Published On: Tue, Jun 7th, 2016

سیاست،انتخابات اور الزامات

Share This
Tags

bashir baigمحمد بشیر بیگ۔ ایک زمانہ تھا جب آزاد کشمیر میں پنپنے والی سیاست اخلاقی اعتبار سے قابل رشک تھی اور اس میدان میں قسمت آزمائی کرنے والوں کا ریاست بھر میں بہت احترام تھا کیونکہ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوتا انہیں ان کے کردار اور قول کی وجہ سے معتبر جانا جاتا تھا ،گذرتے وقت نے سیاست کو ایک کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے،اخلاقی روایات کو پس پش ڈال کر انفرادیت کو فروغ دیا گیا،اجتماعیت کا تصور دم توڑتا رہا جس کی بنا پر عوام اور لیڈران میں فاصلے بڑھتے رہے اور آج صورتحال یہ ہے کہ کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ نے سیاست کو داغدار کر دیا ہے۔جمہوری روایات سے عدم واقفیت نے ہمارے معاشرے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، دور جدید کی تعلیم سے بھی مدد نہیں لی جا رہی اور حالات دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔آزاد کشمیر میں چار بڑی سیاسی پارٹیاں سیاست کر رہی ہیں جن میں پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے جبکہ مسلم لیگ(ن) حزب اختلاف کی بڑی جماعت ہے اس کے ساتھ ساتھ نووارد پی ٹی آئی اور قصہ پارینہ بننے کے عمل کا شکار مسلم کانفرنس اپنی سی کوشش کر رہی ہیں،ایسے میں کشمیر کونسل کے انتخابات ہوئے جن میں اسمبلی ممبران نے چار کونسل ممبران کا انتخاب کیا،دو نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم کانفرنس نے ایک ایک نشست حاصل کی۔ان انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کو کچھ تحفظات لاحق تھے اور وہ کرپشن کا الزام لگا تی رہی ہے۔کشمیر کونسل کے انتخابات کے حوالے سے سابق وزیر اعظم صدر مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے واضح طور پر الزام لگایا ہے کہ اراکین قانون ساز اسمبلی کی بولیاںلگیں اور قیمتیں ایک سے دوکروڑ تک پہنچی ہیں،ان کے اس الزام کی حقیقت کیا ہے میڈیا نے سارے راز بے نقاب کر دیے ہیں۔راجہ فاروق حیدر خان نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہمیں اگر عدالت بھی جانا پڑا تود ریغ نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے ممبران پیسے لے کر ووٹ نہیں دیں گے۔بات اگر کشمیر کونسل کے انتخابات کی ہوتی تو اور بات تھی مگر یہاں الزام کرپشن کا ہے جس پر عوام اپنے سیاسی قائدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جواب طلب کرنے کے حقدار ہیں کیونکہ یہ معاملہ بہت حسا س نوعیت کا ہے جس سے صرف نطر کرنا قومی جرم ہے۔راجہ فاروق حید کا یہ مطالبہ سو فیصد درست ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اس حوالے سے نوٹس لیں کیونکہ ایک اسمبلی سے دو مرتبہ ممبران کشمیر کونسل کا انتخاب غیر اخلاقی ہے اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ کشمیر کونسل سینٹ طرز کاا دارہ نہیں۔کشمیر کونسل انتخابات میں معزز اراکین اسمبلی پر اس طرح کے الزامات پہلی بار نہیں لگائے جا رہے،پہلے بھی شور مچتا رہا مگر کسی ایک جانب سے بھی ایسا سنجیدہ طرز عمل اختیار نہیں کیا گیا جس کی مدد سے معاملات کو جمہوری انداز سے سلجھایا جا سکتا۔سیاست میں جب سے کرپشن کا زور بڑھا ہے اس کو بطورصنعت استعمال کیاجا رہا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سیاست برائے خدمت کو ترجیح دی جاتی۔آزاد کشمیر میں جب سیاست ہر قسم کی آلائشوں سے پاک تھی اس وقت معزز اراکین اسمبلی اور وزراءکا بے حد احترام کیا جاتا تھا مگر گزرتے ہوئے وقت نے سیاست کو کرپش کا لباس پہنا دیا ہے،ایک عام آدمی اس میدان میں قسمت آزمائی کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ سرمایا دار اپنے سرمائے کو دوگنا کرنے کے لیے کاروبار کی بجائے سیاست کو ترجیح دینے لگے ہیں،وہ جنہیں گلی محلے میں کوئی نہیں جانتا تھا وہ میڈیا کی مہربانی سے صف اول کے سیاستدانوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔پیسے لے کر ووٹ دینے کا رواج نیا نہیں،پہلے یہ کام پردے میں ہوتا تھااب کھلے عام ہو رہا ہے،بے حسی کا یہ عالم ہے کہ کسی کو ٹس سے مس نہیں ،دیدہ دلیری سے غیر قانونی و غیر سیاسی اقدامات نے جمہوریت کا حسن گہنا دیا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب رہے گا کہ سیاست کو ایک منافع بخش کاروبار بنا دیا گیا ہے۔