Published On: Thu, May 19th, 2016

بھارت کیلئے سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت اس کے گلے کا پھندا ثابت ہو سکتی ہے

Share This
Tags

رپورٹ: عبدالروف بزمی ، عنبرین ترک۔۔۔فوٹو، عادل گل/ سٹیٹ ویوز
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی ضلع بارہمولہ کے گاوں نارا تھل میں پیدا ہوئے ۔1973 میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1982 میں لندن چلے گئے۔1984 لندن میں جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کی بنیاد رکھی۔انہوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ میں خصوصی مشاورتی تنظیم جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے سیکرٹری جنرل ہیں اور اقوام متحدہ کے قیام ا من، فلاح و بہبوداور انتخابات کی نگرانی کے امور کے چالیس ماہرین میں شامل ہیں ۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی سٹیٹ ویوز کے دفتر آئے تو سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹر نذیر گیلانی سے جو سوالات پوچھے ان کے جوابات پیش خدمت ہیں۔
ڈاکٹر محمد رفیق :اس وقت تک آپ کی تنظیم نے جو کچھ کیا ہے ،اس بارے میں کشمیری عوام کو آگاہ کریں۔

????????????????????????????????????

ڈاکٹر سید نذیر گیلانی : ہماری تنظیم جے کے سی ایچ آر1984سے حق خودارادیت کو اجاگرکرنے اورانسانی حقوق کے دفاع میں مصروف عمل رہی ہے اگرچہ اس عمل کی مکمل تفصیل کا تذکرہ ممکن نہیں تاہم یہ کہنا ضروری کہ: (1)سرنیگر میں 8اور 9 جنوری 1990 کی درمیانی رات کو جو گولی چلی اور شہادتیں ہوئی اس کی پہلی اطلاع ہم نے اقوام متحدہ کو 10 جنوری 1990 کی صبح دی تھی یعنی نہ آزاد کشمیر سے اور نہ پاکستان سے اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر سے کسی نے اطلاع دی، اس تحریک کے دوارن یہ ہمارا پہلا کام تھا ، (2) پھر ہم اقوام متحدہ کی دعوت پر اسی سال مئی میں اقوام متحدہ گئے اور ہم نے ان کو 12 نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس میں قیدیوں کے بارے میں اور دیگر معاملات بھی زیر بحث آئے۔ سب سے بڑا کام جو کیا وہ 1948سے لے کر1990 تک پہلی دفعہ اقوام متحدہ میں ضابطہ 1503 کے تحت ہم نے ہندوستان کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا، ایسا پہلی مرتبہ ہوا ۔ اس مقدے کی کاروائی ان کیمرہ ہوئی اور یہ بھارت کے لئے شرمندگی کا موقع تھا ۔ 1948 سے لے کر 1990 تک کشمیر میں ہمارے علاوہ انسانی حقوق کا کوئی مشن نہیں تھا (3) پھر ہم نے بین الااقوامی سطح پر دو بڑے وفد کشمیر میں لائے، 1993اور 1995 میں ، پہلا وفد انٹرنیشل فیڈریشن آف ہومن رائٹس (ایف آئی ڈی ایچ( FIDH فرانس کی تنظیم ہے ) ا س کا 6 رکنی وفد ہم نے لایا جس نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کیمپو ں کا دورہ کیا۔ اسی طرح ہم نے ایک دوسرا وفد ڈبلیو ایس وی، (WSV )جو جرمنی کی تنظیم ہے کوآزاد کشمیر لایا،(4) ہم نے ایف آئی ڈی ایچ اور ڈبلیو ایس وی کے تعاون سے اگست1993 میں اقوام متحدہ کے ا نسانی حقوق کے 49ویں اجلاس کے دوران مقبوضہ کشمیر کی ایک خاتون بیگم شمیم شال کو ان کے خاندان سمیت گواہ کے طور پر پیش کیا اور کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ۔