Published On: Thu, Aug 25th, 2016

دہشت گردی اور سازشوں کو شکست دینے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ضروری کیوں

Share This
Tags

sajad
سید سجاد حسین شاہ
کسی بھی ملک میں آئین اور قوانین ملکی نظام چلانے اور عوام الناس کو امن اور تحفظ فراہم کرنے کے لیئے بنائے جاتے ہیں اور حکومت اور حکومتی ادارے امن کو یقینی بنانے کے لیے ان قوانین پر عمل درآمد کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔ کیا نیکتٹا ا پنی ذمہ داریاںادا کرنے میں فعال اور متحرک رہا اور کیا ہم اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ ایسے سوال ہیں جن پر بحث کر نا اور تجزیہ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وطن عزیز اس وقت جس طرح اندرونی اور بیرونی سازشوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے پاکستان اس وقت اپنی بقاء اور سالمیت کی جنگ میں مصروف ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان تعمیر و ترقی کے ایک اہم دور سے گذر رہا ہے ، بڑے بڑے منصوبے زیر کار ہیں جس میں انتہائی اہم منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کو آپریشنل کرنا شامل ہیں، گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان مشکلات کا شکار ہے اور اس کی عوام لازوال قربانیوں کے عمل سے گزر رہی ہے ۔ لیکن پاکستان کے بدخواہ اس کی ترقی اور خوشحالی کو برداشت کرنے کے لیئے تیار نہیں ،پاکستان نے علاقے کے اہم ملک ہونے کا کردار مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خوب نبھایا ، پاکستان نے ہمیشہ اسلامی جذبہ اخوت کا مظاہرہ کیا جب ایران کی عوام مشکلات کا شکار ہوئی تو پاکستان نے ہزاروں ایرانیوں کی میزبانی کی اور اسی طرح جب افغانستان میں افغان عوام روس کے عتاب میں آئی تو تیس لاکھ افغانیوں کو پاکستان نے پناہ دی ، ان کی ہر لحاظ سے مدد اور اعانت کی۔ افغانستان میں روس کو شکست فاش ہوئی nawaz-ha-pk-ka3اور اس کی شکست میں جہاں بین الاقوامی سطح پر دیگر ممالک کا ہاتھ تھا لیکن پاکستان فور فرنٹ پر اہم ترین ملک تھا جس نے روس کو شکست دینے اور خطے میں آگے بڑھنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا جو تاریخ کا ایک حصہ ہے لیکن روس کی شکست کے بعد عالمی طاقت کا تواز ن برقرار نہ رہا کیونکہ سرد جنگ کے زمانے میں دنیا میں دو ہی بڑی طاقتیں تھی روس اور امریکہ، لیکن روس کی شکست و ریخت کا ہی شاخسانہ ہے کہ عالمی طاقت کے توزان کے بگڑنے سے امریکہ واحد سپرپاور کے طورپر ابھر کرسامنے آیا، اقوام متحدہ کو اپنی باندی بنا لیا اور جن مسائل کو حل کرنا اس کے مفاد میں ہو اس پر اقوام متحدہ فوری ایکشن میں آتی ہے ، دوسری طرف پاکستان جو 80 کی دہائی سے قربانیاں دیتا چلا آیا ہے اس کی معیشت اور اقتصادی حالت بتاہ ہوچکی ہے، ملک کے وسائل سے بڑ ھکر مہاجرین کو سنبھالنا ان کی مدد اور ہر طرح سے خیال رکھا حتی کہ مشرقی یورپ میں بوسنیا ہرذیگوینا کے مسلمانوںکے ساتھ جب ظلم و ستم ہوا اسی طرح برما کے مسلمان ہوں یا دنیا کے کسی خطے میں مشکلا ت کا شکار ہونے والے انسانوں نے اگر پاکستان کارخ کیا تو پاکستان نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور ان کی مدد اور اعانت کی۔ امریکہ نے اپنا ہدف روس کو ٹکڑے کرکے حاصل کرلیا ،پاکستان سے دوستی کا دم بھرنے والا ملک مشکل کی گھڑی میں سوائے بیان بازی یا مالی امداد سے آگے نہ بڑھا، لیکن جب بھی کسی بڑی مشکل نے پاکستان کو آن گھیرا امریکہ نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا۔ اب جبکہ بھارتی وزیراعظم مودی نے بلوچستان اور گلگت کے حوالے سے اپنے عزائم کا اظہار کر کے پاکستان میں بھارتی ایجنسی را سے متعلق تخریبی کاروایئوں میں ملوث ہونے کے پاکستانی الزامات کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق کر دی ہے ، اور اب اس بات میں شق کی کوئی گنجائش نہیں کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردانہ کاروایئوںمیں ملوث ہے اور کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس وقت پاکستان دہشتگردی کی آگ میں گر چکا ہے اور یہ دہشتگردی کی آگ وطن عزیز میں دوسروں کی لگائی ہوئی ہے۔ پاکستان کا دہشتگردوں کے ساتھ کوئی تنازعہ یا واسطہ نہیں تھا لیکن عالمی سازش کے تناظر میں پاکستان کو اس آگ میں گھسیٹا گیا اور پھراس کو اس مشکل سے نکالنے میں مدد دینے کی بجائے مزید مسائل میں جھکڑنے کی کوشش کی گئی۔ دفاعی اور فوجی امداد بند کردی گئی ۔ اور امریکہ نے اپنی دوستی کا رخ اور نوازشات بھارت اور مودی سرکار کی طرف پھیر لیا۔ ملک کے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور انہیں امن فراہم کرنا کسی بھی ملک یا حکومت کی اولیں ترجیح اور ذمہ داری ہوتی ہے ، دہشت گردوں نے پاکستان کو تاراج کرنے اور طاغوتی طاقوں نے اپنے مکروں عزائم کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے دہشت گردی کا ایک طویل سلسلہ شروع کر رکھا ہے ،مساجد، امام بارگاہوں،سکولوں، دیگر تعلیمی اداروں، سیکورٹی اداروں، حتی کہ جی ایچ کیو تک کو نشانہ بنایا گیا، اس حقیقت کا ادراک تو ہر پاکستانی کو ہے کہ یہ جنگ پاکستان پر زبردستی تھو نپی گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی توجہ ملکی ترقی سے ہٹانے اور اسے مشکلات سے دو چار کر کے اپنی شرائط منوانا اور بھارت کو خوش کرنے کے لئے مسلہء کشمیر سے دستبرداری، ملکی خد انحصاری سے دور کر کے قرضوں اور امداد کے گرداب میں جکڑ کر بلآخر ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے پر مجبور کرنے کے عزائم شامل ہیں، کوئی بھی غیرت مند ملک کسی طاقت کو اپنے اندونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا، پاکستان اللہ تعالی کے نام پر اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا جس کے لیئے اسلامیان ہند نے بڑی قربانیاں دیں اور مملکت خدا داد پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں قائم ہوا۔اب جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش تیار کی گئی ہے تاکہ پاکستان اپنی سالمیت اور بقاء کی جنگ میں ہی الجھا رہے اور پاکستان دشمن عناصر بھارتی مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیئے راستے ہموار کرتے رہیں، ان تمام امور کا ادراک کرتے ہوئے ، سیاسی اور عسکری قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے عفریت کو ملک سے جڑ سے اکھیڑنے کے لیے ایک حکمت عملی اختیار کی اور اس ساری مشق میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک کلیدی اور اہم کردار ادا کیا،دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان آرمی نے مختلف اپریشنز کیے مثلا ساوتھ وذیرستان ایجنسی میںاپریشن رائے راست، وادی سوات میں پاک ارمی نے 2009 میں اپریشن رائے نجات شروع کیا اور پھر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ازبک دہشت گردوں کے حملے کے بعدپاک آرمی نے دہشت گردوں پر کاری ضرب لگانے کے لیئے بھرپور کاروا ئی آغازکیا۔ 15جون 2014 قومی اتفاق رائے سے پاک آرمی نے شمالی وزیرستان ایجنسی میںدہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کا آغاز کیا اور جو اب تک کامیابی سے جاری ہے اور اس اپریشن سے دہشت گردوں کی کمر ٹور دی گئی اور ان کے تھانوں اور کمین گاہوں کو کافی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے، کراچی میں پاکستان رینجرز نے بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب اپریشن کر کے امن کی بحالی میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے نے پوری پاکستانی قوم کو ہلا کر ر کھ دیا اور پھر عسکری اور قومی سیاسی قیادت نے مکمل یکجہتی کے ساتھ 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان بنایا جو بعد میں7جنوری 2015 کو 21ویں ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان کا حصہ بن گیا اب اس پر موثر انداز میں عمل درآمد کرانا قانون نافذ کرانے والے اداروں اور عدلیہ کی کی ذمہ داری ہے۔ قبل ازیں نیکٹا (NACTA )کا قیام 2009 میں عمل لایا گیا تھا لیکن مارچ 2013میں اس ادارے کو فعال اور مزید متحرک کرنے کے لیئے نیکٹاکو باقائدہ ایک قانون کی شکل دی گئی اور وفاقی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک 22رکنی گورنگ کمیٹی بنائی گئی ۔ 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول پشاور کے دل ہلا دینے والے المناک واقع جس میںسفاک دہشت گردوں نے 141 بے گناہ انسانوں کی جان لے لی جن میں 8 تا 18 سال کے 132 معصوم بچے بھی شامل تھے یہ واقعہ ایک سکول نہیں پوری پاکستانی قوم پر حملہ تھا قوم نے مشکل کی اس گھڑی جس جذبے اوریکجہتی کا اظہار کیا وہ ناقابل فراموش ہے۔سانحہ اے پی ایس اور چارسدہ یونیورسٹی کے بعد سانحہ کوئٹہ ایک سب سے بڑا واقعہ ہے کہ ملک دشمنوں نے پاکستانیوں پر بھرپور وار کیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کی ذمہ داری داعش کی ذیلی تنظیم تحریک احرار نے قبول بھی کرلی ہے۔ بلاشبہ ہمارے سکیورٹی ادارے داعش کے کارندوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں کرچکے ہیں مگر کوئٹہ میں77 بیگناہوں کے خون کا تقاضہ ہے کہ حکومت اور عسکری قیادت ایک بار پھر سانحہ اے پی ایس کی طرح سرجوڑ کر بیٹھے اور نیشنل ایکشن پلان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور جہاں جہاں کوتاہی ہے اس کو دور کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان میں جو حکمت عملی طے کی گئی ہے اور جو جو ذمہ داریاں سیکورٹی اداروں، سول انتظامیہ اور صوبائی حکومتوں کے ذمہ لگائی گئی اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں جائیں اور لاپروائی کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزاکا مستحق قرار دیا جائے کیونکہ قومی امور میں کسی قسم کی غفلت اور لاپروائی ایک ناقابل معافی جرم ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان قابل عمل ہے او ر اس پر بھرپور انداز میں کام بھی ہورہا تو تسائل برتنے والے اداروں کا احتساب بھی ضروری ہے اور ایک ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے کہ مستقبل میں خوانخواستہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اداروں کے پاس ایسی تربیت یافتہ سپیشل فورس ہو جو مزید نقصان ہونے سے روکنے کے علاوہ دہشتگردوںکے نیٹ ورک کو پکڑنے میں بھی کامیاب ہوجائے اور لوگوں کی جان و مال بھی محفوظ رہے۔ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر علمدرآمد مکمل طورپر یقینی نہیں بنایا جائے گا طے شدہ اہداف حاصل نہیں ہونگے،کیونکہ یہ صرف دہشت گردی کا مسلہء نہیں رہا بلکہ یہ اب پاکستان کی بقاء اور سالمیت کا سوال ہے اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی پاکستان کی کو محفوظ اور توانا بنانے کے لیئے بھی ضروری ہے، اس وقت پاک فوج صرف چند ہزار دہشت گردوں کے ساتھ نبرد آزما نہیں بلکہ باقائدہ ایک بین الاقوامی سازش کے خلاف ایک جنگ میں بر سرپیکار ہے اور اس جنگ میں پاک فوج کی کامیابی دراصل وطن عزیز کی کامیابی ۔ ۔وطن دشمن عناصر نے اس سے پہلے بھی 8 اگست 2013ء کے ہی روز سفاک قاتلوں نے دہشت گردی کیلئے کوئٹہ کے حالیہ سانحہ جیسا طریقہ آزمایا تھا پہلے پولیس آفیسر کو شہید کیا پھر اسی طرح کوئٹہ میں ہی پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ کیلئے جمع ہونے والوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان واقعات کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں زیادہ سے زیادہ بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ان واقعات سے ہمیں ایک اور سبق سیکھنا چاہیے تھا جو بدقسمتی سے نہیں سیکھا گیا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے اور ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی تیار کی جاتی اور ایمرجنسی کی صورت میں ایسی مجرمانہ کارروائیوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو تربیت دی جاتی کہ دہشت گردوں کی ممکنہ کارروائی سے کس طرح شہریوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں کیونکہ دہشت گردی کیخلاف موثر انٹیلی جنس نظام مرتب کئے بغیر جنگ جیتنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ حکومت نے اس جنگ کی تمام تر حکمت عملی نہایت غورو فکر اور باریک بینی سے طے کی تھی اور نیشنل ایکشن پلان میں اس قسم کے تمام اقدامات تجویز بھی کئے گئے تھے اور یہ بات تسلسل کے ساتھ دہرائی بھی جاتی رہی ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں متفقہ طور پر منظور کئے گئے نیشنل ایکشن پلان میں سے سکیورٹی اداروں کے ذمہ صرف 30 فیصد کام تھا باقی 70 فیصد انتظامات سول حکومت کو کرنا تھے اور اس کمزوری کی مسلسل نشاندہی بھی کی جارہی تھی کہ نیشنل ایکشن پلان میں نیکٹا کا موثر اور منظم کردار ہے مگر حکومت اپنے تمام تر دعوئوں اور کوششوں کے باوجود نیکٹا کو فعال کرنے میں کامیاب نہیں ہوپارہی اور اس اندیشہ کا اظہار بھی ہوتا رہاہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس طرح تساہل سے کام لیتی رہیں تو خدانخواستہ سکیورٹی اداروں کی کامیابی بھی غیر یقینی ہوجائے گی۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی منظم انداز میں کام کرنا تھا اگر صوبائی حکومتوں نے اپنے حصے کا 50 فیصد کام بھی کیا ہوتا تو کم از کم اس طرح کے ہنگامی حالات میں ایمرجنسی کی صورتحال میں لوگوں کی جانوں کو محفوظ کرنے کیلئے بھی حکمت عملی بنائی جاسکتی تھی ۔مگر افسوس کہ سول انتظامیہ کا کام کسی بھی سانحے کے بعد مذمتی بیان جاری کرنا اور اس بات کا اعادہ کرنا رہ گیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے مگر جب بات عملی اقدامات کی آتی ہے تو سول حکومتیں شعوری یا لاشعوری طور پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کا نتیجہ مزید سنگین سانحے کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اور اس وقت پوری قوم کو یکجہتی اور اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کے عزائم خاک میں ملائے جاسکیں۔ ملک اس وقت کسی بھی نااتفافی اور عدم اتحاد کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہذا نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد انتہائی ناگزیر اور ضروری ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>