Published On: Thu, Aug 25th, 2016

جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کی چنگاری

Share This
Tags

arif bسیدعارف بہار

سری نگر میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اینی پال وسنت کمار اور جسٹس مظفر حسین عطار پر مشتمل ایک بینچ نے ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران رائے دی ہے کہ بھارت کی حکومت کشمیریوں کا اپنا نہیں سمجھتی ۔بینچ نے کہا ہے کہ فورسز کو عوامی مظاہروں سے نمٹنے کے لئے پیلٹ گن کی بجائے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔عدالت نے عوامی مظاہروں سے نمٹنے کی صلاحیت اور تربیت کے حوالے سے رپورٹ یکسر مسترد کردی۔جموں وکشمیر بارایسویسی ایشن نے بھی بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف ہائی کورٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا ۔ تادم تحریربرہان وانی کی شہادت کو ستائیس دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک مقبوضہ کشمیر شدید کرفیو کی زد میں ہے۔بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی تعداد باون ہو گئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ کشمیر کے حالات کی وجہ سے کنٹرول لائن پر ہونے والی تجارت اور آمدورفت میں بھی بار بار خلل پڑ رہا ہے ۔ان دنوں کنٹرول لائن کے چکاں دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر تجارت معطل ہو چکی ہے ۔ان ستائیس دنوں میں بھارتی فوج کی طرف سے چھروں والی بندوقوں کے استعمال سے دلدوز واقعات اور روح فرسا داستانیں جنم لے رہی ہیں۔سری نگر سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار گریٹر کشمیر کے مطابق شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ میں شاہنوا ز نامی ایک پچیس سالہ نوجوان اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکا ہے جس کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے ۔اس کی تئیس سالہ نوبیاہتا دلہن اس بات سے قطعی بے خبر ہے کہ شاہنواز دوبارہ اس دنیا ،اور دنیا کے رنگوں اور ،کشمیر کے حسن اور ڈل کی رونقوں ،گلمرگ کے نظاروں اور پہلگام کی رونقوں کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکے گا ۔اخبار کے مطابق شاہنواز اس دن کو یاد کرتا ہے جب اس کی آنکھوں کا نور پیلٹ گن نے چھینا تھا ۔وہ بتاتا ہے کہ وہ قطعی پرامن مظاہرے میں شامل تھا جب بھارتی فوجی مظاہرین پر ٹوٹ پڑے تھے اور پھر یہ دن اور یہ لمحے اس کے لئے روح فرسا یاد بن کر ٹھہر گئے تھے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ چوبیس دنوں میں دو سو ساٹھ نوجوان ہسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں جن کی ایک یا دونوں آنکھیں پیلٹ گن کے باعث متاثر ہوئی تھیں۔ابھی تک اسی نوجوانوں کی ریٹینا سرجری کی جا چکی ہے ۔اخبار نے تین معصوم بچوں کے والد چوبیس سالہ محمد اشرف کی داستان الم بھی رقم کی ہے جو فوج کی طرف سے پھینکے گئے آنسو گیس کے شیل سے زخمی ہوا ۔جس سے اس کا دماغ اور چہرہ بری طرح متاثر ہوگیا۔اشرف جب زخمی ہوا تو اس وقت گائوں میں مظاہرہ جاری تھا مگر اشرف اس مظاہرے میں شامل نہیں تھا ۔اس کے گھر والے لاعلم ہیں کہ آنسو گیس کا گولہ کہاںسے آکر اسے جا لگا۔شیر کشمیر ہسپتال میں داخل ہونے والے ایک سوساٹھ زخمیوں میں سے تیس ایسے ہیں جنہیں گولیاں لگی ہیں۔دوسری طرف میڈیا میں ایک ایسی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں سید علی گیلانی ایک دیوار پر”گو انڈیا گو بیک” لکھ رہے ہیں۔یہ جدوجہد کو پرامن انداز میں آگے بڑھانے کا ایک اندازہے ۔برہان وانی کی شہادت کے بعد ستائیس دن گزر گئے مگر کشمیر میں کہیں بپھرے ہوئے ہجوم نے بھارت کی چوکیوں کو نشانہ نہیں بنایا،کسی تھانے اور ایجنسی کے دفتر پر دھاوا نہیں بولا،کسی بھارتی سیاح کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ کسی ہندو یاتری پر تشدد کیا۔اس کے برعکس کشمیری عوام کلی طور پر پرامن تحریک چلارہے ہیں ۔وہ اپنے تئیں یاتریوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں ،کرفیو میں پھنسے ہوئے سیاحوں کے خور دونوش کا بندوبست کر رہے ہیں۔یہی لوگ بھارت واپس جا کر اپنے متعصب میڈیا پر کشمیریوں کے اس انداز میزبانی کا تذکرہ کرنے پر مجبور ہو تے ہیں ۔بھارت اس وقت یک طرفہ طور پر کشمیریوں پر چڑھ دوڑا ہے ۔کشمیری پرامن طور پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔آج کسی مظاہرے میں قمیض کے نیچے سے بندوق جھانکتی دکھائی نہیں دیتی ۔کسی ہاتھ میں دستی بم نظر نہیں آتا ۔وادی کے لوگ خالی ہاتھ آزادی اور حق خودارادیت کے حق میں نعرے بلند کررہے ہیں اور بھارت ان نعروں کو ہضم اور برداشت کرنے کو تیار نہیں۔وہ طاقت کا سہار لے کر کشمیریوں کا وجود مٹاڈالنے پر بضد ہے۔یہ صورت حال رفتہ رفتہ آزادکشمیر کو بھی متاثر کرنے لگی ہے اور آزادکشمیر میں ایک بار پھر نوے کی دہائی کی صورت حال پیدا ہو نے لگی ہے جب پہلے مرحلے پر اس خطے میں مظاہروں کا سلسلہ چل نکلا تھا ۔میڈیا پر سری نگر کے حالات کی کوریج میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ظلم کی داستانوں نے عام اور جذباتی نوجوانوں کے ذہنوں پر اثرات مرتب کرنا شروع کئے تھے پھر یہ نوجوان مختلف تنظیموں کا سہارا اور لیبل لگا کر کنٹرول لائن عبور کر کے وادی میں داخل ہونے لگے تھے اور یوں کشمیر ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے خرمن ِ امن کی چنگاری بنتا جا رہا ہے جو امیدوں اور امن کی ساری فصل کو بھسم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہی دن تھے جب مظفرآباد سے عوام کے قافلے کنٹرول لائن توڑنے کے لئے چکوٹھی کی جانب مارچ کیا کرتے تھے۔ان میں سے اکثر کوششیں بھارتی فوج یا آزادکشمیرپولیس کے ساتھ کسی خونیں تصادم پر منتج ہوتی تھیں۔جماعت الدعوة کی فلاح انسانیت فاونڈیشن کی طرف سے سری نگر کے لئے امدادی سامان ٹرک بھیجنے کی کوششیں آزادکشمیر پولیس کی طرف سے ناکام بنا دی گئی ہیں کیونکہ بھارت کی طرف سے امدادی قافلوں کو کنٹرول لائن عبور کرنے کی اجازت نہ دینے کا واضح اعلان کیا گیا تھا۔ پہلی کوشش ناکام سہی مگراس انداز کی کوششیں اب ہوتی رہیں گی۔یہ سب اس خطے کے امن واستحکام کے لئے کسی طور اچھا شگون نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>