(5) دسمبر 1990کو ہم نے انسانی بنیادوں پر آزاد کشمیر کے مہاجر کیمپو ں میں ریلیف تقسیم کیا اس میں آزاد حکومت نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔ 6))آزاد کشمیر کا ایک وفد جس میں سردار خالد ابراہیم خان ، سردارعتیق احمد خان ، عبدالرشید ترابی اور دیگر لیڈر شامل تھے ان کو جنیوا انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لئے مدعو کیا،(7) اس کے بعد 1993 میں ورلڈ ہومن رایٹس کانفرنس ویانا میںجے کے سی ایچ آر نے بھرپورکردار ادا کیااور ان اقوام کی نمائندگی کی جن کی اقوام متحدہ میں نمائندگی نہیں تھی ، یہ ہمارے لئے بہت بڑا اعزاز تھا اور وہاں پر ہم نے ایک نمائش کا ا ہتمام بھی کیا ۔ جموں و کشمیر کونسل براے انسانی حقوق ریاست کے تمام حصوں میں واحد تنظیم ہے جس کو اقوام متحدہ میں خصو صی مشاورتی درجہ حاصل ہے اس وجہ سے ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پر تحریری دستاوایزت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ارسال کرتے ہیں جو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ دستاویزات کے طور پر اجلاس میں تقسیم کی جاتی ہیں۔19دسمبر 1995کو آسام راشٹریا رائفل نے میرے والد سید سعد الدین گیلانی ، میرے چچا سید جعفر گیلانی اور ماموں سید حمید گیلانی کو مجاہدین کی امداد کرنے اور اپنے باغات میں اسلحہ چھپانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ ان کی گرفتاری کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے بھارتی حکومت کو فوری مراسلہ ارسال کرتے ہوئے تینوں افرادکی زندگی کی ضمانت طلب کی۔اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ان تینوں بزرگ افراد کو محض سید نذیر گیلانی کے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کے حقوق کے دفاع کے لئے اقوام متحدہ میں موثر کردار اور سرگرمیوں کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھااور بالآخر 22جنوری 1996کو اقوام متحدہ اور عالمی دباﺅ کی بنا پر بھارت نے اقوام متحدہ کو اطلاع دی کہ ان تینوں افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔
اکرم سہل : اقوام متحدہ کی قراداد یں اس کیٹگری میں شامل نہیں ہیں جن پر عمل درآمدضروری ہو پھر ہم لوگوں کو سچ کیوں نہیں بتاتے اور اس کے حل کے لیے دوسرا راستہ تلاش کیوں نہیں کرتے ؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:۔بظاہر یہ سوچ عام اور پختہ ہے کہ کشمیرسے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں چارٹر کے چیپٹر 6کے تحت آتی ہیں اسلئے ان کی تعمیل میں دشواریاں موجود ہیںیہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ ملکوں کے درمیان تنازعات کا تصفیہ اور کارروائی چیپٹر6کے تحت ہواکرتی ہے لیکن تصفیے اور تنازعات کے حل کے لیے ہونے والی یہ کارروائی چارٹر کے دوسرے چیپٹرز کے ساتھ جڑی رہتی ہے،کشمیر کا قضیہ عالمی امن اورسلامتی کو لاحق خطرے کے حوالے سے اقوام متحدہ میں چیپٹر 6 کے مطابق آرٹیکل 33کے تحت پیش ہوا لیکن اس کارروائی میں آرٹیکل 33اورآرٹیکل 34کا عمل دخل موجود ہے۔ سیکورٹی کونسل نے آرٹیکل 34کے تحت تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور تنازعہ کی تحقیق کے لئے Conflict Thetre,,کی طرف روانہ کیا امن اور سلامتی کی بحالی اور برقراری کے ساتھ ساتھ کشمیر یوںکے حق خودارادیت کے بنیادی حق کی تحویل بھی سامنے آئی چیپٹر6کے ساتھ ساتھ بحالی امن اور حق خودارادیت پرفیصلے کا دورخی تنازعہ چیپٹر 6کے علاوہ چیپٹر5،چیپٹر 7اورچیپٹر 9کی ذیل میں بھی آتا ہے ۔سیکورٹی کونسل اس مسئلہ کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے جمود کو توڑنے کے لیے اسے اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 36(3)کے تحت عالمی عدالت انصاف کو رجوع کرسکتی ہے ۔اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ کشمیرپر اقوام متحدہ کی قراردادیں چیپٹر 6کے تحت ہونے کی وجہ سے کسی طرح بھی ناقابل عمل ہیں۔ ان قراردادوں کوچیپٹر5،چیپٹر 7اورچیپٹر 9اور آرٹیکل 36(3)کا بھرپور تحفظ حاصل ہے۔
اطہر مسعود وانی :آپ کی نظر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت کے مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار کون ہے اور کیا بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:مسئلہ کشمیر کوئی تنازعہ نہیں یہ حق خود اریت کے حصول کا ایک مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ اور دنیا کے 195 ممالک کے درمیان زیر بحث ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک سے زائدتنازعات ہو سکتے ہیں مگر کشمیر کو تنازعہ قرار دینا مسئلہ کشمیر کی کلیت کو زچ پہنچانے کے برابر ہے۔ یہ کشمیریوں کا حق خوداختیاری کا معاملہ ہے جو اقوام متحدہ کا منصوبہ ہے اور بھارت اورپاکستان کو اس کی ذمہ داری سو نپی گئی ہے اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازعہ ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراز نہیں لیکن دونوں کو اس مسئلے پر حق خود ارادیت کو تسلیم کرنا ہوگا، تنازعہ اور حق خود ارادیت میں فرق ہے کیوں کہ حق خود ارادیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد ہے اور یہ مساوی اور برابری کے اصول پر ہے ،دنیا کی تمام اقوام مساوی اور برابر ہیں۔ایک کشمیری نہ ہندوستانی سے کمتر ہے اور نہ ہی پاکستانی سے کمتر ہے وہ برابر کا انسان ہے آج کی دنیا کی لغت میں اقوام متحدہ کی قرارداد وں میں اس حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اب جب پاکستان اور ہندوستان اس پر بات چیت کرتے ہیں اور بات چیت میں تعطل ہوتا ہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کی تشر تح غلط کی ہے اور جس دن یہ کہیں گے کہ یہ تنازعہ نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہے تو اس دن ان کے لیے آسانی ہو جائے کیو نکہ تنازعات اور بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کی ایک لمبی فہرست ہے،1947 سے لے کر اب تک بہت سے تنازعات حل ہوئے ہیں اور کئی حل طلب ہیں۔ یہ ٹھہراو جو بات چیت میں آ یا ہے وہ حق خود ارادیت کو متاثر کر رہا ہے۔حق خود ارادیت پر الگ اصول کے تحت بحث کرنی چاہیے دونوںممالک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے پابند ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو اقوام متحدہ کے حوالے کیا ہے ۔بات چیت میں تعطل کا فائدہ بھارت کو پہنچتا ہے کیونکہ بھارت کی یہ ایک سیاسی سمجھ ہے اور اس کی سیاسی سمجھ کی تشریح یہ ہے کہ اس میں تعطل ہو یہ مسئلہ جتنا طول پکڑے گا اس کا فائدہ بھارت کو ہوگا اور اس میں پاکستان کے لیے روز بروز مشکلات میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
