Published On: Thu, Oct 6th, 2016

ستمبر 1965کی جنگ بھارت کیلئے دندان شکن سبق تھا

Share This
Tags

چھ ستمبر 1965کا دن ہماری قومی تاریخ کا ایک نا قابل فراموش دن ہے کہ جب بھارت نے پاکستان پر رات کی تاریکی میں شب خون مارنے کی کوشش کی لیکن اس کی اس جارحیت کو پاک افواج نےpaf دندان شکن جواب دے کر پسپا ہونے اور شکست سے دوچارکردیا۔ یوم دفاع پاکستان 1965کے بعد ہر سال جوش و جذبہ سے اس لئے منایا جاتا ہے کہ افواج پاکستاناور پاکستانی قوم اپنی تاریخ سے آگاہ رہے او ر وہ جذبہ جو من حیث الاقوم قیام پاکستان سے لیکر 1965تک ہماری بہادر افواج پوری پاکستانی عوام میں مو جود تھا وہ اسی آب وتاب سے موجزن رہے اور الحمد اللہ آج پاک فوج جس کی پشت پر پاکستان کی 22کڑور عو ام کھڑی ہے۔ وہ دفاعی لحاظ سے پہلے سے زیادہ مضبوط ا ور جذبہ جہاد سے لبریز ہے۔ 6ستمبر 1965کا دن ہماری تاریخ میں ہمیشہ یادگار رہے گا جب عساکر پاکستان اور ارض پاک کے باسیوں نے یک جان ہو کر بھارتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دشمن کے چھکے چھڑادیئے۔حق و باطل کے اس معرکہ میں شہداء اور غازیا ن وطن نے بہادری اور شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں کہ جن پہ پور ی قوم کو فخر ہے۔دشمن کے مکروہ عزائم بھانپتے ہوئے افواج پاکستا ن نے چھمب جوڑیاں کے محاذ پر جنگ ستمبر 196میں جوابی کاروائی کرتے ہوئے دریائے تو ی عبور کرکے چھمب اور جوڑیاں میں قائم بھارتی قلعہ بندیوں کو روند ڈالا۔بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڈا نے گیڈر بھبکی لگائی تھی کہ وہ اگلی صبح لاہور پر قبضہ کرکے ناشتہ وہی کریں گے لیکن دشمن کی یہ خواہش پاکستانی فوج نے خاک میں ملادی اور پوری قوت ایمانی اور جذبہ شوق شہادت کے ساتھ لڑتے ہوئے بھارتی افواج کو پسپائی پر مجبور کردیا ۔ پاکستانی فوج نے جس جرا ت اور جوانمردی سے بھارتی جارحیت کو ناکام بنایااس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ افواج پاکستان نے نہ صرف دشمن پر کاری ضرب لگائی بلکہ اس پر جوابی وار کرتے ہوئے مشرقی پنجاب کے سرحدی شہر کھیم کرن پر قبضہ کرلیا۔یہ طاقت اور جذبہ ایمانی کے درمیان معرکہ حق وباطل تھا۔جنگ سترہ دنوں پر محیط رہی جس میں افواج پاکستان نے دشمن کے سولہ سو مربع میل پر قبضہ کرلیا۔دشمن کو ہر محاذ پر شکست و ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اس جنگ کے دوران لاہور سیکٹر میں برقی کے مقام پر بھارتی گو لہ باری اور ٹینکو ں کے حملہ کو پسپا کرنے کیلئے بری فوج کے میجر عزیز بھٹی نے شجاعت کے وہ جوہر دکھاے کے بھارت کی پیش قدمی کو روک دیا اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوے اور نشان حیدر سے سرفراز ہوئے اور اسی طرح پاک فضائیہ کی کارکردگی شاندار رہی اور سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم اور د یگر عقاب صفت ہوابازوں نے بھارتی فضائیہ کے دانت کھٹے کردیئے۔ دشمن کے ہوائی اڈوں پر تابڑ توڑ حملے کیے اور اس کے مجموعی طور پر ایک سو سترہ جہازوں کومار گرایا جس کے مقابلہ میں پاک فضائیہ کا جزوی نقصان صرف سترہ جہازوں تک محدود رہا۔اسی طرح پاک بحریہ نے آگے بڑھ کر بھارتی بحریہ کے اڈ ے دوارکاہ پر کاری ضرب لگائی اور پاکستانی آبدوز غازی نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہازکوبحیرہ عرب میں ڈبو دیا۔