Published On: Thu, Oct 6th, 2016

عورت ۔ دیوی سے داسی تک

Share This
Tags

riaz (از: ریاض اختر)
عورت ایک ایسا موضوع ہے جس پر اب تک بے شمار مضامین اور کتابیں تحریر ہو چکی ہیں تاہم ہر مصنف اور مقرر کی بات، دلیل اور سوچ نے بحث کے مزید دروازے وا کیے ہیں۔ اہلِ علم طبقہ بخوبی آگاہ ہے کہ قدیم دور میں عورت کو دیوی سمجھ کر پوجا جاتا تھا، آج وہ پاتال میں گری نظر آتی ہے۔ یہ کایا پلٹ اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ اس کے پسِ پشت طویل تاریخی مراحل ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی کا جائزہ لیا گیا ہے کہ عورت دیوی کے مقام سے زوال پذیر ہوتی ہوئی داسی کے ادنیٰ درجے پر کیسے پہنچی۔مختلف علاقوں اورزمانوں کی دیومالائی داستانوں کے مطابق قدیم زمانے میں عورت کو الوہی مقام حاصل تھا۔ وہ کائنات کی خالق، حیات و ممات کی ذمہ دار ہونے کے ساتھ افزائشِ نسلِ انسانی اور افزائش ِ اشیائے حیات بھی اس کے دائرۂ اختیار میں تھی۔ ان اساطیر کی رو سے کائنات میں عورت ہی کی تخلیقِ اولیٰ تھی جو وہ اپنی قوت کے بل بوتے پر، بغیر کسی اور کی اعانت کے، کائنات میں ظہور پذیر ہوئی۔ اس نے اپنی قدرت کو بروئے کار لاتے ہوئے کائنات کی ہر شے پیدا کی۔ وہ صرف تخلیق پر قادر نہیں تھی بلکہ تباہ کن اثرات بھی اس کی ناراضی کا باعث تھے۔طویل زمانوں کے بعد اس نے اپنی مدد کے لیے دیوتائوں کی تخلیق کی اور انہیں خاص دائرہ کار میں خدمات بجا لانے پر مامور کیا۔اساطیر میں خالق دیوی یا دیویوں کو ”ماتا ” یعنی ماں کا درجہ دیا گیا کیونکہ ہر شے اس کے اشارۂ ابرو کی مرہونِ منت تھی۔ ان دیوتائوں میں چند ایسے بھی تھے جو اپنے علاقے میں 09اگرچہ انتہائی بااختیار اور صاحبِ عظمت و جبروت تھے مگر درحقیقت وہ اپنی قوت کے لیے دیوی ماتا کی خوشنودی کے مرہونِ منت تھے۔ تاریخ اس ضمن میں خاموش ہے کہ دیوی ماتا کی حکومت کتنے عرصہ پر محیط تھی تاہم اندازہ ہے کہ یہ چند برسوں یا صدیوں کا معاملہ نہیں تھا۔ اسی عرصہ میں انسان کی تخلیق ہوئی۔ نسلِ انسانی کی ابتدا کے متعلق یونانی دیو مالا میں زئیس کا نام اپنی عظمت اور قوت کی بنا پر کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اس نے کائنات پر اپنی حکومت اور اقتدار مستحکم کرنے لیے اپنے دیوتا بھائیوں سے جنگیں کیںاور بالآخر کامیاب ہوا۔ جن بھائیوں نے اس کا ساتھ دیا تھا انہیں مختلف امور سونپے گئے۔ زئیس نے اپنے بھائیوں پرومیتھیئس اور ایپی میتھیئس (Prometheus, Epimetheus ) کو دنیا میں مختلف انواع کی تخلیق کا کام سپرد کیا۔ انہوںنے ہر قسم کے جانور، پرندے، پھل پھول اور ندیاں دریا، پہاڑ پیدا کرنے کے بعد انسان کو بھی پیدا کیا۔پرومیتھیئس نے انسان کی سہولت کے لیے آگ چرائی جس پر زئیس چراغ پا ہو گیا۔ اس نے اپنے بھائی کو تو زنجیروں میں باندھ کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر پھینک دیا جہاں ایک گدھ سارا دن اس کا گوشت نوچتا، رات کو زخم بھر جاتے، اگلی صبح پھر سے یہ سزا شروع ہو جاتی۔ ادھر زئیس نے انسان کو بھی سزا دینے کی ٹھانی کہ اب وہ دیوتائوں کی مخصوص آگ سے سہولت اٹھا رہا تھا۔ یہیں سے دیوی ماتا یعنی عورت ذات کا زوال شروع ہوا۔ ہوا یہ کہ زئیس نے ایک خوبصورت، نازک اندام ،دل موہ لینے والی مگر مکار اور دروغ گو مخلوق، یعنی عورت کو پیدا کیا۔ ہر دیوتا نے اسے کسی نہ کسی خوبی سے متصف کیااور اسے دنیا میں بھیج دیا ۔ اس کا نام پنڈورا رکھا گیا، یعنی ”ہمہ تن تحائف”۔ دنیا میں بھیجتے وقت زئیس نے اسے ایک مرتبان دیامگر اس تاکید کے ساتھ کہ اسے کھولنا نہیں۔ اس میں دنیا بھر کے آلام، دکھ اور تکالیف بھری تھیں۔ زمین پر آنے کے بعد پنڈورا نے متجسس ہو کر مرتبان کا منہ کھول کر دیکھنا چاہا کہ اس میں کیا ہے۔ جیسے ہی ڈھکن اٹھا، تمام دکھ درد اور مسائل مرتبان سے باہر آ گئے اور یوں زئیس نے انسان سے آگ استعمال کرنے کا انتقام لیا۔ کہنے کو تو یہ ایک داستان اور روایت ہے مگر اس کی تہہ میں پوشیدہ پیغام انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ تاریخ میں پہلی بار پنڈورا کا تذکرہ مشہور یونانی شاعر ہیسیوڈ (Hesiod) نے کیا تھاحالانکہ اس سے قبل اس کا ذکر کسی داستان میں نہیں ملتا۔ہیسیوڈ کازمانہ چھٹی ساتویں صدی قبلِ مسیح کے دوران بتایا جاتا ہے۔ محققین کی رائے میں اس نے دانستہ اپنی شاعرانہ اپچ اور رفعتِ خیالی سے کام لے کر پنڈورا کے قصے کو دیومالا کا حصہ بنا دیاجو آج تک مشہور و معروف ہے۔ ہیسیوڈ کا مقصدتھا کہ دیویوں کے مقابلہ میں دیوتائوں کو برتر مقام دیا جائے اور دیوی، یعنی عورت ذات سے ہر قسم کی مکاری، دھوکہ دہی، ایذا رسانی اور تکلیف منسوب کر دی جائے، جس میں وہ کامیاب بھی ہوا۔ یہاں پر ہم ایک اور یونانی شاعر ہومر (Homer) کا ذکر بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔ اس کا زمانہ 800 ق م سے 701 قبلِ مسیح سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اہم کتابیں ایلیڈ اور اوڈیسی(Iliad, Odyssey) آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ اس نے زمانۂ قدیم میں رونما ہونے والے واقعات اور داستانوں کا ذکر کیا ہے ۔ اگرچہ ان میں مافوق الفطرت باتیں بھی شامل ہیں تاہم پنڈورا کا کہیں سراغ نہیں ملتا۔ اس نے جا بجا عورت کی برتری اورعظمت کا تذکرہ کیا ہے شاید اسی بنا پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان منظومات کا خالق ہومر نہیں بلکہ کوئی عورت ہے۔ تاہم کہنا یہ ہے کہ ایک صدی بعد پنڈورا کو داستانوں میں شامل کرنا یقیناً جدت اور عورت کو کمتر، ہیچ اور مردوں کے مسائل و مشکلات کی بنیاد بنانے کی دانستہ کوشش تھی۔قدیم داستانوں میں ایمیزون خواتین کا بھی بکثرت ذکر ہوا ہے۔ان کی تاریخی حیثیت مشکوک ہے تاہم ایک طبقہ ان کے وجود کو حقیقت سمجھتا ہے۔ یہ عورتیں مرد دشمنی اور ان سے نفرت کی درخشاں مثال ہیں۔ان سے منسوب قصوں کے مطابق یہ عورتیں جنگجو تھیں اور ہر جنگ میں مردوں کا قتلِ عام ان کا دلپسند مشغلہ تھا۔جو مرد قیدی بنائے جاتے ان سے جنسی تلذذ اور خدمت گزاری کا کام لیا جاتا۔جنسی وصلت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بیٹے متعلقہ قبائل کو بھیج دیے جاتے جبکہ بیٹیوں کی پرورش اپنے انداز میں کرتیں۔ سوال ایمیزون عورتوں کے ہونے نہ ہونے سے متعلق نہیں، صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ عورت کو بالکل ایک منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، یعنی ظالم، خون آشام، قاتل اور نسوانی اوصاف سے محروم۔ ہیسوڈ اپنی مندرجہ بالا کوشش میں کامیاب ہوا کیونکہ رفتہ رفتہ دیوی کو اقتدار کے سنگھاسن سے معزول کرکے دیوتا کی بیوی اور خدمت گزار بنا دیا گیا۔ اب ہر معاملہ میں مرد دیوتا ہی مختارِ کل تھا۔اس کے اثرات یونانی شعراء اور ڈرامہ نگاروں کی نگارشات میں وافر پائے جاتے ہیں۔ عورت قابلِ تعظیم ہستی کی بجائے مرد کی غلام بن گئی۔یونانی مورخ ہیروڈوٹس کا مطالعہ کریں تو عورت ہر جگہ دکھائی دیتی ہے جبکہ پانچویں صدی قبلِ مسیح کے نامور یونانی مورخ تھیوسی ڈائیڈ کے ہاں ان کا ذکر تک نہیں۔ یونانی ڈرامہ نگاروں ارسٹوفینز اور اسکائی لس (دونوں کا زمانہ بالترتیب چوتھی اور پانچویں صدی قبلِ مسیح) نے اپنے ڈراموں میں عورت کی منفی تصویر پیش کی ہے۔ جیسے جیسے زمانہ آگے بڑھتا رہامردوں میں احساسِ برتری بھی زیادہ ہوتا گیا۔ ماں کو محض ایک آلۂ کار اور مرد کے نطفے کی پرورش کا وسیلہ سمجھا گیا کہ بچے کی پیدائش میں اس کا کوئی کردار نہیں۔ زئیس کی مانند اپالو دیوتا بھی ہمہ قوت تسلیم کیا گیا۔ ایک یونانی ڈرامہ میں اس کے منہ سے کہلوایا گیا ہے کہ ”بچے کو جس ماں سے منسوب کیا جاتا ہے وہ اس کی ماں نہیں۔ وہ تو ایک دایہ ہے جو مرد کے ڈالے ہوئے بیج کی پرورش کرتی ہے،بچے کو جنم دینے والا تو حقیقت میں مرد ہے”۔ گویا یہاں پر ماں کی کردار کی نفی کر دی گئی۔ یہ بات صرف داستان تک محدود نہیں بلکہ ارسطو جیسا فلسفی بھی یہی کہتا ہے کہ عورت تو مرد کے بیج کو سنبھالنے کا ایک برتن ہے، اور یہ کہ وہ رح سے بالکل تہی ہے۔ اس تعلیم کی صدائے بازگشت متعدد یونانی فلسفیوں کے ہاں پائی جاتی ہے۔ایسی تعلیمات کا نتیجہ عورت کی زبوں حالی اور غلام سے بدتر زندگی تھی۔ وہ محض جنسی کھلونا بن گئی جس کا کام بچوں کو پیدا کرنا تھا۔ اس کے فرائض بے انتہا تھے مگر حقوق عنقا۔اب اسے گھر کی چاردیواری میں محبوس رکھا جانے لگا۔تعلیم سے دور، رشتہ داروں سے قطع تعلق اور بے چارگی اس کی زندگی تھی۔ ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب عورتوں کو ایتھنز کی شہریت سے بالکل محروم کر دیا تھا اور یوں انہیں غلاموں کے برابر سمجھا گیا کیونکہ غلام بھی حقِ شہریت سے محروم تھے۔ پھر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ آئندہ سے کوئی بچہ اپنی ماں کی مناسبت سے جانا نہیں جائے گا۔ یہ صورتِ حال صرف یونان میں نہیں تھی بلکہ مصری اور رومی تہذیبیں بھی عورتوں کو کچل رہی تھیں۔ اگرچہ کہیں کہیں عورتوں کی آواز سنائی دیتی ہے مگر ایسی مثالیں آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ من حیث المجموع معاشرے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ادھر ہم جب ہندو دھرم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک جانب کچھ مذہبی رسوم میں بیوی کی موجودگی لازمی ہے جبکہ منو سمرتی میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ عورت کبھی بھی آزاد اور خود مختار نہیں ہو سکتی۔ شادی سے پہلے وہ باپ کی محتاج، شادی کے بعد خاوند کی اور بیوہ ہونے کے بعد لڑکوں کی ماتحتی میں زندگی گزارتی ہے۔ویدوں کے مطابق بیوہ پرلازم ہے کہ خاوند کی چتا میں جل کر اپنی وفاداری کا ثبوت دے، اور ایسا کرنا اس کا مذہبی فریضہ ہے۔ اگر کسی وجہ سے وہ ستی نہ ہو پائے تو اس پر بے انتہا پابندیاں عائد ہوتی ہیں مثلاً، سرمہ مسی نہ کرنا، خوشی کی تقریب میں عدمِ شرکت، گھر کے کونے میں زندگی بسر کرنا، سر پر تیل نہ لگانا اور بعض صورتوں میں سر کے بال منڈوانا،اچھا کھانے سے پرہیز اور وہ بھی سب سے الگ تھلگ، زمین پرسونا وغیرہ۔ المختصر ، بیوہ سے انسان ہونے کا حق چھین لیا گیا۔یہ کس قدر ستم ظریفی اور عورت ذات سے ظالمانہ مذاق ہے کہ جس مندر میں دیوی کی پوجا ہوتی ہے وہیں عورت کو دیوداسی کا درجہ دے کر اسے جنسی کھلونا سمجھا جاتا ہے اور وہ پجاریوں اور دولت مندوں کی ہوسِ بدنی کی تسکین کرتی ہے۔بدھ مت، جین مت اور زرتشت کی تعلیمات میں بھی عورت سے نفرت اور دوری کی تلقین کی گئی ہے۔یہی حال مشرقِ بعید میں تائو مت، کنفیوشس اور دیگر فلسفیوں کی تعلیم کا ہے۔ عورت کو کہیں بھی باعزت مقام نہیں دیا گیا۔الہامی مذاہب کی آمد کے بعد توقع تھی کہ عورتوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ اگرچہ عہد نامہ عتیق اور انجیل میںعورت کو انسان سمجھتے ہوئے مقامِ تکریم دیا گیا مگر افسوس کہ تحریفات نے یہودیت اور عیسائیت کی اصل تعلیم مسخ کر دی۔ عورت کی تخلیق کا ذکر تو ہر زبان پر ہے، حتیٰ کہ مسلمان بھی اس پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ قرآن اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے۔ توریت نے عورت کو خطا کار کہتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آدم کی تکالیف اور جنت سے نکالے جانے کا باعث حوا، یعنی عورت ہے۔یہودی مذہبی عالم گنزبرگ کا مطالعہ کریں تو تعجب ہوتا ہے کہ کس طرح حوا کو (نعوذ باللہ) لعنتوں اور ملامتوں کا نشانہ بنایاگیا ہے۔