اطہر مسعود وانی :حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر اور حریت کانفرنس آزاد کشمیر کا کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:سب سے پہلے آزاد کشمیر اور پاکستان میں تحریک حریت کشمیر(THK) تھی لیکن 31 جولائی1993 میں مقبوضہ کشمیر کے اندر ایک مشترکہ پلیٹ فارم کا قیا م عمل میں آیا ہے اس میں تمام مکتبہ فکر کی قیادت شامل تھی، اس میں کوئی الگ نہیں تھا اصل حریت تھی ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب حریت کی صحت پر بھی اثر پڑا ہے اور اس کی سیاست پر بھی اثر پڑا ہے اور اس کے ساتھ سیاسی جدوجہد سمیت مسلح جدوجہد بھی شروع ہوئی ۔1990سے 2005 تک اس دوران ہم نے دونوں تجربے کیے ، سیاسی تجربہ بھی کیا مسلح جدوجہد کا تجربہ بھی کیا اور اس پار کی اور اس پار کی حریت کانفرنس کے لیے خوداحتسابی ہی ان کے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے ان کو دیکھنا ہوگاکہ مسلح جدوجہد کے کیا فوائد تھے اور کیا نقصانات ہوئے اور مسلح جدوجہد کے جو تقاضے تھے کیا ہم وہ نبھا سکے اسی طرح ان کا جو کردار ہے وہ عوامی پلیٹ فارم پر زیر بحث نہیں آیااور ہم بھی اس لیے بحث نہیں کرتے کہ اگر کوئی کمزور پہلو ہے تو اس موقع پر کمزور پہلو منظر عام پر نہ آئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے احتساب کے عمل میں کوئی تاخیر ہورہی ہے تو تاریخ بھی احتسا بی عمل میں ٹھہراو پیدا کرے گی ، ہندوستان نے بھی ان کی کارکردگی پر نظر رکھی ہوئی ہے پاکستان نے بھی اور عالمی سطح پر بھی ان پر نظر رکھی جارہی ہے ، عالمی سطح کے ماحول میں جو احتساب ہے وہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن ہمارا براہ راست فی الفور احتساب یہ ہے کہ ہم کشمیری ہیں اور کشمیر کے نمائندے ہیں اورجو کشمیر کا نمائندہ ہے وہ ہر کشمیری کے سامنے اپنی مسلح اور سیاسی جدوجہد کے حوالے سے اور بین الاقوامی تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے حوالے سے بھی جوابدہ ہے ۔ ہم ان کے لیے دعا گوہ ہیںکہ یہ اپنے امتحان میں کامیاب اور سرخرو ہوں لیکن احتساب کا جو عمل ہے وہ کسی ایک شخص کے سامنے نہیں آیا۔
اطہر مسعود وانی:آزاد کشمیر حکومت کا کردار مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا ہونا چاہئے اور آزاد کشمیر میں موجودہ طریقہ کار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اس میں دو کردار ہیں ایک آئینی اور ایک سیاسی جو آزاد کشمیر کے ایکٹ1974 میں درج ہے ۔اگر حکومت بنائی گئی ہے تو وہ بہتر حکومت اوربہتر انتظامیہ مہیا کرے گی جو اس کی کلیت ہے۔ آزاد حکومت حق خود اراد یت کے سلسلے میں وہ تمام کارروائی کرے جو قراردادوں میں موجود ہے یہ پاکستان نے بھی تسلیم کیا اور آزاد حکومت نے بھی تسلیم کیاہے یعنی ایکٹ 1974 دو حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے، حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر پابند ہیں کہ وہ ہمیں بہتر حکومت اور بہتر انتظامیہ مہیا کریں تاوقت کہ حق خود اراد یت کا حصول ممکن نہ ہو جائے۔
