Published On: Thu, May 19th, 2016

دہشت گردی اور کرپشن کے خلاف ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

Share This
Tags

جنرل مرزا اسلم بیگ
سابق چیف آف آرمی سٹاف پاکستان
friendsfoundation@livecouk
دہشت گردی کا عذاب کیا کم تھا کہ سازشوں کا ایک اور عفریت پھن پھیلائے ڈسنے کو تیار ہے۔پانامہ لیکس کا جائزہ لیا جائے تواس سازش کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ نامزد لوگوں کی فہرست میں امریکہ اور اسرائیل کے کسی شہری کا نام نہیں ہے۔ کئی برسوں تک صحافیوں کی بڑی تعداد ان انکشافات پر کام کرتی رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان صحافیوں کو کس نے اس کام پر لگایااور ان کو معاوضہ کہاں سے ملتا رہا ہے۔ امریکہ ان انکشافات کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے یہ ایک الگ کہانی ہے لیکن پاکستان کا نام شامل کرنے کا ایک خاص مقصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک ہیجان پیدا ہوا ہے اوربڑی بڑی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں’جن میں میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا نام ان میں شامل نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ درپردہ کچھ راز ہیں جن کی پردہ دری ضروری ہے۔آج سے چند سال قبل امریکہ کا تذویراتی مرکز(Strategic Pivot) جنوبی ایشیاءسے ایشیا پیسیفک(Asia Pacific) منتقل ہو ا اور امریکہ افغانستان سے نکلا ہے تو چین کا اثرورسوخ اس علاقے میں بڑھا’خصوصاً پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر نے چین کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جنوبی ایشیا سے چین کے اثرورسوخ کو کم کیا جائے اور اسی مقصد کیلئے پاناما پیپرز کو میڈیا میں جاری کیا گیا ہے۔ اسی مقصد کیلئے امریکہ نے بھارت کے ساتھ2005ءمیں سٹریٹیجک پارٹنر شپ کا معاہدہ کیا تھا تاکہ بھارت علاقے کا ٹھیکیدار بن کر خطے میں امریکی مفادات کی نگرانی کرے اور اسے بنگلہ دیش سے لے کر افغانستان تک بالا دستی حاصل ہو۔ پاناما لیکس کے حوالے سے ہونے والی سازش میں بھارت بھی ملوث ہے اور یہ سازش کھل کر سامنے آگئی ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف اور قومی سکیورٹی ایڈوائزرنے کہا ہے کہ“بھارت نہ صرف خود بلکہ افغان انٹیلی جنس کو شریک کر نے کی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔”
2007 میں راقم نے اپنے تحقیقی مضامین میں افغانستان میںRAW کاایک بڑے جاسوسی نیٹ ورک کی نشاندہی کی تھی جسے سی آئی اے اور امریکی اتحادیوں کی معاونت حاصل تھی۔ یہ نیٹ ورک اب بھی موجود ہے بلکہ پاکستان کے ساحلی علاقوں تک پھیل چکا ہے جہاں سے کیٹی بندر’سونمیانی اور جیوانی کے علاقوں سے ہتھیار ’کرنسی اورمنشیات پاکستانی دہشت گردوں تک پہنچائی جاتی ہیں جن کے اندرون ملک سہولت کاروں کی نشاندہی بھی کرائی جا چکی ہے۔ بھارت کا مقصد ہے کہ ایسے حالات پیدا کردئےے جائیں کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوجائے اور حکومتی نظام مفلوج ہو جائے اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام ہو جائے۔ماضی میں امریکہ نے پاکستان میں غیر جمہوری تبدیلی (Regime change) کیلئے فوج ’عدلیہ اور چند سیاسی اور دینی جماعتوں کو استعمال کرکے مقاصد حاصل کئے اور جب بھی امریکہ کی جانب سے تبدیلی کا پیغام آیا’یہ لوگ چل پڑتے تھے۔ جس طرح 1977ءمیں پاکستان قومی اتحاد اورحکومت کے مابین معاہدہ طے پا گیاتھا تو اصغر خان جو PNAکے ساتھ تھے‘ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کو کھلا خط لکھا کہ“ وہ مداخلت کریں۔اگرانہوں نے ایسا نہ کیا تو پاکستان کوشدید نقصان ہوگا۔”اصغرخان نے اس معاہدے کو سبوتاز کیا اور پھر جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوپر مقدمہ قائم ہوا تو شور مچانا شروع کر دیا کہ ان کو جلد پھانسی دی جائے یا بھٹو کو ان کے حوالے کریں تاکہ وہ کوہالہ پل پر انہیں لٹکا دیں۔ اور جب بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تو اصغر خان کو اطمینان ہوا۔