اس کا زورِ قلم اس نکتہ پر ہے کہ آدم کو مشکلات اور مصائب میں مبتلا کرنے والی عورت ذات ہے۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہودی علماء اور ربییوں کی کتابوں میں للتھ نامی ایک عورت کا ذکر پایا جاتا ہے جو اسرائیلی خرافات کے مطابق حضرت حوا سے پہلے پیدا کی گئی تھی مگر اپنی ضد اور آدم سے برابری کی دعویدار ہونے کے باعث آدم کو چھوڑ کر چلی گئی اور انتقام کے طور پر مردوں کو ہوس رانی پر اکساتی ہے۔تعجب ہے کہ الہامی مذہب ہونے کے باوجود ایسی من گھڑت باتیں یہودیوں کی مذہبی کتابوں کا حصہ ہیں۔ ان سے سوائے عورت سے نفرت کرنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اگر اس داستان کو قدیم دیویوں ، آئسس، وینس اور مائیلیتا وغیرہ کی اخلاق باختگی کے حوالے سے دیکھیں تو ہمیں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ وہ دیویاں بھی عصمت لٹانے اور مردوں سے جسمانی تعلقات کے سلسلہ میں مشہور بھی تھیں اور اپنے مقلدین کو بھی یہی تلقین کرتی تھیں۔ ظاہر ہے ایسی تمام خرافات مردوں کی تخلیق کردہ ہیں جن کا مقصد بہر طور عورت ذات کو عصمت باختہ اور فاحشہ ثابت کرنا ہے تاکہ معاشرے میں ان کی رہی سہی عزت بھی روندھی جائے۔ عورت کو حقیر جان کر باجماعت نماز میں بھی اس کی شمولیت پر پابندی لگا دی گئی۔ جماعت کے لیے کم از کم دس افراد کا ہونا لازم ہے ۔ کمی کو پورا کرنے کی خاطر بچے یا غلام کو شامل کر لیا جاتا ہے مگر عورت کو اجازت نہیں۔ عبادت میں یہودی مرد دعا ئے شکرانہ ادا کرتے ہیں کہ ” ربِ کائنات کا احسان کہ مجھے عورت نہیں بنایا”۔ گویا عورت ہونا باعثِ شرم و ندامت ہے۔ایک نظر انجیل کو دیکھیں تو اس میں عورت سے نفرت کی تعلیم نہیں ملتی مگر جب ہم سینٹ پال کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک نیا جہان نظر آتا ہے۔چونکہ سینٹ پال کی تعلیمات انجیل کا جزوِ ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر عیسائیت کو مکمل نہیں سمجھا جاتا اس لیے ہم اسے نظر انداز بھی نہیں کر سکتے۔ اس کے تتبع میں کلیسا نے عورتوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیں اور انہیں اس نفرت انگیز صورت میں پیش کیا کہ ان کی ذات انسان کے لیے دھبہ بن گئی۔ سینٹ پال کی تعلیم ہے کہ ”اگر تیرے بیوی نہیں ہے تو بیوی کو تلاش نہ کر….. بیاہی اور بے بیاہی میں بھی فرق ہے ۔ بے بیاہی خداوند کی فکر میں رہتی ہے تاکہ اس کا جسم اور روح دونوں پاک ہوں”۔ بالفاظ دیگر عورت کے روح اور جسم کی پاکیزگی اس کے کنوارے پن میں ہے۔پال کی تعلیمات سے علم ہوتا ہے کہ وہ عورت کو گناہ کا سرچشمہ سمجھتا اور کہتا ہے۔علاوہ ازیں ” عورت کو چپ چاپ کمالِ تابعداری سے سیکھنا چاہیے، اور میں اجازت نہیں دیتا کہ عورت سکھائے یا مرد پر حکم چلائے”۔ایک اور جگہ کہا گیا ہے کہ ”بیوی اپنے شوہر سے ڈرتی رہے”۔ تیسری صدی عیسوی کے ایک اہم کلیسائی رہنما ترتولیاں عورت کے بارے میں گل افشانی کرتا ہے ” کیا تم جانتی ہو ہر عورت حوا ہے؟