Published On: Mon, Feb 6th, 2017

لبرل طالبان

Share This
Tags

Artam 5قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کیلئے مختلف طرزِ کلام اور طریقوں کواپنایا ہے اس میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سابقہ انبیائِ کرام اور گزری تہذیبوں کے واقعات بیان کیے گئے۔ اگر ہم ان قصائص کا مطالعہ کریں تو دوچیزیں ابھر کر سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ انبیائِ کرام کے پیغام پر اُن اَدوار کے غلام، غریب اور مظلوم لوگ ہی ایمان لائے اور انبیاء کرام کا ساتھ دیا جبکہ ان اَدوار کے سرمایہ داروں، بالادست اور استحصالی طبقات نے انبیاء کرام کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگیں کیں۔ قرآن پاک کے پیغام کو دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے نبی ۖ کو اس لئے مبعوث فرمایا کہ آپۖ انسانیت کی گردن سے ان بوجھل سلوں کو اتاریں جن کے نیچے انسانیت کراہ رہی تھی اور ان کے پائوں سے ان بیڑیوں کو اتار پھینکیں جنہوں نے انسانیت کو جکڑا ہوا تھا۔ تو اسلام کا یہ آفاقی پیغام انسانی مساوات، انسانی آزادی، غلامی کے خاتمہ، عدل اجتماعی اور معاشرتی انصاف کا قیام عمل میں لا کر انسان کو ‘احسن التقویم’ کے رتبۂ بلند پر سرفراز کرنے کیلئے آیا تھا ماضی میں ملوکیت جب اس پیغام کا مقابلہ نہ کر سکی تو اس نے اسلام پر تسلط جما کر اسے یرغمال بنا لیا اور خلیفہ کا تصّور جو خدمت انسانی کے حوالہ سے تھا اسے ‘ظل الہیٰ’ کا درجہ دے کر معاشرے میں جبر کی قوتوں کو دوبارہ دوام بخشا او ر انسان کو پھر انسان کی غلامی میں دے دیا گیا۔ آج کی دنیا میں اگر ہم اسلام اور مسلمانوں کا جائزہ لیں تو آج بھی اسلام کو بین الاقوامی اور ملکی سرمایہ دارانہ استحصالی نظام نے یرغمال بنا رکھا ہے اور اس کے لئے اس نے دو طرفہ طریقۂ کار اپنایا۔ معاشرے میں مذہب کے نام پر ایک انتہا پسند سوچ کو پروان چڑھایا گیا جو شکل وصورت یا لباس تک کے کسی فرق کی بنیا د پر بھی کسی انسان کو قتل کر سکتے ہیں اور اس انتہا پسندانہ کلچر کی ترویج کیلئے مصعوم بچوں کوبھی استعمال کیا جا رہا ہے، جنہیں جنّت، حوریں اور بہت سے سہانے خواب دکھا کر ان سے قتل و غارت گری کا کام لیا جاتا ہے معاشرے میں ایسا خوف پیدا کر دیا گیا کہ سامراج کو چیلنج کرنے والی عوام کی آواز دب کر رہ گئی ۔ جس کی وجہ سے مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کیلئے ملکی اور غیر ملکی استحصالی طبقات کو پھلنے پھولنے کا پورا پورا موقع مل رہا ہے اور اس خوف کی فضا میں ان استحصالی طبقات کے خلاف کوئی تحریک اور کوئی سوچ پیدا نہیں ہو سکتی۔
دوسرا طریقۂ کار یہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ جدید پڑھے لکھے نوجوان جو مذہب کے نام پر ان کے قابو میں نہیں آرہے ہیں انہیں لبرلزم کے نام سے مذہب سے ہی سے برگشتہ کر دیا جائے۔ کتاب، وحی،خدا تعالیٰ کی ذات اور مذہب پر شکوک پیدا کر کے، قرآن پاک میں دی گئی ان سچائیوں کو ان تک پہنچنے سے روکا جائے جو سچائیاں استحصالی طبقات کے انسانیت کے خلاف جرائم کو بے نقاب کرتی ہیںتا کہ وہ ان سوچوں سے بھٹک جائیں اور وہ اس بنیادی شعور سے ہی محروم ہو جائیں جو یہ کتاب مبین انسان کو انسان کی غلامی سے چھڑانے کے لئے لائی تھی جس کتاب میں انسانی حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف غریبوں کو آواز اٹھانے کی تلقین کی گئی۔ جس کتاب میں دولت کے ارتکاز کے ان تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے جو معاشرے میں چند لوگوں کو سرمایہ دار اور عوام کی اکثریت کو غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک کر انہیں بنیادی انسانی ضروریاتِ زندگی سے ہی محروم کر دیں۔ جدید نسل کو اس ‘کتابِ مبین’ سے یا تو برگشتہ کر دیا جائے یاکہ اس کی ایسی توضیع کر دی جائے جو ملکی اور غیر ملکی گماشتہ استحصالی طبقات کے لئے چیلنج نہ بن سکے اور اس طرح اس آخری کتاب کا وہ پیغام ہی مسخ کر دیا جائے جو ظلم کی ہر شکل کو مٹانا چاہتا ہے۔ جاگیرداری نظام کو خدائی تقسیم قرار دے کر ہاریوں اور مزارعین کو خدا کی زمین پر حق ملکیت سے محروم کر کے ”اَلْاَرْضُ لِلّٰہِ” کے تصور کو ہی مٹا دیا جائے۔ جدید تعلیم یافتہ نسل کی ان سوچوں کو منجمد کر دیا جائے تاکہ وہ نئی صنعتی غلامی کے خون آشام پنجوں کو سمجھ ہی نہ سکیں جدیدیت کے نام پر اسلام کے انقلابی پیغام کو ان کے قلوب و اذہان تک پہنچنے ہی نہ دیا جائے تاکہ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کسی نئے سماجی انقلاب کا پیش خیمہ نہ بن سکیں انہیں قرآن سے بیزاری کی صورت میں اس بنیاد سے ہی ہٹا دیا جائے۔ جس کے پیغام کی روشنی میں وہ نئے اجالوں کے خواب دیکھ سکیں اور استحصالی طبقات کیلئے خطرہ بن سکیں۔ ان تصورات کی بنیاد پر ملک کے سرمایہ درانہ استحصالی طبقات اب ملک میں ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کھیپ تیار کر رہے ہیں جنہیں ہم ‘لبرل طالبان’ کہہ سکتے ہیں اسلامی حدود و قیود کو توڑتی ہوئی آزاد خیالی اور مذہب سے بیزاری کا طریقہ استعمال کر کے ان سے بھی اسی طرح کا کام لیا جا رہا ہے جس طرح داعش اور نوجوان طالبان سے مذہب کے نام پرسرمایہ دارانہ استحصالی نظام کی بقاء کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لبرل طالبان سے یہ کام بھی لیا جا رہا ہے کہ ان کے ذریعہ اسلام کی وسعت نظری حقیقی روشن خیالی وحدت انسانیت انسانیت نوازی اور مساواتِ انسانی کے تصورات کو گہنا دیا جائے تاکہ اسلام کے انسانی، معاشرتی اور معاشی تصورات تک آج کی پڑھی لکھی نوجوان نسل رسائی حاصل نہ کر سکے جس کے ذریعے وہ حقیقی استحصالی طبقات کا ادراک کر سکیں اور استحصال کی ان صورتوں کو پہچان سکیں جو امیر کو امیرتر اور غریب کو غریب تر بنانے،ارتکاز ِدولت، جاگیرداری اور نئی صنعتی غلامی کے ذریعے سرمایہ داروں کے ہاتھوں محنت کشوں کے استحصال کی بنیاد ہیں بلکہ وہ صرف روبوٹ کی طرح سرمایہ داروں کے منافع کا حساب کتاب اور ان استحصالی ہتھکنڈوں میں صرف مشینی اوزاروں کی طرح استعمال ہو سکیں۔ استحصالی طبقات کے خلاف عوامی جدوجہد کو مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کر دیا گیا، ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ داروں اور مقامی استحصالی طبقات کے پیدا کردہ مذہبی طالبان ہوں یا جدید لبرل طالبان ، دونوںکا طریقہ کار مختلف ہے لیکن مقصد ایک ہے وہ یہ کہ اسلام کی انسانی آزادی اور مساوات کی حقیقی روح کو مسخ کرنا ، بین الاقوامی سامراج کے لیے دنیا کے قدرتی وسا ئل پر قبضہ کو آسان بنانا ، پاکستانی استحصالی طبقات کے لیے نظامِ جاگیرداری اور سرمایہ داری کی بقاء کا اہتمام کرنا، سو پاکستانی قوم کو “لبرل طالبان “کا اضافہ مبارک ہو۔
بقول احمد ندیم قاسمی:
امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بَہ حیلہء مذہب کبھی بنامِ وطن

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>