Published On: Thu, Aug 25th, 2016

جشن آزادی مبارک

Share This
Tags

Mabail

١٣ اگست ١٩٤٧ء کو رات ١٢ بجے ہندوستا ن کے ریڈیو پر ایک نشری اعلان ہوا۔۔۔ہندوستان کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے اور ایک نئی مملکت پاکستان معرض وجود میں آچکی ہے۔اس اعلان کے ساتھ ہی مسلمانان ہند کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ان کا کئی برسوں کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ فرمان امر ہو گیا کہ،وہ کون سا رشتہ ہے جس سے مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی بنیاد استوار ہے؟وہ کون سا لنگر ہے جس سے امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟وہ رشتہ، وہ چٹان وہ لنگر ،خدا کی کتاب قرآن مجید ہے۔ یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے آگے بڑھتے جائیں گے ،ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔َ جشن آزادی مسلما نان بر صغیر کے لئے عید کی خوشیوں کی مانند ہوتا ہے۔ سارے پاکستان،آزاد کشمیر اور مقبوضہ وادی میں پاکستان کے رنگ برنگے پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں پاکستان کے رنگ برنگے پرچم اور جھنڈیاں ہوتی ہیں۔مختلف قسم کے سٹیکرز اور بیج ہر مرد و زن نے زیب تن کئے ہوتے ہیں۔ پاکستان بننے کی خوشی کو آج 69 برس بیت جانے کے بعد بھی جس طرح سے منایا جاتا ہے دنیا کے کسی ملک کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا۔ ہر شخص کی زندگی کا کوئی نظریہ ہوتا JaSmi Azadiہے ۔ نظریے کے بغیر زندگی بے مقصد ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے کسی بھی انقلابی تحریک کے پیچھے کوئی نہ کوئی نظریہ کار فرما ہوتا ہے۔کسی بھی قوم کی اجتماعی زندگی میں نظر یے کی حیثیت روح کی مانند ہوتی ہے۔نظرئیے سے زندگی کا نظام بنتا ہے اور زندگی کی جہت متعین ہوتی ہے۔پاکستان بننے کے پیچھے جو نظریہ کار فرما تھا وہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول ۖ تھے۔ مسلمانوں نے یہ ملک اس عہد پر حاصل کیا تھا کہ ہم اپنی زندگیاں اس ملک میں کتاب اللہ اور سنت نبویۖ کے مطابق گزاریں گے اور اس وطن کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کے چند واقعات اگر قلمبند نہ کئے جائیں تو بات تشنہ رہ جاتی ہے۔مسلم لیگ کی عوامی تحریک نے پاکستان کو وجود بخشنے میں کردار ادا کیا۔ اسی مقصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لیئے ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء کو قرار داد لاہور پیش کی گئی۔ جس میں ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ جسے بعد میں ہندوستانی پریس نے قرار داد پاکستان کا نام دیا۔اس قرار داد کا متن کچھ یوں تھا۔،،اس ملک میں کوئی ایسا دستوری خاکہ قابل عمل یا مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہ ہو گا جب تک وہ مندرجہ ذیل اصولوں پر مرتب نہ کیا جائے۔یعنی جغرافیائی اعتبار سے متصلہ خطے الگ کر دیے جائیں۔اور جو علاقائی ترمیمیں ضروری سمجھی جائیں کر لی جائیں۔تا کہ ہندوستان کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں جن علاقوں کے اندر مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے وہ یکجا ہو کہ ایک ایسی آزاد ریاستیں بن جائیںجن کے اجزائے ترکیبی خود مختار اور مقتدر ہوں،۔اس قرار داد کے منظور ہوتے ہی کانگریسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ وہ بھلا کیسے مسلمانوں کو آزاد دیکھ سکتے تھے۔لیکن اللہ کی مہربانی سے صرف سات سال کے عرصے میں مملکت خداداد پاکستان منشہا شہود پر ایک حقیقت بن کر عالمی نقشے پر ابھر کر سامنے آیا جسے ہندوستان نے آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا اور روز اول سے ہی بھارت پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا اور ١٩٧١ء میں بھارت پاکستان کو دو لخت کر نے کی سازش میں کامیاب ہو ہی گیا ۔ اور اب کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہو کر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ صرف وہ رد عمل ہے جو ١٩٤٧ء میں بابائے قوم کی قیادت میں پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج تک بھارت سے ہضم نہیں ہو رہا اور وہ بد ہضمی کے ڈکار لے رہا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل کے جو اہم واقعات ہیں ان کو میں مندرجہ ذیل نکات میں سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔ ١۔کرپس مشن ١٩٤٢ء اسے کانگریس نے رد کر دیا۔
٢۔ہندوستان چھوڑ دو تحریک اور گاندھی جناح مزاکرات، ٣۔شملہ کانفرنس ١٩٤٥ئ، ٤۔کیبنیٹ مشنِ٥۔مائونٹ بینٹن کی آمدَ۔ یاد رہے پاکستان اور ہندوستان کا ایک ساتھ رہنا نہ صرف مشکل تھا بلکہ نا ممکن بھی۔ اس کی وجوہات یوں ہیں۔ مسلمان صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں جب کہ ہندوئوں کے کئی خدا ہیں۔مسلمان گائے کا گوشت بڑے شغف سے نوش فرماتے ہیں جب کہ ہندو گائے ماتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں ذات پات کی کوئی تفریق نہیں اللہ کے ہاں وہی بڑا ہے جو زیادہ متقی ہے لیکن ہندوئوں کے ہاں انسانوں کو مختلف ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔مسلمانوں کی ثقافت، مذہب ،رہن سہن ،شادی بیاہ،موت و حیات ہندوئوں سے قطعی الگ ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں نے پاکستان حاصل کر کے جشن تو منانا ہی تھا جو آج اللہ کے فضل سے گلی گلی ،محلے محلے اور گھر گھر میں جشن پاکستان بنایا جاتا ہے۔ظلم یہ کہ جب کانگریسی وزارتیں عمل میں لائی گئیں تو انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کو زیر عتاب کیا بلکہ وہ اس حد تک چلے گئے کہ بابائے قوم سمجھ گئے کہ اب ان دو قوموں کا ایک ساتھ رہنا نا ممکن ہو چکا ہے۔ بابائے قوم اور ان کے رفقاء کی محنت کے نتیجے میں بالآخر پاکستان ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو دنیا کے نقشے میں ایک اسلامی مملکت کے طور پر ظہور پذیر ہوا۔دشمن کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہمارے پاس ایک جناح ہوتا اور پاکستان کے پاس سو گاندھی تو تب بھی پاکستان نہ بنتا۔ واقعی اس عظیم شخص نے حضرت اقبال کے خواب کو صرف سات سال کی محنت کے بعد تعبیر دے دی۔ انہی کی محنت شاقہ کی وجہ سے آج ہم آزاد سر زمین پر آزاد باشندوں کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان قدرت کا ایک انعام ہے ، جس کی قدر اور توقیر کرنا ہم سب پر فرض ہے۔اپنے ملک سے محبت کرنا اور ایسا ملک جو بنا ہی اللہ تعالی کے نام پر ہو جزء ایمان ہے۔پاکستان زندہ باد، قائد اعظم پائندہ باد

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>