Published On: Thu, Aug 25th, 2016

مارے کاہن اور قربان ہوتی عوام۔۔!

Share This
Tags

سیف و سبو ۔۔۔۔۔ شفقت نذیر

saf2
ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ہو ا شیوانا (قبل از اسلام، ایران کے ایک مفکر) کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری ماں نے فیصلہ کیا ہے کہ معبد کے کا ہن کے کہنے پر عظیم بت کے قدموں پر میری چھوٹی، معصوم سی بہن کو قربان کر دے۔ آپ مہربانی کر کے اس کی جان بچا دیں۔”
شیوانا لڑکے کے ساتھ فورا معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ عورت نے بچی کے ہاتھ پائوں رسیوں سے جکڑ لیے ہیں اور چھری ہاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رہی ہے ۔ بہت سے لوگ اس عورت کے گرد جمع تھے اور بت خانے کا کاہن بڑے فخر سے بت کے قریب ایک بڑے پتھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت ہے اور وہ بار بار اس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رہی ہے۔ مگر اِس کے باوجود معبدکدے کے بت اور اس کی خوشنودی کے لئے اس کی قربانی بھی دینا چاہتی ہے۔
شیوانا نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رہی ہے۔ عورت نے جواب دیا: “کا ہن نے مجھے ھدایت کی ہے کہ میں معبد کے بت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ہستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں۔”
شیوانا نے مسکرا کر کہا: “مگر یہ بچی تمہاری عزیز ترین ہستی تھوڑی ہے؟ جسے تم نے ہلاک کرنے کا ارداہ کیا ہے۔ تمہاری جو ہستی سب سے زیادہ عزیز ہے وہ تو پتھر پر بیٹھا یہ کاہن ہے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچی کی جان لینے پر تل گئی ہو۔ یہ بت احمق نہیں ہے، وہ تمہاری عزیزترین ہستی کی قربانی چاہتا ہے۔ تم نے اگر کاہن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ہو کہ بت تم سے مزید خفا ہو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنم بنا دے۔”
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچی کے ھاتھ پائوں کھول دیئے اور چھری ہاتھ میں لے کر کاہن کی طرف دوڑی۔ مگر وہ پہلے ہی وہاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ھیں کہ اس دن کے بعد سے وہ کاہن اس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا۔
افسوس ہمارے ہاں کا نظام بھی ایسے ہی کاہنوں کے ہاتھ میں ہے جو بات بات پر صرف ہم سے ہی قربانی مانگتے ہیں ٹیکس دینا ہے تو متوسط طبقے نے ان کے گوشوارے اس مد میں خالی ہیں۔ لوڈ شیڈنگ عوام کے لئے ہے عوام نے ہی قربانی دینی ہے ان کاہنوں کے گھر روشن ہیں ۔ غربت ، بیروزگاری ، بھوک ،افلاس عوام کا مقدر ہیں ۔دولت ،عیاشی،دنیا جہاں کی سہولتیں ان کاہنوں اور ان کی اولادوں کے لیئے ہیں ۔آج کا میرا کالم فقط آگاہی کا ایک پیغام ہے کیونکہ عالم میں صرف آگاہی ہی فضیلت کے مقام پر ہے اور جہالت کو گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ہمیں ان کاہنوں کو پہچاننا ہے جو ہمیں سب سے پیارے ہیں جن کی ہر بات ہم آنکھ بند کر کے سنتے ہیں اور اس پر بے چون و چرا عمل کرتے ہیں یہ ہم سے الیکشن کے دن قربانی مانگتے ہیں اور ہم قربان ہوجاتے ہیں اس دن سے ہماری قربانیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔یہ خود کبھی قربانی نہیں دیتے ۔
جس دن ہم اپنے کاہنوں کو پہچان گئے اور چھری لے کر ان کی طرف لپکے یہ کاہن فرار ہوجائیں گے اور ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے ۔
اس وقت تو آگاہی پھلانے والے کم نظر آرہے ہیں لیکن ایک دن آئے گا جب ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا شاید کسی دن وہ کامیاب ہو ہی جائیں اور یہ کاہن بھاگنے پر مجبور ہوجائیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>