Published On: Thu, Aug 25th, 2016

ظلم کا انجام

Share This
Tags

وقت کا حاکم اور اس کا طریقہ سیاست آج کشمیر کے قبرستانوں میں شیخ عبداللہ، بخشی غلام محمد، سید میر قاسم، غلام محمد شاہ اور دوسرے کشمیری قائدین کی شکل میں کشمیر کی خاک میں خاک ہیں۔اس طویل فہindia-kashmir-pakistan-unrest_19f597b8-4a73-11e6-90e0-482a513bad8bرست میں آخری کردار مفتی محمد سعید ہیں جو بھارتی وزیراعظم کی بے پناہ محبتوں کے کفن میں لپٹے اپنے نامہ اعمال کا حساب دے رہیں ہونگے۔ محبوبہ مفتی کشمیر کی بیٹی ہے اور امید تھی کہ تاریخ کے اس مرحلے پر وہ اپنے آپ کو واجپائی کی بے کیفیت اور بے وزن کردی گئی سیاسی اپروچ کو کشمیر میں آگے بڑھا کر کم از کم عام آدمی کی حرمت اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ساتھ ریاست کے مستقبل پر کسی قسم کی لاپرواہی اور سودے بازے نہیں کرے گی۔ایسا لگ رہا ہے کہ محبوبہ مفتی کی زندگی کے تمام دعوے ایک چھلاوا اور دکھلاوا تھے۔ اسے معلوم ہے کہ کشمیر کا ظالم مہاراجہ بھی 24ستمبر1931 کا کرفیو صرف بارہ دن تک برقرار رکھ سکا اور اسے یہ کرفیو 5اکتوبر 1931ء کو اٹھانا پڑا۔ مہاراجہ کشمیر کے کرفیو میںانسانی جانوں کا اس طرح بے دریغ ضیاء نہیں ہوا اور نہ ہی اہل کشمیر پر اسقدر قیامت ٹوت پڑی، 8جولائی سے جاری کرفیو کا مقصد کشمیری عوام کو طاقت کے بے دریغ استعمال پر بے بس کرنے کا جو عمل بھارتی قابض افواج نے سیاسی قائدین کے ایماء پر جاری رکھا ہے اس کی بالآخر کشمیر کی تاریخ کے قبرستان میں کوئی قبر بھی نظر نہیں آئے گی۔ خواتین، بچے ، بزرگ جس حال میں اپنے گھروں میں محصور ہیں اور نوجوانوں کو جس بے دردی کے ساتھ ز ہریلے چھروں سے چھلنی اور نابینا کیا جارہا ہے اس کی مثال کشمیر کی 170سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔بھارتی شہری 31مارچ1959ء تک ریاست میں ایک اجازت نامے کے تحت داخل ہوتے تھے اور بھارتی فوج کشمیر میں عارضی طور ایک عارضی اجازت نامے کے تحت داخل ہوہی ہے۔ اس اجازت میں چار شرائط درج ہیں اور یہ افواج اقوام متحدہ کی طرف سے بھی تین شرائط کی پابند ہیں، سات شرائط کے تابع یہ فوج اور اس کا عارضی اجازت نامہ اقوام متحدہ کے سامنے حتمی فیصلے کیلئے موجود ہے۔ لمحہ موجود میں بھارتی افواج کے کشمیر میںداخلے کا اجازت نامہ بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اور یہ افواج ایک قابض فوج کی تشریح میں آتی ہیں۔ ان کا ہر عمل ایک درانداز کا عمل ہے اور ہر فعل ایک جنگی جرم ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ سارا ہندوستان کشمیر کے عوام پر عائد کی گئی پابندی اور نئی نسل کے قتل عام پر اپنی حکومت کو نہ ہی روک سکا ہے اور نہ ہی مذمت اور مخالفت کی وہ شدت نظر آرہی ہے جو ایک مہذب انسان اور ایک مہذب معاشر ے سے متوقع ہے۔ نریندر مودی اور اس کی سیاسی لے پالک محبوبہ مفتی کے اتحاد کا انجام بھی کشمیر میں ان تمام اتحادوں کی طرح خاک ہوجائیں گے جو آج کشمیر کے سیاسی قبرستان میں کسی پرندے کی چونچ سے گرنے والے خشک پتے کی چھاوئں سے بھی محروم ہیں۔