خدا کی طرف سے تمہیں دی گئی سزا آج بھی باقی ہے۔ تم شیطان کا دروازہ اور شجرِ ممنوعہ کی غدار ہو۔ تم نے خدا کی شبیہ کو توڑ دیا”۔یہی تعلیم نسل در نسل پھیلتی رہی اور لوگوں کا عقیدہ مضبوط ہو گیا کہ عورت واقعی قابلِ نفرت ذات ہے۔تیرھویں صدی عیسوی کے ایک عیسائی مذہبی رہنما البرٹ دی گریٹ نے کہا ”عورت مرد کے مقابلہ میں اخلاقی طور پر کمتر ہے ۔ وہ وفاداری پر بالکل یقین نہیں رکھتی ۔ اگر تم اس پر اعتماد کرو گے تو تم مایوس ہو گے ۔ اس لیے سمجھدار لوگ بیویوں سے اپنے منصوبے چھپاتے ہیں اور ان کی رائے نہیں لیتے۔….. عورت جو کچھ حاصل نہیں کر سکتی اسے جھوٹ اور فریب سے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔…وہ زہریلے سانپ اور سینگوں والے شیطان کی مانند ہے،عورت کے جذبات اسے ہمیشہ برائی کی جانب لے جاتے ہیں”۔ عورت کے بارے میں ایک مذہبی رہنما کی ایسی رائے پڑھ کو کیا اسے قابلِ نفرت نہیں سمجھا جائے گا؟چودھویں اور پندرویں صدی عیسوی میں عورتوں پر تو ظلم ا ستم کی انہتا ہو گئی جب انہیں ساحرہ اور جادوگرنی قرار دے کر اذیت ناک موت دی جانے لگی۔ ان برسوں میں بقول ایک جرمن مصنفGottfried Christian Voigt تقریباً نوے لاکھ عورتوں کو سزائے موت دی گئی۔صدیوں تک عیسائی دنیا کلیسائی رہنمائوں کی تعلیمات کے سبب عورت کو غلیظ، قابلِ نفرت، گناہوں کی پوٹ اور انسان کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی۔ کیتھولک مذہب کی سخت گیری اور ناروا پابندیوں کے ردِ عمل میں پروٹسنٹ تحریک کی ابتدا ہوئی ۔ عیسائیت میں رائج شدت پسندی کی بجائے حقیقی عیسائیت کی تبلیغ اس کا مقصد تھا۔ نئے مسلک نے کلیسا کی اجارہ داری اور انجیل کی من چاہی تاویل کی زنجیریں توڑنا چاہی۔ رومی عہد سے عورت کو انتہائی کمتر سمجھنے کی روش ابھی تک جاری تھی۔ The Religion of Woman نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا کہ عورت کو اپنی عزت کے حصول کے لیے دو ہزار برس انتظار کرنا پڑا۔ پروٹسٹنٹ ازم نے اگرچہ عورتوں پر عائد کچھ پابندیاں کم یا ختم کر دیں اور انہیں معاشرے میں بہت حد تک مقامِ تکریم سے نوازا گیا تاہم یہ تبدیلی دیر پا ثابت نہ ہوئی۔فی الحقیقت عورت کوصدیوں سے کمتر ، گناہ گار اور شہوت کی دیوی اس تواتر اور شدت سے کہا اور وہ بھی کلیسا کی جانب سے کہ لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے نفرت تناور درخت بن گئی۔ خود عورت نے بھی اپنے بارے میں یہی گمان کر لیا کہ اس کی وجہ سے دنیا مصائب و مسائل کی آماجگاہ بنی ہے اور یہ کہ اس کی نجات مردوں اور کلیسا کی ازحد تابعداری میں ہے۔ کتنے تاسف اور تعجب کی بات ہے کہ روشن خیالی اور فروغِ علم کے دور میں بھی ایسے ہی خیالات اور روایات پنپتی رہیں۔ جرمن فلسفی ہیگل کی نظر میں عورت کیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ” عورت ذات! سماجی زندگی کی دائمی ستم ظریفی…… اپنی چالبازیوں سے حکومت کے عالمی مقصد کا رخ اپنے فائدے کی طرف موڑ دیتی ہے”۔