Published On: Tue, Jun 7th, 2016

سولہ آنے کا رشوت خور قدرت اللہ شہاب اور آج کا اربوں کا سچ۔۔

Share This
Tags

! …سیف و سبو … شفقت نذیر- صوفی صفت بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب اپنی تصنیف ” شہاب نامہ“ میں رقمطراز ہیں کہ میں نے اپنے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا ”ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح9بجے سے 12بجے تک بلا روک ٹوک تشریف لاسکتے ہیں“۔ ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے جسے پٹواری بغیر رشوت کے اس کے نام پر منتقل کرنے سے انکاری ہے، رشوت دینے کی سکت نہیں، تین چار برسوں سے دفتروں کے دھکے کھارہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی، اس کی درد ناک باتیں سن کر میں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے ساٹھ ستر میل دور اس گاو¿ں کے پٹواری کو جا پکڑا، ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاو¿ں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے، پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی،یہ بڑھیا بڑی شرپسند ہے اورجھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے اپنی قسم کی تصدیق کے لئے پٹواری اندر سے ایک جذدان اٹھالایااوراپنے سر پررکھ کر کہنے لگا ”حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں“ گاو¿ں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں ہم نے بستہ کھولاتواس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اٹھا لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی اراضی کا انتقال کردیا۔ میں نے بڑھیا سے کہا کہ لو بی بی تمہارا کام ہوگیا۔اب خوش رہو، بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ تھا اور پاس کھڑے نمبر دار سے کہا سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے نمبر دار نے تصدیق کی تو بڑھیا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ اس کے ڈوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لیے اور اپنی دانست میں سب کی نظریں بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے، اس ادائے معصومانہ پر مجھے بے اختیار رونا آگیا، کئی دوسرے لوگ بھی آب دیدہ ہوگئے، یہ سولہ آنے واحد رشوت ہے جو میں نے اپنی ساری مدت ملازمت کے دوران قبول کی، اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظر میں ان سولہ آنے کے سامنے اس کی کوئی قدروقیمت نہ ہوتی میں نے ان سولہ آنوں کو آج تک خرچ نہیں کیا کیونکہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا۔
آج ہمارے معاشرے میں رشوت اور کرپشن عام ہے کوئی جائز کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوسکتا اور اب توshafqat nazir شاید اسے گناہ نہیں ایک رواج کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔ آج کے اس دور میں ایک بار پھر ہمیں قدرت اللہ شہباب جیسے رشوت خور کی ضرورت ہے، اس معاشرے کو درست کرنے کے لئے 16آنے سچ بولنے والے اور سولہ آنے رشوت لینے والے کی ضرورت ہے۔ ہمارا یہ معاشرہ آج بھی ایسے پٹواریوں سے بھرا پڑا ہے جو پٹوار خانے کے رجسٹر اپنے سر پر رکھ کر اپنے سچا ہونے کی اور مظلوموں کا جھوٹا ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ پوری قوم گزشتہ 70سالوں سے اس بات کی منتظر ہے کہ کب ان کے حقوق انہیں منتقل کیے جائیں گے، یہاں تو ہر آنے والا پٹواری ان سے رشوت لینے کے باوجود ان کے حقوق کا انتقال نہیں کرتا۔ قوم نے کچھ لوگوں سے امید باندھی تھی کیونکہ انہوں نے تبدیلی کے خواب دکھائے تھے لیکن وہ بھی تو آج اسی قطار میں کھڑے نظر آتے ہیں جہاں سر پر پٹوار خانے کے رجسٹر اٹھا کر جھوٹی قسمیں کھانے والے کھڑے ہیں۔ کچھ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہیں اور کچھ اس کے انتطار میں باہر کھڑے ہیں۔ باہر والوں نے بھی خود کو عریاں کرلیا ہے جو لبادے اوڑھ کر وہ آئے تھے اب ان سے وہ بے لباس ہوچکے ہیں ہم تو سولہ آنے سچ کے انتظار میں تھے لیکن سولہ آنے سچ کوئی بھی نہیں بول رہا، گانا ایک ہی گارہے ہیں بس ذرا دھنیں الگ الگ ہیں۔ متمع نظر دونوں کا ایک ہی ہے ”اقتدار“ اس کے لئے کوئی باہر کے سہارے ڈھونڈ رہا ہے اور کوئی اندر سے مدد طلب کررہا ہے۔ ملک میں جمہوریت کی کل عمر زیادہ سے زیادہ گیارہ سال ہے۔ کہتے ہیں نظام خراب ہے تبدیلی کی ضرورت ہے اور ہمیشہ یہ تبدیلی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنے سے ہی آتی ہے اور جنہوں نے سب سے زیادہ اقتدار کے مزے لوٹے ہیں انہیں ملک میں ہونے والی خرابیوں کا ذمہ دار ہی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ہر بار ان کے ہی کندھوں کا سہارا لینے کی کوشش کی جاتی ہے، اس باربھی تویہی ہورہا ہے ملک کے عظیم سیاستدانو ! کیا آپ سب کے لئے یہ لمحہ فکریہ نہیں ہے کہ آپ نے صرف گیارہ سال اس ملک پر بذریعہ جمہوریت حکومت کی ہے 70سالوں میں صرف گیارہ سال زیادہ عرصہ ملک میں حکمرانی آمروں نے کی ہے اور چند مزید سال اگر لے لیں تو وہ آمروں کی نگرانی میں چلنے والی جمہوریت کے حصے میں آتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کا معاملہ کچھ الگ ہے، جمہوریت ہمارے ملک میں اب بھی ناپختہ اور ناتجربہ کار ہی کہلائے گی۔ برطانیہ میں جمہوریت کو موجودہ شکل تک آنے میں 100 سال لگے تھے، اس لئے سولہ آنے سچ یہی ہے کہ جو اندر بیٹھے ہیں ان میں اور باہر بیٹھنے والوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے سچ ایک جیسے ہیں ثابت ہوچکا ہے کہ انصاف اور انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کا متمع نظر وہی ہے جو اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھنے والے کا الیکشن سے قبل تھا۔ سچی باتیں کڑوی ہوتی ہیں کسی خاتون نے اپنے شوہرسے پوچھا کہ مرچیں کب لگتی ہیں؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ ان کے لئے کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب سچ بولو تو لگ جاتی ہیں۔ عمران خان نے نادیہ خان کے ایک شو میں کہا تھا کہ سیاست میں غریب اور بھوکے ننگے لوگوں کو نہیں آنا چاہیے، صرف امیروں کو آنا چاہیے کیونکہ غریب اپنا ضمیر بیج دیتے ہیں وہ کرپٹ اور لوٹے بن جاتے ہیں، محترم عمران خان صاحب پاکستان کے نظام میں جس تبدیلی کا نعرہ آپ لگارہے ہیں وہ کسی غریب کو سیاست میں آنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، صرف الیکشن لڑنے کے لئے کروڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت پاکستان کی سیاست میں اپنے سمیت کسی ایک غریب کا نام بتادیں۔ کوئی بھوکا ننگا سیاست میں آنا تو دور کی بات اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا پھر آج جو کچھ ہورہا ہے عمران صاحب آپ اس کا گلہ کیوں کررہے ہیں یہ بھوکے ننگوں کا نہیں سب امیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا ہی کیا دھرا ہے کرپٹ، ضمیر فروش اور لوٹے کون ہیں غریب یا امیر!!!۔ پانامہ پیپرز میں کس غریب کا نام شامل ہے (سوائے نواز شریف کے) اور اگر آپ کا مطلب اس بات سے خاندانی ہونا ہے تو کیا خاندانی ہونے کا معیار امارت ہے کیا غریب لوگ خاندانی نہیں ہوسکتے۔ کسی غریب کو تو آج تک جانچا ہی نہیں گیا، غربت کو ضمیر فروشی اور کرپشن کا معیار نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ جب دو عالم کے سردار اس دنیا سے رخصت ہونے لگے تھے تو ان کے گھر کے دیے میں تیل نہیں تھا۔ جناب عمران صاحب اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیزوں میں ایک غربت بھی ہے۔ المیہ یہی ہے انقلاب اور تبدیلیاں تو غریبوں کے لئے لائی جاتیں ہیں لیکن ان کا سیاست میں آنا پسند نہیں آج کا سولہ آنے کا سچ تو یہی ہے … !!!

بات تبدیلیوں کی چل نکلی
دیکھتے ہیں کہ کون بدلے گا
آرزوئیں ہیں کہ پہاڑ جیسی
خواہشوں پر تو دم ہی نکلے گا

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>