اطہر مسعود وانی :کشمیری خود اپنی تحریک آزادی کو تقویت پہنچانے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:کشمیریوں نے ہر وہ عمل کیا جس میں انھیں امید کی کرن نظر آئی مسلح جدوجہد میں ان کو امید کی کر ن دکھائی دی تو اس میں قوم شامل تھی مگر کشمیریوں کی ایسی کوئی عسکری تربیت نہیں تھی کیونکہ وادی کے لوگ اس طرح کی جدوجہد سے آشنا نہ تھے جس طرح پونچھ کے لوگ ہیں یہ فوج میں رہے ہیں وادی کے لوگوں نے پرامن جدوجہد کی جو 1846 سے شروع ہوئی انہوں نے پہلی دفعہ مسلح جدوجہد کا تجربہ اس امید پرکیا کہ یہ انھیںکامیابی تک لے جائے گی لیکن اس کے عوض کشمیر کی ایک نسل شہید ہوئی اس سے بڑھ کر کوئی قربانی نہیں ہوسکتی۔کشمیریوں نے 1846 سے لے کر 2016 تک دنیا کی بدترین انسانی حقوق کی پامالی برداشت کی جس طرح انسانی حقوق مقبوضہ کشمیر میں پامال ہوئے اسرا ئیل نے بھی و ہ ہتھکنڈے اور جرم فلسطین کے عوام کے ساتھ روا نہ رکھے، بھارتی فوج نے کشمیری قوم کو بے عزت کیاان کے اعتماد کو ختم کیا، ان کو گرفتار کیا جاتاہے اور ان پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں۔ کشمیریوں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن بیرون ملک کشمیریوں نے جو جدوجہد کرنا تھی وہ اس طرح سے نہ کی جس طرز کی جدوجہد فلسطینوں نے کی ، فلسطینوں کی جدوجہد آزادی سے سبق سیکھنا چاہیے اور ہر وہ اقدام کرنا چاہیے جو فلسطین کی عوام نے کیا اقوام متحدہ پر فلسطین کا جھنڈا بھی لہرا رہا ہے تواتر کے ساتھ ان کی جدوجہد رنگ لارہی ہے۔
محمد ضیافت خان : ہماری آواز کو بین ا قوامی دنیا تک تیزی سے پہنچانے میں آپ کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اس کی ایک شہادت تو یہ ہے کہ ہم سٹیٹ ویوز کے دفتر میں آ ئے ایک ایسے ادارے کو جس نے ایک نئی فکر شروع کی ہے تو ہم نے یہ سمجھا کہ اپنی معاونت اور اپنا حصہ ڈالیں ۔ ہمارا سارا کام انٹرنیٹ پر ہے کیوں کہ آج کی دنیا کا سارا کام انٹرنیٹ پر ہوتا ہے اور آج کل نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ پوری دنیا میں ہر ملک کا سرکاری کام انٹرنیٹ پر ہوتا ہے انٹرنیٹ آپس میںہم آہنگ ہونے اورایک دوسرے سے جڑنے کا بہت بڑاذریعہ اور وسیلہ ہے۔ مصر کی ساری جدوجہد انٹرنیٹ پر تھی جو سب نے دیکھا اور جس قدر موثر طریقے سے انٹرنیٹ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم بھی انٹرنیٹ کے ذریعے اس تحریک کے ساتھ شامل ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ رابطہ کرنے کا یہ بہت بڑاذریعہ ہے ۔ کشمیر کی جو تین اکائیاں ہیں جن میں سرنیگر ، مظفرآباد ، گلگت اور بیرون ملک کشمیر ی ہیں ان کا جوذریعہ تعلق ہے وہ انٹرنیٹ ہی ہے جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کی جو دستاویزات ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے جاری ہوتی ہیں وہ سب انٹرنیٹ پر موجود ہیں اگر دنیا کا کوئی بھی ملک کشمیر سے متعلق مستند واقفیت حاصل کرنا چاہے تو وہ اقوام متحدہ کی ویب سائیٹ اور جے کے سی ایچ آر کی ویب سائیٹ پر جائے۔