ستمبر2014ء کے تباہ کن سیلاب کی بربادی کے بعد جولائی 2016سے جاری ظلم و ستم کی یہ تباہ کاری بالآخر قدرت کی دیر گیری کے ہاتھوں چڑھے گی اور شاید محبوبہ مفتی کو کشمیر میں دو گز زمین بھی نصیب نہ ہو۔ اس ظلم کے بعد کشمیری مسلمان اور عام ذی شعور شہری حق بجانب ہوگا کہ وہ مطالبہ کرے کہ سیاسی حکومت بھارتی شہریوں کی کشمیر آمد پر 31مارچ 1959ء میں ختم کی گئی پابندی کو بحال کر ے اور مطالبہ کرے کہ بھارتی افواج اپنی موجودگی پر لگی سات شرائط پر سختی سے پابند ہو ں اور کشمیر میں ان کا حلقہ اثر بہت محدود کردیا جائے۔اگرچہ کسی ملک کے قومی پرچم سے کسی انسان کو کوئی گلا یا شکایت نہیں تاہم اس امر کی نشاہدہی باعث عبرت ہے کہ اس بار بھارتی یوم آزادی پر کشمیر میں بھا رتی پرچم بے آبر رو ہوا ۔ محبوبہ مفتی کے ہاتھوں سے گر کر بھارتی قومی پرچم زمین بوس ہوا اور شائد 1948ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے بھارتی پرچم کی کشمیر میں کمر ٹوٹ گئی اور وہ ہمت ہار بیٹھا۔
محبوبہ مفتی کے لئے اور اس ظلم اور قتل عام میں شریک اس کے مقامی اور ہندوستانی ساتھیوں کے لئے یہ آنے والے انجام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ کشمیر کی سڑکوں پر چلنے والے نابینا نوجوان اور کشمیری معاشرہ ہر لمحہ ان کے لئے موت کا ایک فرشتہ ہوگا۔ یہ ظلم کشمیر کی آئندہ نسلوں کیلئے تاریخ کا وہ سبق ہوگا جس سے نفرت اور بدلے کی آگ سلگتی رہے گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ایک لفاظی بیانیے کی بجائے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کیلئے عملی اقدامات جو کرے سو کرے لیکن کشمیریوں کی موجودہ نسل کو بھارتی افواج کی بربریت سے بچانا بہت ضروری اور فوری اقدام ہے۔ زندہ رہنے کا حق ، حق خود ارادیت سے پہلے آتا ہے اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک فریق ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کی ایک رکن ملک کی حیثیت سے ایک ٹھوس اور جامع حکمت عملی پر کام کرے۔ حکومت پاکستان کو کشمیر میں جاری کرفیو اور اس دوراینے میں کی گئی قتل و غارت کے خلاف مذ متی بیانات کے علاوہ ٹھوس اقدامات کرنے چاہیں، مذمت اور ڈائیلاگ کا سلسلہ 1948ء سے جاری ہے اور اس طوالت کی کشمیری قوم کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ بے کیف اور بے مقصد ڈائیلاگ دراصل ہندوستان کو کشمیر میں ظلم و زیادتی کی شدت میں اضافہ کرنے اور ان مظالم کو چھپانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھارت دوستی اور عام مفادات میں اور کشمیری عوام کی نسل کشی میں فرق کرنا ہوگا ۔ محبوبہ مفتی اور بھارتی حکمرانوں کو بھی ظلم کے انجام کا احساس رکھنا چاہئے۔ شائید قبرستان میں ان کے لئے جگہ بھی نہ ہو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>