Published On: Tue, Jun 7th, 2016

شہید میجرضیاءالدین عباسی کا تذکرہ حرم پاک میں

Share This
Tags

1965ءکی جنگ ختم ہونے کے بعد چند ماہ بعد مدینہ منورہ میں ایک عمر رسیدہ پاکستانی خاموش بیٹھا آنسو بہاتے ہوئے روضہ رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھے جارہا تھا، یہ پاکستانی 11 ستمبر1965ءکو سیالکوٹ پھلورا محاذ پر شہید ہونے والے کوئٹہ انفنٹری سکول کے انسٹرکٹر میجر ضیاءالدین عباسی (ستارہ جرات) کے والد گرامی تھے ۔ میجر ضیاءالدین عباسی کے ٹینک کودشمن کی توپ کا گولہ لگا جس سے وہ شہید ہوگئے ۔ جب صدر ایوب خان کی طرف سے میجر عباسی شہید کے والد اپنے شہید بیٹے کو بعد از شہادت ملنے والا ستارہ جرات وصول کررہے تھے تو ایوب خان نے ان سے ان کی کوئی خواہش پوچھی ، تو انہوں نے عمرہ کی خواہش کا اظہار کیا جسے ایوب خان نے ”قبول کرلیا“۔ شہید میجر ضیاءالدین عباسی ستارہ جرات کے والد جب روضہ رسول ﷺکے سامنے بیٹھے آنسو بہا رہے تھے تو خادم مسجد نبوی وہاں آئے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کوئی پاکستان سے تعلق رکھتا ہے؟
میجر عباسی شہید کے والد نے خادم مسجد نبوی کے استفسار پر کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔
خدام مسجد نبوی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ پاکستانی فوج کے میجر ضیاءالدین عباسی شہید کا نام آپ نے سنا ہے، ان کو آپ جانتے ہیں؟
اس پر شہید کے والد نے حیرت سے کہا کہ وہ ہی اس شہید کے والد ہیں۔
یہ سنتے ہی خوشی اور مسرت سے لبریز خادم خاص نے آگے بڑھ کر زور سے انہیں گلے لگایا اور ان کے بوسے لیتے ہوئے کہا کہ آپ یہیں رکیں ، میں کچھ دیر بعد آتا ہوں۔
شہید میجر عباسی کے والد کو اپنے گھر لے گئے جہاں انہیں بڑی عزت اور احترام کے ساتھ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانا کھلایا، سب گھر والے ان کے ساتھ بڑی عزت و احترام سے پیش آرہے تھے۔
مجیر عباسی شہید کے والد بہت حیران تھے کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ میں تو انہیں جانتا تک نہیں بلکہ زندگی میں پہلی بار میرا سعودی عرب آنا ہوا ہے۔ اسی شش و پنج میں تھے کہ خادم خاص رو©ضہ رسول ﷺ نے ان کے ہاتھوں کے ایک بارپھر بوسے لیے اور شہید عباسی کے والد کی حیرانگی دور کرتے ہوئے کہنے لگے کہ جب پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہورہی تھی تو 11ستمبر کی رات میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ اپنے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔
کچھ لمحوں بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے ہاتھوں میں ایک لاشہ اٹھائے وہاں تشریف لاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ شہید عباسی اسی طرح بہادری سے کفار کے خلاف جنگ لڑے ہیں جیسے آپ میرے ساتھ غزوات میں کفار کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ خادم مسجد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سمیت سب نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور حکم دیا کہ انہیں جنت بقیع میں دفن کردیا جائے۔

عین اسی دن ریڈیو پاکستان پر ایک نیا جنگی ترانہ گونج رہا تھا۔
چلے جو ہوگے شہادت کا جام پی کر تم
رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لے لیا ہوگا
علی تمہاری شہادت پہ جھومتے ہوں گے
حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہوگا
اے راہ حق کے شہید دوں تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>