سردار مظہر اقبال :کشمیر کے مسئلہ کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ کو ن ہے؟ اقوام متحدہ اس مسئلہ کو حل کرانے میں ناکام کیوں ہے ؟ کیااقوام متحدہ نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی ذ مہ داری بھی لی ہوئی ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:سارے لوگ ناکام ہوئے ہیں، پاکستا ن ناکام ہوا ، ہندوستان ناکام ہوا اور کشمیری عوام تینوں ناکام ہوئے ہیں ۔جنوری1948 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر میں موسم گرما میں رائے شماری ہو یعنی کہ پاکستان نے3 ماہ کا وقت دیا کہ ان 3 ماہ میں رائے شماری ہونی چاہے تھی اب اندازہ لگایا جائے کہ مارچ 1948کہاں اور مارچ 2016 کہاں ۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے کیا کوتا ہیاںکی ہیںاقوام متحدہ نے رائے شماری کے حصول کے لئے کشمیر یوں کو ایک پیکیج دیا اس پیکیج کی زیادہ تر ذمہ داری مقبوضہ کشمیر کی حکومت پر تھی ان کے ذمے رائے شماری کا منتظم مقر ر کرنا تھا اقوام متحدہ کی مشاروت کے ساتھ سرینگر کی حکومت نے ایک غیر جانبدار حکومت بنانی تھی لیکن آزاد حکومت اور ر گلگت بلتستان کی حکومت نے آج تک جموں و کشمیر کی حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کیا اور اقوام متحدہ کو یہ بات باور نہیں کرائی آپ ہندوستان کو تو چھوڑیں سرینگر کی حکومت کو جو آپ نے ذمہ داری دی تھی وہ اس پر پورا نہیں اتری، اقوام متحدہ نے ان کو پیکیج دیا اور بھارت ، پاکستا ن اور اس پار کشمیر کی بھی ذمہ داری لگائی لیکن کشمیر کے لوگوں نے اقوام متحدہ کے اس طریقہ کار کو سمجھنے میں اب تک تاخیراور غلطی بھی کی ہے کیوں کہ جس طریقے سے اقوام متحدہ کی قرارداروں کو سمجھا جارہا ہے سیاسی سطح پر ان کی وہ تشریح نہیں کی جاتی اگر یہ سمجھتے تو پھر آزاد کشمیر کی اسمبلی نے آج تک درجنوں قراردادیں پاس کی ہوتیں اور سرینگر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہوتا کہ وہ رائے شماری کے سلسلے میں دی ہو ئی ذمہ داری کو نبھائے اگر نہیں نبھا سکتے تو ہم نبھائیں گے ، آزاد کشمیر حکومت بھی اپنے آپ کو رضاکاررانہ طور پر پیش کر سکتی تھی اور اقوام متحدہ بلکہ حکومت پاکستان کو کہہ سکتی تھی اگر سرینگر حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے تو ہم تیار ہےں اقوام متحدہ کا وہ کام نبھانے کے لئے جو انہوں نے سرینگر حکومت کو دیا تھا یہ کہنا کہ اقوام متحدہ نے کلی طور کوئی کام نہیں کیا غلط ہے۔ 1965 تک دنیا کے باقی ممالک بھی ہمارا ساتھ دیتے رہے ہیں 1965 تک امریکہ ، چین ، برطانیہ ، آسڑیلیا اور فرانس پیش پیش رہے بلکہ فرانس نے یہاں تک کہا تھاکہ مسئلہ کشمیر کا رائے شماری کے سو ا کو ئی دوسرا حل نہیں ہے اور اس مسئلے کو بہت جلد منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے یہ صرف برصغیر کے لیے نہیں بلکہ باقی قوموں کے لیے بھی اچھاہو گا۔

