Published On: Mon, Jul 18th, 2016

جنگی جرائم کا ارتکاب

Share This
Tags

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھارتی افواج اور ریاستی پولیس کے ظلم و بربریت کے ہاتھوں عام کشمیری مسلمان ہسپتالوں ، ایمبولینس، گھروں اور راہ چلتے زیر عذاب آئے اور جس طرح انسانی قدروں کو بری طرح پامال کیا گیا اس کی مثال مہاراجہ کشمیر کے ظالمانہ دور میں بھی نہیں ملتی ۔ اب تک 35افراد شہید ہوئے ہیں اور سینکڑوں لوگ تشد کی وجہ اور گولیوں کے زخمیوں سے نڈھال ہیں۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ حکومت پاکستان کے دفتر خارجہ نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر توڑے جانے والے مظالم سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں غیر ملکی سفارتکاروں کو اس بگڑتی صورتحال پر بریفننگ دی تاہم یہ موجودہ صورتحال کے تناظرمیں یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان یہ صورتحال عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ ، OIC ، دولت مشترکہ، سارک اور دنیا بھر میں موجود حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کے حامی تمام فورمز پر اٹھائے۔ حکومت پاکستان کی قائم کردہ کشمیر کمیٹی کی فوری تشکیل نو کی جائے اور اسے ہر سطح پر متحرک کیا جائے۔ چونکہ اس کمیٹی میں منتخب ارکان ہیں اس لئے انہیں دنیا بھر کے منتخب ایوانوں میں بھیجا جائے بلکہ تشکیل نو کرنے کے بعد انہیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں موجود ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیر اعظم پاکستان بحیثیت چیئرمین آزاد جموںو کشمیر کونسل کے اپنی آئینی ذمہ داری کیلئے فوری تحریک کریں اور قضیہ کشمیر اور کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کریں۔ وزیر اعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی کے 69ویں 70ویں اجلاس میں کشمیر کے سلسلے میں جو سفارتی اور سیاسی اظہار کیا اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے فوری اقدام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کے ایکٹ 1974ءکے تحت بنے آئیں میں UNCIP قرار دادں کے تحت جو ذمہ داری قبول کی ہے اس پر سرمو بھی کام نہیں ہوا ہے۔ ایکٹ 1960اور ایکٹ 1974ءکے تحت تسلیم کی گئی حق خود ارادیت کیلئے ذمہ داریاںابھی تک کاغذی کارروائی تک ہی محدود ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے نتہے مرد و زن اور نوجوان بھارتی مظالم کے ساتھ ساتھ ہماری بے رحم بے حسی کے بھی شکار رہے ہیں۔ پاکستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور کشمیریوں کی جملہ خاموشی اور نیم دلی سے فائدہ اٹھا کر بھارت بے دریغ کشت و خون میں مصروف ہے۔
اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت پاکستان ، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر اس بات کی تشریح کرے کہ بھارتی فوجی کشمیر میں قابض فوجی ہے۔ جن چار شرائط کی تابعداری اور ذمہ داری کیلئے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخلے کی عارضی اجازت دی گئی تھی بھارتی فوجیوں نے اس دوطرفہ معاہدے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، بھارتی فوجی اکتوبر 1947ءکے عارضی معاہدے کی چار شرائط کا بھی پابند نہیں بلکہ اپریل 1948ءکو اقوام متحدہ نے ان فوجیوں کو مزید تین شرائط کا پابند کیا ہے۔ اس طرح بھارتی فوجی کشمیر میں کل سات شرائط کا پابند ہے۔ لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ یہ افواج شروع دن سے یہاں کی سول حکومت کو خفیہ طور پر کنٹرول کرتی رہی ہے اور اب 1990ءکے بعد اعلانیہ کشمیریوں کے کشت و خون کے فعل میں مصروف ہیں۔ دوطرفہ معاہدے کی چار شرائط اور 21اپریل 1948ءکی اقوام متحدہ کی قرار داد میں درج تین شرائط کی خلاف ورزی کے بعد یہ افواج قابض کی تشریح میں آتی ہیں اور ان کا ہر اقدام جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقوام عالم کو اس امر سے بھی آگاہ کرنا ہے کہ 31مارچ 1959ءتک بھارتی شہری کا ریاست میں داخلہ ایک پرمٹ یعنی ویزے کے تحت ممکن تھا اور اس پرمٹ کی شرط کو بھارتی حکومت نے دباﺅ اور سازش کے تحت یکم اپریل 1959ءمیں ریاستی وزیر اعظم بخشی غلام محمد کے ہاتھوں ختم کرایا۔ ریاستی وزیر اعظم کا یہ قطعی اختیار نہیںتھا کہ وہ بھارتی شہریوں کی کشمیر آمد کی یہ شرط ختم کرے کیونکہ سرینگر اسمبلی پوری ریاست کی نمائندہ اسمبلی نہیں بلکہ یہ صرف ریاست کے ایک حصے سے منتخب ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان بالخصوص وزیر اعظم پاکستان کا بحیثیت چیئرمین آزاد جموں و کشمیر کونسل یہ فرض ہے کہ وہ اقوام متحدہ کو باخبر کرےں کہ بھارتی باشندوں کی ریاست میں داخلے پر پابندی کی چھوٹ سیکورٹی کونسل کی 30مارچ1951ءکی قرار داد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارتی افواج کاوجود بھارتی شہریوں کی کشمیر میں کھلی آمد، مسلم اکثریت کو ختم کرنے کی کارروائیاں ایسے ایم معاملات ہیں جن کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج کا بھارتی فوجی جابر اور قابض فوجی ہے اور کشمیریوںکی نسل کشی میں اس کا کردار جنگی جرائم کی صورت میں دنیائے عام کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم حکومت آزاد کشمیر کے رول کا ایک دیانتدارانہ تجزیہ کریں اور بیس کیمپ کے نام پر اس کے نامہ اعمال کا محاسبہ بھی کریں، اس حکومت کی جس ذمہ داری سرے سے موجود نہیں بلکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی حکومت کے ساتھ ایک غیر جانبدارانہ موازنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حکومت نام کی تو ہے مگر کام کی نہیں۔ ایک سیاسی کارکن کی موت پر حکومت آزاد کشمیر نے ایک دن کا سرکاری سطح پر سوگ منایا کسی بھی ریاستی باشندے کی موت پر افسوس اور سوگ پر کوئی اعتراض نہیں مگر اس حکومت نے وادی کشمیر میں 35کشمیریوں کی شہادت اور سینکڑوں کشمیریوں کے شدید زخمی ہونے پر کسی طرح کا اظہار نہیں کیا بلکہ حکومت آزاد کشمیر کی یہ بے حسی باعث شرم ہے اور اس کی یہ لاتعلقی آئینی ذمہ داری سے سنگین انحراف کے مترادف ہے۔ حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر، ملک کے باہر رہنے والے پاکستان اور کشمیری مل کر وادی میں جاری قربانیوں کے سلسلہ کو رائیگاں نہیں ہونے دیں اور لمحہ موجود میں سفارتی، سیاسی، اخلاقی، مالی یہاں تک کہ عسکری حوالوں سے بھارتی فوج کے خلاف لڑنے والے ، اور مزاحمت کرنے والوں کی بھر پورامداد کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اب وقت عمل کا آگیا ہے۔ عملی اور حکمت سے ہم دنیا کو کشمیر میں مداخلت کرنے پر آمادہ کرسکتے ہیں، بھارتی افواج کے خلاف ہر طرح کی مزاحمت اہل کشمیر کا بنیادی حق ہے اور اس حق میں اقوام متحدہ کا کلیدی کردار ہے۔ کسی کردار کیلئے مدعی اور وکیل دونوں کا چست ہونا لازم ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>