Published On: Thu, May 19th, 2016

بھارت کے شرارت آمیز اقدامات اور رائے شماری کی تیاری

Share This
Tags

بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی ایک نسل کے بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل عام کے بعد ریاست میں ایسے اقدامات کررہا ہے جن کا مقصد علاقے کی مسلمان اکثریت کو یکسر تبدیل کیا جانا ہے۔1947ءسے لیکر ماضی قریب تک بھارت ریاست کی مسلمان اکثریت کو زک پہنچانے کے حربے میں ناکام رہا تھا مرحوم مفتی محمد سعید کے دور حکومت میں گزشتہ سال ریاستی حکومت نے بھارتی فوجیوں جن میں غیر ریاستی فوجیوں کی بھی تعداد شامل ہے کی آباد کاری کیلئے ڈسٹرکٹ سرینگر اور بڈگام میں زمین کی نشاندہی اور اسکے حصول کیلئے ایک تحریک کی تھی۔
بھارت فوجیوں کی آباد کاری کی اس آڑ میں مغربی پاکستان سے آئے ہوئے مہاجروں کو ریاست بھر میں غیر ریاستی سرکاری افسران، بھکاریوں کی پناہ گاہوں ، کشمیر میں موجودغیرریاستی طلباءکی آباد کاری اور سینک فوجی کالونیاںبنانے کی غرض سے ریاست کے اہم مقامات پر زمینوں پر قبضہ کرنے کے ایک بڑے منصوبے پر عملدرآمد کررہا ہے۔
اس سلسلے میں گورنر راج کے دوران اپریل 2015ءمیںراجیہ سینک بورڈ (Rajya Sainik Bord) جس کے سربراہ ریاستی گورنر این کے وہرا ہیں کی میٹنگ میں اولڈ ائیر پورٹ سرینگر کے قریب سینک کالونی بنانے کی منظوری دی گئی تھی۔ شروع میں 173کنال زمین کی نشاندہی کی گئی تھی۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ 4اپریل 2016ءکو وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ہفتہ بعد 11اپریل 2016ءکو ریاستی محکمہ جو براہ راست محبوبہ مفتی کی زیر نگرانی خدمات انجام دے رہا ہے نے ڈسٹرکٹ سرینگر اور ڈسٹرکٹ بڈگام کے ڈپٹی کمشنرز سے States رپورٹ طلب کی ہے اور سینک کالونی کے معاملہ پر عملدرآمد فاسٹ ٹریک پر چلانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ریاست کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ بھارت اپنے ریٹائرڈ غیر ریاستی فوجیوں اور ان کے عیال کو ریاست میں آباد کرانے کے خفیہ اور ظاہری اقدامات میں مصروف ہے۔ اگرچہ اس سازش کی ابتداءمفتی محمد سعید مرحوم کے دور حکومت میں ہوئی مگر عملی جامہ پہنانے اور فاسٹ ٹریک پر لانے کی کارروائی گورنر راج کے دوران کی گئی۔ یہ حسن اتفاق نہیں ہوسکتا بلکہ ایک سازش ہے کہ بھارتی فوجیوں کی آباد کاری کے لئے زمین حاصل کرنے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کا اصل فیصلہ گورنر راج میں ہوا۔
بدنیتی پر مبنی یہ کارروائیاں ریاستی قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کہی گئی تشریخ اور تنبیہ کے منافی بھی ہے۔ متنازعہ ریاست کا نہ صرف اکثریتی مسلم تشخص تبدیل کیا جارہا ہے بلکہ پشتنی باشندگی کے ریاستی قانون کی پہلی بار سرعام خلاف ورزی کی جارہی ہے۔
محبوبہ مفتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد 16اپریل 2016ءکو راجیہ سینک بورڈ کی راج بھون میں کی گئی، میٹنگ میں 173کنال زمین کا تقاضہ بڑھاکر 350کنال کردیا گیا ہے۔ RSBکے سیکرٹری بریگیڈئر ریٹائرڈ R.S.Langeh نے میٹنگ کی تفصیل کا حوالہ دیتے ہوئے پیرا3.7 کی طرف توجہ دلاتےہوئے کہا کہ 173کنال سے بڑھا کر جو350 کنال زمین کا مطالبہ کیا گیا ہے اس کی وجہ آباد کاری کے خواہاں افسراں میں اضافہ ہے۔ یہ تعداد اب 126افسران ، 125جونیئر کمیشنڈ افسر اور 95دوسرے فوجی ہیں جن کیلئے اب 350 کنال زمین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب نظرثانی شدہ تجویز تحریک کی گئی ہے۔
بھارت کا پانچ کیٹگریز کی کشمیر میں آباد کاری کا یہ منصوبہ ایک شرارت آمیز منصوبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی تشحص پر کاری ضر ب لگانے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ ان پانچرکیٹگریز کے علاوہ چھٹی کیٹگری کشمیری پنڈتوں کی ہے جنہیں ایک الگ کالونی میں اسرائیلی طرز پر آباد کاری کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔
بھارت کے عام شہری کیلئے 31مار چ1959ءتک ریاست میں داخلہ کیلئے ایک اجازت نامے (پرمٹ) کی ضرورت ہوتی تھی۔ وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے ایک سیاسی سودے بازی اور اقتدار کی ضمانت کیلئے بھارتی شہریوں پر ریاست میں داخلہ کے اجازت نامہ کی قید کو ختم کردیا اور آہستہ آہستہ ہندوستان کشمیریوں کے ساتھ بارشمیں کھڑے عربی اونٹ اور ٹینٹ میں موجود عربی کا کھیل کھیل رہا ہے۔ جس طرح اونٹ نے بارش سے بچنے کیلئے عربی مالک سے صرف گردن ٹینٹ کے اندر رکھنے کی اجازت کی شروعات کے بعد مکمل ٹینٹ پر قبضہ جمالیا اور عربی کو ٹینٹ سے بے دخلکردیا عین اسی طرح بھارت رفتہ رفتہ اسرائیلی طرز کی کالونیاں ریاست کے اندر آباد کرکے یہاں کے مسلم تشخص کو مٹانے کے ایک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی حکومت کو متنبہ کیا جائے کہ وہ بھارت کے اس مکروہ منصوبے کو فی الفور بند کرے اور اس بات کا خیال رکھے کہ ریاستی حکومت ایک نمائندہ حکومت نہیں بلکہ ریاست کے ایک حصہ پر منتخب ہوئی ہے اس کی اس قسم کے اقدمات میں حصہ داری کشمیری قوم کے ساتھ غداری اور ریاستی مفادات سے لاپروائی قرار پائے گی۔
کشمیری قیادت اور سول سوسائٹی اور حکومت پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی اس مکروہ چال کی اطلاع اقوام متحدہ کو فی الفور کرے اور تمام عالمی فورمز پر بھارت اور بھارت نواز کشمیری قیادت کے اس فعل کی نشاندہی کرے۔ ہندوستان کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے ریاست کی تین اکائیوںمقبوضہ کشمیر،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان ،بھارت، پاکستان اور دنیا بھر میں موجود پشتنی ریاستی باشندوں اور سیاستدانوں پر لازم ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے بسائی جانے والی ان چھ کالونیوں کا سختی سے نوٹس لیں اور راست اقدام کریں تاکہ بھارت اپنی پسند کی آبادی بساکر رائے شماری کرانے کے اچانک اظہار پر اپنی توقعات کا نتیجہ برآمد کرانے میں کامیاب نہ ہوپائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>