دوران جنگ پوری قوم اپنی دلیر افواج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح جم کر کھڑی رہی۔بھارت کو فضائی جنگ میں بھی اپنے سے کئی گنا چھوٹے ملک کے ہاتھوں شرم ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فضائی جنگ میں بھارت اپنے سو سے زیادہ لڑاکا تیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بھارت کے کچھ لڑاکا پائلٹس کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا۔ ایم ایم عالم اور سرفراز رفیقی کے بھارت کی بنیادوں کو ہلا دینے والے حملوں کو آج بھی جنگوں کی تاریخ میں سنہری حروف سے یاد کیا جاتا ہے۔ 6ستمبر 1965 کے بعد دسمبر1971ء میں ایک اورجنگ میں پاکستان کے خلاف بھارت نے سازش کرکے پاکستان کو دولخت کردیا، پاکستان نہ اس وقت کمزور تھا اور نہ آج لیکن پاکستان کا ایک بازو تن سے جدا ہوا اس میں جنگ سے زیادہ سازش ملوث تھی لہذا پاکستان کو اپنے ایک حصے سے ہاتھ دھونے پڑے گزشستہ 69سالوں سے با لعموم اور 26 سالوں سے با لخصوص کشمیری عوام بھارت کی فوج کے ہاتھوں ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث مسئلہ کشمیر کا پر امن حل نہ ہونے کے باعثآج ایک طرف و طن عزیز کو بھارتی جنگی جنون کا سامنا بھی ہے اور دوسری طرف ملک کے اندر دہشتگردی جو ایک سازش کے تحت پاکستان پر مصلحت کی گئی ہے اس دہشتگردی کے خلاف پاک افواج نے ضرب عضب کے ذریعے جس عزم و استحکام کے ساتھ مقابلہ کیا ہے وہ بھی ایک تاریخ کا حصہ ہے۔بڑی بڑی طاقتور اقوام اور جدید اسلحہ سے لیس فوج دہشتگردوں سے مقابلے میں مات کھاجاتی ہیں لیکن پاکستانی افواج نے ان دہشتگردوں کو کچلنے میں اہم کردار اد ا کیا اور اس کے لئے لازوال قربانیاں بھی دیں جو انسانی اور فوجی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ وطن عزیز کو جس اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت آج ہے اس سے قبل شاہد پہلے کبھی نہ تھی ، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستانی قوم نے مکمل اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور وہ پاک فوج کی پشت پر ڈٹ کر کھڑ ی رہی ہم ہر مشکل اور کڑے وقت میں فتح و نصرت سے ہمکنار رہے۔ آج وطن عزیز کو بھارت کے علاوہ دیگر نام نہاد حلیفوں سے بھی خطرات لاحق ہیں ، جس طرح پاکستان ترقی کی منازل طے کررہا ہے وہ د شمن کو کسی طرح بھی ہضم نہیں ہوپارہا ہے۔ستمبر1965 میں پاکستان کوئی ایٹمی ملک نہیں تھالیکن آج اللہ کے فضل سے پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے علاوہ دفاعی لحاظ سے انتہائی مضبوط ملک ہے اس کی تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائیہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور اس کا قائد اورسپہ سالار جنرل راحیل شریف جیسا ہردلعزیز جری اور بہادر سپاہی ہے۔ بھارت کو کسی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہئے، پاکستان پر کسی قسم کی جارحیت کی صورت میں بھارت کو انتہائی عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیونکہ آج بھی ہماری فوج اور قوم میںچھ ستمبر 1965ء والا جذبہ پوری شد ومد سے موجزن ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>