Published On: Thu, Aug 25th, 2016

مسئلہ کشمیر ، جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف

Share This
Tags

میدان جنگ سے لوٹتے ہوئے اللہ کے آخری رسول ۖ نے فرمایا کہ آئو ہم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف چلتے ہیں، صحابہ کرام نے پوچھا Artam 5کہ یا رسول اللہ ۖ یہ جہاد اکبرکیا ہے؟ تو نبی پاکۖ نے فرمایا ”اپنی روحوں کے میلے رحجانات کو دھوڈالنا، کذب، انتقام، حسد، غیبت اور ادنیٰ آرزوں سے نجات ” نبی پاک ۖ نے ان ارشادات کو ہم مجموعی طورپر ‘تزکیہ نفس’ کہہ سکتے ہیں، اب آئیں مسئلہ کشمیر کی طرف، مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ستر سال سے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے۔ پتھر یا نعرے کا جواب بندوق کی گولی سے دیا جارہا ہے۔ کشمیر دنیا میں سب سے بڑی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہے۔ عورتوں کی بے حرمتی ہو یا معصوم بچوں کا خون، اس کا نہ کوئی حساب لینے والا ہے اور نہ ہی کوئی جواب دینے والا۔ ہم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ لاکھوں معصوموں کے مقدس خون کی قربانیاں کیوں رنگ نہیں لارہی ہیں اور بقول فیض
ارض وطن کے چہرے کو گلنار کرنے کیلئے اور کتنا لہو چاہئے
ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں جب بھی خون کی ارزانی ہوتی ہے تو پتہ نہیں کیوں ہم پرامید ہوجاتے ہیں کہ آزادی کی منزل تو اب بس چند قدم ہی رہ گئی ہے لیکن
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلے ہیں کہ کم نہیں ہوتے
5ہم یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ دنیا کشمیریوں کے قتل عام پر خاموش کیوں ہے؟ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر جو کشمیریوںکے حق میں ہیں ان پر عالمی ضمیر کو چپ کیوں لگی ہوئی ہے؟ بہتر ہے کہ ان سوالات کے جوابات دوسروں سے پوچھنے کے بجائے ہم خود ان سوالوں کے جوابات اپنے اپنے من سے پوچھیں کہ تزکیہ نفس تو اپنے من سے سوال کرنے اور اس کے درست تجزیہ کرنے کا ہی نام ہے اور یہ انفرادی تزکیے قومی سطح پر قومی خارجہ پالیسی کے ”قومی تزکیہ” کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
میرے خیال میں کشمیریوں کا گُل رنگ لہو اس وقت تک بہنے سے نہ رکے گا اور نہ ہی اس کی آبیاری سے آزادی کے پھول کھل سکیں گے جب تک ہم اپنی موجودہ کشمیر پالیسی کا تزکیہ اس طرح نہیں کرینگے جس طرح تزکیہ کرنے کا حکم ہمارے نبی ۖ نے ہمیں دیا ہے۔
کیا وہ وقت نہیں آگیا کہ ہم وسعت قلب کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں تصوراتی مفروضوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں قدم رکھیں اور ہماری وزارت خارجہ اور سیاستدان قومی بیانیے کو نئے سانچے میں ڈھال کر مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی تنازعہ کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کے مسئلے کے طور پر دنیا میں پیش کریں ، کشمیر میں مسلح کارروائیاں کشمیر کی آزادی کو نہ صرف دور کرتی ہیں بلکہ یہ بھارت کیلئے آسانیاں پیدا کرتی ہیں کہ وہ چند مسلح تصاویر دنیا کو دکھا کر کشمیریوں کا خون بہانے کا لائسنس حاصل کرے اور پاکستان کو مورد الزام بھی ٹھہرائے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔
کشمیر سے متعلق ہمیں اپنے گزشتہ ستر سال کی پالیسیوں پر بھی دوبارہ غور کرنا چاہیے اور جہاں جہاں کوتاہیاں یا غلطیاں ہوئی ہیں انہیں تسلیم کرکے نئی راہیں متعین کرنا چاہیے کیونکہ کہتے ہیں انسان غلطیوں سے برباد نہیں ہوتا بلکہ غلطیوں کے اصرار پر اور ان کے دہرائے جانے پر برباد ہوتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں تو غلطی کی گنجائش بھی بہت کم ہوتی ہے۔ کشمیر پالیسی میں قومی مکالمہ عظیم (گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ) شروع کرنا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر پر چند عناصر کی اجارہ داری ختم کرکے قوم کے ہر فرد کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے کہ آخر افراد ملکر ہی قوم کی تشکیل کرتے ہیں اور نبی پاکۖ کا ارشاد ہے کہ میری امت کسی غلط بات پر یکجا نہیں ہوگی ، اختلاف رائے کو ملک دشمنی یا بھارت دوستی کا الزام نہ دیا جائے۔ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اپنے مستقبل کے فیصلے قومی مفاد میں کرتی ہیں۔ اقبال نے کہا تھا کہ
افکار تازہ سے ہے تازہ جہانوں کی نمود
کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
اگرگزشتہ ستر سال سے چلے آنے والے قومی بیانیہ لہو رنگ ہونے کے باوجود نتائج پیدا نہیں کررہا ہے تو کیا اب وہ وقت نہیں آگیا ہے کہ ہم اپنی قومی پالیسیوں کا دوبارہ تزکیہ کریں کہ جو نہ صرف ہماری سوچ کی وسعت کا باعث بنے بلکہ ہمارے جامد قومی بیانیے کو نئی شکل دے جو ڈیڑھ کڑور کشمیریوں کو آزادی اورپرامن زندگی گزارنے کا بنیادی حق دلاسکے اور برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں کو بھی انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرسکے کہ کب تک ہم کشمیر کی آزادی کو صرف پوائنٹ سکورنگ اور نعرہ بازی کی نظر کرتے ہوئے بے گناہ کشمیریوں کے خون کو صرف خبرناموں کی زینت بناتے رہیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>