ایک اور فلسفی شوپنہار کے خیال میں”حرمتِ نسواں کے بارے میں ایسے نظریات (یعنی احترام اور شجاعت)انہیں مزیدمتکبّر اور خود سر بنانے کے موجب ہیں۔ یہ دیکھ کر ہمیں بنارس کے وہ بندر یاد آ جاتے ہیںجو بزعمِ خویش اپنے آپ کو مقدس اور واجب الاحترام سمجھتے ہیں ”۔ وہ عورت کو ”منطق اور قوتِ ادراک میں ازروئے فطرت ناقص”سمجھتا ہے جو ”اپنی ذہنی قوت اور عیاری پر انحصار کرتی اور اپنی مکارانہ جبلت سے کام لیتی ہے”۔ایک اور مشہور فلسفی نٹشے کہتا ہے کہ عورتیں ابھی بلیاں یا پرندے، اور زیادہ سے زیادہ گائیں ہیں۔وہ عورتوں کو مردوں کی تفریح طبع کا ذریعہ کہتے ہوئے مردوں کو مشورہ دیتا ہے کہ عورت کے پاس جا رہے ہو تو اپنا چابک لے جانا مت بھولنا۔ ان چیدہ چیدہ روایات اور واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عیسائیت میں صدیوں کی عورت سے نفرت پر مبنی تعلیم کس قدر دیر پا اور مستحکم ہو چکی ہے کہ آج کے انتہائی تعلیم یافتہ دور میں بھی عورت کو احترام کے قابل نہیں سمجھا گیابلکہ عیاشی اور جنسی تلذذ کا سبب بنایا گیا ہے۔اسلام کی آمد نے ظلم و ستم اور بے چارگی کے عالم میں بسنے والی عورت کو زمین سے اٹھا کر باعزت مقام عطا کیا۔ کلامِ الہٰی اور صحیح احادیثِ نبوی میں متعدد بار اس کا اعادہ ہوا ہے، تاہم بعد ازاں اسلام کے نام پر، اور قرآن و حدیث کی تشریح کرتے ہوئے زیادہ تر مسلمان علماء نے بھی وہی روش اپنائی جو یہودی اور عیسائی عالم اختیار کر چکے تھے۔ انہوں نے بھی تقریباً ہر دور میں عورت کو زیادہ سے زیادہ پابند کرنے، حصولِ علم پر قدغن لگانے، سماجی اور سیاسی معاملات میں شرکت کی ممانعت اور بعض ادوار میں ان کے باہر نکلنے پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ ان اقدامات کا جواز ایک ہی تھا کہ اسلام میں اجازت نہیں کیونکہ عورت کا وجود ”عورة” ، یعنی پوشیدہ جنس ہے بلکہ اس کی آواز بھی عورة ہے۔پھر مختلف تاویلات کے ذریعہ عورت کو باور کرانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ وہ مرد کے مقابلہ میں کمتر مخلوق ہے اور یہ کہ وہ تمام برائیوں اور اخلاقی تنزل کی ذمہ دار ہے۔ یہاں یہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں سے مسلمان علماء عورت کو فتنہ سمجھتے اور کہتے آ رہے ہیں۔مقامِ غور ہے قرآن مجید میں لفظ ” فتنہ” چند ایک مقامات پر ضرور آیا ہے مگر مختلف حوالوں سے۔ کسی ایک میں بھی عورت کو فتنہ نہیں کہا گیا۔اگرچہ اس کے لیے ایک دو احادیث نبوی کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر ان کی آڑ میں عورت دشمنی اور نفرت عیاں ہے کہ جس کا تصور تک رسول اللہ ۖ کے ہاں نہیں تھا۔ تعجب کی بات ہے کہ وہ ہستی جس نے اپنی تعلیمات اور عمل سے عورت کی عظمت اور عزت کو قائم کیا ہو وہ اسے قابلِ نفرت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ تاہم یہ ہوا کی دیگر اسلامی تعلیمات کی طرح اس معاملہ میں بھی علماء اپنی ”مردانہ نفسیات” سے مفر حاصل نہ کر سکے۔ جیّد علمائے کرام کی کتابوں میں ایسی باتیں جا بجا ملتی ہیں جن میں عورت کو احترام کے لائق تو کیا، عام انسان بھی نہیں سمجھا گیا۔مصری عالمِ دین محمد قطب نے اپنی کتاب ”ہل نحن مسلمون ” میں مسلمانوں کے زوال کے متعدد اسباب گنوائے ہیں جن سے اختلاف ممکن نہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے لاتعداد مرتبہ عورت کو ” فتنہ اور دعوتِ گناہ” دینے والی کہا ہے کہ قاری کی نگاہ میں عورت ماں، بہن اور بیٹی تو کیا، ایک انسان نہیں رہتی۔یہی اندازِ فکر ہم لاتعداد مضامین اور کتابوں میں دیکھتے ہیں۔ تعجب ہے کہ صدیوں قبل کے علماء کی مانند آج کے دور میں بھی ان کا پسندیدہ اور اہم ترین مسئلہ اور ہدفِ نظر عورت ہے۔ ہمارا معاشرہ میں روزِ اوّل ہی سے ہندو دیویوں اور روایات کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جیسے سیتا، ساوتری اور دروپدی وغیرہ۔ ہماری بزرگ عورتیں آج بھی انہی روایات کا حوالہ دیتی ہیں مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان دیویوں کو ان کی اپنی زندگی میں قابلِ عزت مقام حاصل نہیں تھا۔ مثلاً سیتا کو اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے ایک بار آگ سے گزرنا پڑااور دوسری دفعہ یہی مطالبہ دہرایا جانے پر اس نے دھرتی ماتا سے اسے اپنی کوکھ میں چھپانے کی درخواست کی جس پر زمین کا سینہ شق ہوا اور سیتا اس میں کود گئی۔ پھر اسی سیتا کو صدیوں سے پوجا کے لائق سمجھا جا رہا ہے۔ دروپدی بیک وقت پانچ بھائیوں کی بیوی تھی اور ساوتری اپنے خاوند کی خاطر متعدد مصائب اور تکالیف جھیلتی رہی۔ آج انہی کرداروں کو عورتوں کے لیے قابلِ تقلید کہا جاتا ہے حالانکہ ہندو مردوں کے معاشرے نے ان کی ذات کو کمتر سمجھا تھا۔اس موضوع پر مستند تصانیف سے لا تعداد حوالے دیے جا سکتے ہیںجن سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو داسی، خادمہ اور غلام بنانے کی شعوری کوششوں کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ابھی تک اس پر طبع آزمائی ہو رہی ہے۔ایک نظر پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل (جس میں غیور بھائی، باپ یا رشتہ دار برق رفتاری سے فرار ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں)، سوارا، ونی، کارو کاری کا کھیل، قرآن سے شادی اور زندہ دفن کرنے کے بے شمار واقعات کو دیکھیں۔ عورت کی کیا حیثیت رہ گئی؟ صدیوں سے پسی اور کچلی ہوئی عورت اب لاشعوری لحاظ سے خود کو واقعی داسی اور کمترین مخلوق سمجھتی ہے کیونکہ اس کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب ہو چکی ہیں۔

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>