ا ن کی تمام تر کو ششیں اس لیے تھیں کہ انہیں وزیراعظم بنانے کا وعدہ کیا گیاتھا لیکن ان کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ اسی قسم کی کوشش آج بھی ہو رہی ہے۔ عمران خان کا دھرنا جس کو لندن پلان کا نام دیاگیا تھا اور کہاگیا تھا کہ اس سازش میں امریکہ ’کینیڈا اور برطانیہ بھی شامل تھے۔ دراصل عمران خان آج کے اصغر خان ہیں۔ اصغر خان اپنے سیاسی حریف بھٹو کو تو پھانسی دلوانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اصل مقصد حاصل نہ کر سکے۔ عمران خان سے بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ انہیں وزیراعظم بنوادیں گے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں گے۔پچھلے سال وہ دھرنے کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے اس لئے کہ جنرل راحیل شریف نے ان کے دھرنے سے ہوا نکال دی تھی۔ انہوں نے عمران خان اور طاہرالقادری دونوں کو مشورہ دیا تھا کہ“وہ نواز شریف سے مذاکرات کریں تو بہتر ہو گا۔”اور دھرنا ختم ہو گیا۔آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے کیونکہ اگلے دن آرمی چیف نے سیاستدانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ“ وہ ملک میں خلفشار نہ پیدا کریں اور آپس میں مل بیٹھ کر جمہوری طریقے سے اپنے معاملات طے کریں۔”دوسری جانب پاکستان کے چیف جسٹس نے بھی کہہ دیا ہے کہ“جیسی بھی جمہوریت ہے’اسے چلنے دیا جائے۔”خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارے ان مقتدر اداروں کی سوچ بدل چکی ہے’اس لیے ماضی میں جس طرح تین چار کھلاڑی مل کر تبدیلی لے آتے تھے اب اس طرح کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ہماری عدلیہ اور فوج چاہتی ہے کہ یہ نظام چلے اور کوئی ہیجانی تبدیلی نہ آئے’نہ زبردستی نواز شریف جائیں اور نہ ہی ان کی حکومت کا تختہ الٹا جائے۔ لیکن جہاں تک پاناما لیکس کے الزامات کا تعلق ہے تو یہ حقیقت ہے مگر ماضی میں ہمارے ملک میں کتنے ہی ایسے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑا ہے۔کتنے ہی سنگین واقعات ہوئے ’سقوط ڈھاکہ’بھٹو کا عدالتی قتل’بے نظیر بھٹو کا قتل’آصف زرداری کے خلاف سوئس عدالت کا فیصلہ’لیکن وہ صدر پاکستان بھی بن گئے اور اپنی مدت صدارت پوری کرگئے۔ اب ماضی کا کھیل نہیں چلے گااور نہ ہی 58۔2B ہے کہ صدر اپنے اختیارات کا کھیل دکھائیگا۔منتخب حکومت کے رہتے ہوئے حکمرانوں اور دوسروں کا سخت احتساب ہوگا۔ ہماری عدلیہ اور عسکری قیادت اس عمل کو آگے بڑھانے پر متفق ہیں۔خلق خدا بھی یہی چاہتی ہے۔ہماری افواج نے دہشت گردی کے خلاف بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن یہ دہشت گردی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اسے ختم کرنے میں وقت لگے گا اور ان علاقوں کو جنہیں فوج محفوظ بنا چکی ہے وہاں آبادکاری اور حکومتی رٹ قائم کرنے کا مشکل کام باقی ہے اور حالات کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کرپشن کی لعنت بھی ختم کی جائے۔ جنرل راحیل نے کرپشن کے خلاف مثال قائم کی ہے اور اس نیک کام میں بھرپور معاونت کا اعادہ کیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ ایک مضبوط اور بااختیار کمیشن بنائے جوان تمام پاکستانیوں کے خلاف قائم ہو جو مختلف کرپشن کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔اس کمیشن کی سربراہی کیلئے میں سمجھتا ہوں کہ سب سے موذوں نام ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کا ہے جو نیب کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور جنرل مشرف کی جانب سے کرپٹ لوگوں کے خلاف کاروائی روکے جانے پر مستعفی ہو گئے تھے۔ انہیں فوج کی معاونت بھی حاصل ہو گی اور عوام کا اعتماد بھی۔دوسرا کمیشن سپریم کورٹ کے حاضر ججوں کے تحت ہو جیسا کہ عوام کا مطالبہ ہے اور وہ پاناما لیکس میں شامل پاکستانیوں کے خلاف تفتیش کرے اور فیصلہ سنائے۔یہ دونوں کمیشن اپنا اپنا کام کرتے رہیں’جمہوری نظام قائم رہے اور سیاسی ترویج کا عمل بھی جاری رہے۔ یہی صحیح راستہ ہے کہ جس سے قومی سلامتی کے تقاضے بھی پورے ہوں گے اور خصوصاً اس وقت جب کہ پاکستان مشکل مسائل سے دوچار ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>