قائد حزب اختلاف کی پریس کانفرنس کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے کیونکہ لگائے جانے والے الزامات کی نوعیت ایسی نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے،وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو خصوصی دلچسپی سے اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے تا کہ وفاق کی ذمہ داری پوری ہو سکے کیونکہ اگر ابھی سے آزاد کشمیر میں اس طرح کی سیاست زور پکڑ گئی تو اسمبلی انتخابات کی شفافیت پر بھی انگلیاں اٹھیں گی اور عوام کا بدظن ہونا بھی ایک اضافی مسئلہ ہو گا تو کیوں نہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن کی مدد سے آزاد کشمیر میں ایک شفاف سیاسی ماحول تشکیل دیا جائے جس میں اہل اور کارآمد لوگ اوپر کی سطح پر لائے جائیں جو سیاسی آلائشوں کوصاف کرنے کے ساتھ ساتھ عوام دوست اقدامات سے ایسا ماحول تشکیل دے سکیں جس کی مدد سے شفافیت اور اصلی جمہوری قدروں کو ابھارا جا سکے،جہاں تک ایک اسبلی سے اراکین کونسل کے دوبار انتخاب کی بات ہے تو اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات غیر اخلاقی ضرور ہو سکتی ہے غیر قانونی نہیں مگر کرپشن کی بات قابل اعتراض ہے جس کا س باب ہونا لازمی ہے۔عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو منتخب ہی نہ کریں جنہوں نے سیاسی ماحول کو انتہائی خراب صورتحال میں تبدیل کیا ہے اور محض ذاتی منفعت کی خاطر پورے خطے کی سیاست کو شرمناک مذاق کا باعث بنا دیا ہے۔ممبران اسمبلی ہوں یا ممبران کشمیر کونسل عوام کے لیے انتہائی معتبر ہیں مگر ان معزز ممبران کو اپنے قول و فعل سے ثابت بھی کرنا چاہیے کہ وہ کردار و عمل کے حوالے سے اس منصب کے اہل ہیں جس پر موجود ہیں یا آنے والے ہیںمگر صد افسوس کہ ہمارے یہاں نہ سمجھ میں آنے والی سیاست کو طریق زیست بنا دیا گیا ہے۔ایک جانب قائد حزب اختلاف کہہ رہے ہیں کہ شو آف ہینڈز سے کونسل اراکین کا انتخاب کرایا جائے تو دوسری جانب سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری صاحب فرما رہے ہیں کہ چوروں اور لٹیروں سے اتحاد نہیں ہو گا،وہ جو کل کے ساتھی تھے آج چور بن گئے،وہ جو کل کے ہمنوا تھے آج لٹیرے بن گئے،یہ ہے ہمارے پڑھے لکھے اور تجربہ کار سیاستدانوں کا اخلاقی روئیہ جس کو عوام مانیٹر کر رہے ہیں۔ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ چالیس لاکھ افراد پر حکومت کرنے والے چالیس پچاس لوگ ہی ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ،اب ان پر اعتبار کون کرے؟سیاستنانوں کی دیکھا دیکھی عوام بھی سیاسی اخلاقی انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں،انہوں نے جو کچھ اپنے رہنماﺅں سے سیکھا ہے وہی اپنے رہنماﺅں پر استعمال کر رہے ہیں،آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو پھرگلہ کس سے؟ضروت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کے سیاسی ماحول کو پھر سے عوام دوست بنانے اور خطے کے وسیع تر مفاد میں کرنے کے لیے ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس کی مدد سے سیاست کو خرابیوں سے پاک کیا جا سکے۔ہمارے لوگوں کو برطانوی سیاست سے سبق سیکھنا چاہیے کہ شفافیت کا یہ عالم ہے کہ ایک مسلمان لندن کا میئر منتخب ہو اور مخالفین کے سیاسی اخلاق کا یہ عالم ہے کہ خندہ پیشانی سے اسے خوش آمدید کہا گیا اور نتائج کو تسلیم کیا گیا ،اس کے برعکس ہمارے یہاں پہلے سے پری پول رگنگ کا الزام دھڑلے سے لگایا جا رہا ہے اور کسی جانب سے کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ،لگتا ہے ایک لگے بندھے نظام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جس میں طاقت ور مزید طاقتور ہو گا اور بیچارہ غریب جینے کے لیے دو وقت کی روٹی کو ترستا رہے گا۔کرپشن نے ہماری اخلاقی قدروں کو اس قدر پامال کر دیا ہے کہ ہم چاہتے ہوئے بھی اپنی اصلاح نہیں کر پا رہے اور اگر کہیں اصلاح کی ایک چھوٹی سی کوشش کو ابھارا جاتا ہے وہیں سازشوں کا تانا بانا بنا جاتا ہے اور اصلاح کا پرچم اٹھانے والے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتے رہ جاتے ہیں،ہوٹروں کی صدائیں ہمارے رہنماﺅں کے کانوں کو بھلی لگتی ہیں مگر غریب کی صدا انہیں بھلی نہیں لگتی۔پروٹوکول لائن میں گاڑیوں کی لبی لائنوں میں بیٹٹھنے والوں کو شاہانہ انداز و اطوار بھلے لگتے ہیں مگر بیچارے بھوکے ننگے بلکتے سسکتے لوگ چاہے آزاد کشمیر میں ہوں یا تھر میں کسی کو اچھے نہیں لگتے،غرباءو مساکین کی امداد کے سرکاری ادارے مثلاًبینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور وزیر اعظم نواز شریف کے پروگرام برائے قومی صحت میں بھی اقربا پروری برتی جاتی ہے،ہر کسی کو اپنے ووٹر سپوٹر کا خیال ہے ،مخالفین کو شودر سمجھا جاتا ہے۔الزام تراشیوں سے دوسروں کا سیاسی قدو کاٹھ کم کرنے کی بجائے خود احتسابی کا روئیہ اپنایا جائے تو بے پناہ مسائل کا شکار خطے کو ایسی ڈگر پر لایا جا سکتا ہے جس پر آخری منزل صرف خوشحالی اور روشنی ہے،ہم اندھیروں کے نہیں روشنیوں کے مسافر ہیں تو ہمیں اندھیروں میں دھکیلنے والے کب ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں روشنیوں کی راہ کا مسافر بننے میں معاون ثابت ہوں گے؟

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>