعتراف نہ کرنا ہے اور کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفد نے جتنے بھی کشمیریوں سے بات کی سب نے مسئلے کے سیاسی حل پر زوردیااور کہا کہ جب تک سیاسی حل تلاش نہیں کیا جاتا وادی میں تباہی اورموت کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا ۔کشمیریوں کا کہنا تھا کہ انہیں بھارت پر اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جارہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی کل آبادی کا اڑسٹھ فیصد نوجوان ہیں جو بے خوف او ر مایوسی کا شکار ہیں۔ایک نوجوان نے وفد کے ارکان کو بتایا تھا کہ ہم شکر گزار ہیںوہ پیلٹ گن جیسے ہتھیار استعمال کرتے ہیں جس نے ہمارے دلوں سے خوف نکال دیا ہے۔اب ہم شہادتوں کا جشن مناتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کچھ نوجوان بھارت سے بات چیت پر آمادہ ہی نہیں ان کی بول چال کے انداز اور رو زمرہ کے محاورے ہی بدل گئے ہیںجن میں ہڑتال ،کرفیو ،شہادت اور برہانی وانی کے الفاظ کا استعمال جاری رہتا ہے۔مظاہروں میں وقفہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے عمومی طور پر ایک خوف ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اپریل سے ستمبر کے درمیان کچھ بڑا ہونے والا ہے۔2017میں سنگینی اور شدت کے اعتبار سے کوئی بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تینوں فریقوں کو تساہل کے بغیر حل ممکن نہیں اور فریقین کو لچکدار رویہ اپنانا ہوگا ۔تاکہ کشمیریوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔اب یشونت سنہا اسی رپورٹ پر نریندر مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دووال سے رابطے میں ہیں اور ایک ملاقات میں وہ یہ رپورٹ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کرنے جارہے ہیں ۔یشونت سنہا انہیں بتائیں گے کہ کشمیر کے مسئلے کو بھارت کو آئین کے اندر اور باہر کی اصطلاحات سے نہیں بلکہ واجپائی کے انسانیت کے دائرے کی اصطلاحات سے حل کیا جا سکتا ہے جہاں ایک طرف سری نگر اور دہلی میں مذاکراتی عمل چل رہا ہو تو دوسری طرف دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بھی مسلسل روابط قائم ہوں گویاکہ تعلقات اور رابطوں کی ٹوٹی ہوئی ڈور کو پرویز مشرف اور من موہن سنگھ کے دورسے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جائے گی ۔

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>