Published On: Mon, Jul 18th, 2016

عبایا اور حجاب کو لباس کاحصہ بنائیں

Share This
Tags

عبایا اور حجاب کو اضافی لباس نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے لباس کااس طرح حصہ بنائیں کہ صرف کالج، یونیورسٹی یاشاپنگ وغیرہ کے باہر جاتے ہوئے ہی نہیں بلکہ شادی بیاہ اور دیگر اہم تقریبات میں بھی اسی خود اعتمادی سے پہنیں۔ آپ چاہیں تو حجاب کو سجانے یا اسے فارمل لک (Formal) دینے کے لئے ہیڈ اسیسریز (Head Accessories) بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ اسی طرح عبایا کے ساتھ نیکلس (Necklace) اور ہار وغیرہ پہنے میں بھی کوئی ہرج نہیں۔ آپ ہاتھوں میں بریسلیٹ (Bracelet) یارنگز بھی پہن سکتی ہیں۔ خواتین کی اس دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے میں حجاب کے ساتھ خوبصورت اور دیدہ زیب اسیسریزکا رحجان بھی متعارف ہوا ہے۔اس طرح ہمارے لباس کے نت نئے انداز سامنے آرہے ہیںکہعبایا اور حجاب کے نت نئے رحجانات بھی خواتین میں مقبول ہورہے ہیں۔ اب تو لوگ ایک دوسرے کو منفرد اور جدید طرز پر بنے حجاب اور عبایا گفٹ بھی کرنے لگے ہیں کیونکہ معاشرے میں عورتوں کے پردے کا رحجان اور شعور بڑھ رہا ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں گرمی کاموسم خاصا طویل اور شدید ہوتا ہے اس لئے نیٹ (Net) لان (Lawn شیفون (Chiffon) کورین فیدر لائٹ (Korean Feather Light) اور ملائی جارجٹ کے عبایا حجاب،شالز (Shawls) اور کیپس(Capes ) وغیرہ مقبول ہورہے ہیں۔ چونکہ لڑکیاں نئے نئے رنگ پسند کرتی ہیں اس لئے بلیک (Black) سکن (Skin) اور وائٹ (White) کے علاوہ بھی مختلف کلرز استعمال کرتی ہوں۔ 2016 کی سرکولیکشن میں ہلکے رنگ کے عبایا اور حجاب متعارف ہوئےہیں جن میں آف وائٹ(Off White) یلو (Yellow) گرین (Green)پنک (Pink) پیچ (Peach) بلیو(Blue) بران (Brown) سکن (Sikn) پرپل (Purpal) بلیک (Black) اورنج(Orange) اور پیچ (Peach) وغیرہ۔ شامل ہیں۔ تاہم ینگ لڑکیاں کھلے گھیروالے اے لائن عبایا زیادہ پسندکرتی ہیں تاکہ جسم اچھی طرح ڈھکا رہے۔ آج کل عبایا کے لئے پلین فیبرک ہی نہیں بلکہ فلورل پرنٹس (Floral Prints) بھی کافی ان ہیں اس لئے نہ صرف کرتا شلوارپہنے والی لڑکی بلکہ ناپ اور جینز پہننے والی لڑکی بھی پسند کرتی ہے۔ اسی طرح آج کل لڑکیوں میں شرٹ کی فل سیلوز (Full Sleeves) پہننے کا رحجان عام ہے اس لئے ہلکے رنگوں میں نیٹ کے سلیولیس عبایابھی ڈیزائن کیے جاتے ہیں تاکہ انہیں گرمیوں میں پہننا مشکل نہ لگے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ پہلے بڑی عمر کی خواتین بڑی بڑی چادریں اوڑھ کر گھروں سے باہر نکلا کرتی تھیں، جبکہ لڑکیاں یہ چادریں نہیں سنبھال سکتیں۔ چنانچہ انہی چادروں میں حجاب جوڑکر آستینیں لگالین تاکہ انہیں اوڑھ کرروزمرہ کے کام میں دشواری نہ ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>