مشتاق احمد خان: کیا آزاد کشمیر میں پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کا قیام، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی نہیںہے ؟ اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کشمیر پر حملہ آورہوا جس پر اقوام متحدہ نے پاکستان کو اپنی فوجی و سول قوت کو کشمیر سے نکالنے کا کہا جسے پاکستان نے تسلیم کیا اس کے باوجود پاکستان ایک فریق کیسے ہے ؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اول تو یہ درست نہیں کہ پاکستان اقوام متحدہ میں گیا تھا یا پاکستا ن نے حملہ کیا تھا یہ دعوی بھارت نے کیا تھا کہ پاکستان نے حملہ آورں کی معاونت کی جس کو اقوام متحدہ نے مسترد کر دیاتھا اقوام متحدہ نے دونوں ملکوں کو فوج کم کرنے کے لئے کہاتھا بھارت کی افواج پر کل 7پابندیاںلگائی گئیں ہیں جن میںچار پابندیاں کشمیر کے ساتھ عارضی الحاق کی دستاویز میں درج ہیں جن کی وجہ سے بھارتی فوج کی ریاست میں آمد ممکن ہوئی ،جب سرینگر حکومت نے بھارت کو کشمیر آنے کی دعوت دی تھی اس وقت سے بھارتی افواج ایک تابع فوج کے علاوہ ان چار پابندیوں کے بھی تابع آگئی ہے جس میں یہ تھا کہ بھارتی فوجی کو علاقہ کا دفاع کرنا تھا دوسرا زندگی کی حفاظت کرنا تھی تیسرا مال ا ور چوتھاعزت کا تحفظ کرنا تھا۔ سرینگر حکومت بھارت کو کہہ سکتی ہے کہ آپ ہماری جان و مال اور عزت کے تحفظ کے لیے آئے تھے لیکن آپ نے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا۔ان چار شرائط کی بنیاد پر آج ا گر سر ینگر حکومت چاہے تو بھارتی حکومت سے کہہ سکتی ہے کہ آپ آئے تھے ریاست کو اکھٹا رکھنے کے لیے مگر اس کے 3 حصے ہوگئے ہیں اور آپ ناکام ہوگئے۔ اقوام متحدہ نے بھی 21اپریل 1948 کی قرارددا د میں بھارتی افواج پر تین پابندیاں لگائی ہیں جس میں پہلی پابندی بھارتی افواج کے عدد پر دوسری ان کی نقل و حرکت پرجبکہ تیسری پابندی جائے تعیناتی پر لگائی گئی ہے ،بھارتی فوج کو کہا گیا کہ آپ کی تعداد کم سے کم ہوگی اور رویہ کے بارے میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی نقل و حرکت سے کسی کو حوف محسوس نہ ہو اور پھر کہا گیا کہ جگہ جس کا مطلب افواج کی تعیناتی تھا کہ فوج شہروں سے باہر رہے گی یعنی کل سات پابندیوں کے تابع آنے والی افواج کامعاملہ ہم موثر طریقے سے نہ اٹھا سکے اگر ہم پابندیوں کو بھارتی فوج کے خلاف اجاگر کرتے اور آزاد کشمیر حکومت یا آزاد کشمیر کے سیاست دان ان سات پابندیوں کو بھارت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتے تو حالات کسی بھی وقت بدل سکتے تھے ۔
سید تصور نقوی : 1980 کے عشرے تک کشمیر کی آزادی کی تحریک قوم پرستانہ اور سیکولر تھی، جب یہ تحریک مذہبی نظریات کے حامل لوگوں کے ہاتھوں میں گئی تو اسکے نتیجے میں سرینگر اور ویلی سے تین لاکھ پنڈتوں کو ہجرت کرنا پڑی جس سے اگر ہندو اکثریتی علاقے جموں اور بدھ مت اکثریتی علاقے لداخ کے لوگ بھی اس تحریک کے خلاف ہوگئے کیا اس سارے عمل سے تحریک کو کوئی فائدہ یا نقصان ہوا اور فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے تو اسکا ذمہ دار کون ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:دو طرح کی بات ہے ایک استدلال ہوتا ہے دوسرا آپ کسی جذبے کے تحت ایک دلیل پیش کرےں یہ بات درست نہیں ہے کہ صرف کشمیری پنڈت ہی بے گھر ہوئے کشمیری مسلمان پانچ مرتبہ بے گھر ہوے ہیں۔کشمیریوں کی پانچ نسلیں کشمیری پنڈتوں کے ہوتے ہوئے بے گھر ہو ئیںاور کسی کشمیری پنڈت نے کشمیری مسلمان کے بے گھر ہونے پر افسوس کا اظہار نہیں کیا جبکہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں کہ کشمیری پنڈت کشمیر سے کیوں بے گھر ہوئے۔اس کی کئی تاویلیں ہیںایک تاویل یہ ہے کہ ان کو ایک منصوبے کے تحت کشمیر سے بے گھر کیا گیا۔اگرچہ اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے لیکن ایک تصدیق آئی ہے حال ہی میں بھارتی را کے سابق چیف اے ایس دولت نے کتاب لکھی ہے اس نے لکھا کہ کشمیر پر1947 سے لیکر آج تک انٹیلی جنس (آئی بی)نے حکومت کی ہے اس نے لکھا ہے کہ 1990 میں آئی بی بے اثر ہوکر رہ گئی تھی اور اس کے پاں اکھڑ گئے تھے اس نے اہم بات یہ کی ہے کہ اس دوران کشمیر ی پنڈت افسران نے ہماری مدد کی تھی اور وہ اس وقت جاسوسی کے نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی بنے تو یہ بہت ہی لمحہ فکریہ ہے کہ کیا کشمیری پنڈت نے مسلمان پر نگرانی کا کردار ادا کیا جب کہ کشمیری مسلمان نے ایسا کبھی بھی نہیں کیا ۔ رائے شماری ایک قوم پر ستانہ سوچ ہے ، یہ کسی پنڈت ، سکھ ، بدھ مت اور مسلمان کے لئے نہیں ہے ۔رائے شماری میں تمام اقوام کا برابر کا حصہ ہے یہ تو ابھی بھی جامع تاریخ ہے ۔کشمیری
پنڈت کس کو ووٹ دیتا ہے وہ الگ بات ہے ،کشمیری مسلمان پر مظالم کے حوالے سے جو اعداد وشمار ہیں ا س پر کشمیری پنڈت کبھی اشک بار نہیں ہوا۔ کشمیر میں مظالم کے خلاف کشمیری پنڈت دہلی میں تو احتجاج کرسکتا تھا۔جو پنڈت کشمیر سے بے دخل ہوئے ہیں یہ نہیںکہ وہ رائے شماری میں حصہ نہیں لے سکتے بلکہ ان کے بے دخل ہونے سے مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کسی غیر کشمیری کو لا سکتا ہے تو یہ ایک فکر ہے جس کا کوئی میرٹ نہیں ہے کہ تین لاکھ پنڈت بے دخل ہوئے جو 3 لاکھ پنڈت دنیا بھر میں ہیں اس وقت وہ ہندوستا ن کی ترجمانی کرتے ہیں۔
عنبرین ترک :ا قوام متحدہ میں تنازعہ کشمیر کی اصل صورتحال کیا ہے اوریہ کیسے اقوام متحدہ کے لئے بہت اہم اور قابل حل مسئلہ بن سکتا ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ 1 جنوری 1948 کو بھارت لے کر گیا ہے لیکن اس سے قبل نومبر1947 میں برطانیہ کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں جانے سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم کو ایک ٹیلی گرام ارسال کیا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے اور اس کے ممکنہ حل پر رائے لی جائے ۔ بھارت کی کوشش تھی اپنے الحاق کو کسی طرح سے کور کرے اس پر بھارت نے درخواست دی اس میں 3 باتیں کی ہیں پہلی یہ کہ ہم چاہتے ہیں کہ سکیو رٹی کونسل یہ فیصلہ کرے کہ کشمیری ہمارے ساتھ الحاق کی تو ثیق کرتے ہیں یا کہ اس الحاق کو مسترد کرتے ہیں، اگر اس کو مسترد کرتے ہیں تو کیا وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں اگر وہ دونوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ہیں تو کیا وہ آزاد اور خودمختار ملک بنانا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کا رکن بنا چاہتے ہیں یہ تین تھیں۔7جنوری 2016 کو اقوام متحدہ میں پا کستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سیکورٹی کونسل کے صدر کو ایک مکتوب کے ذریعے اطلاع کی کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر لانے کے لیئے درخواست کرتی ہے یہ مسئلہ بدستور سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر ہے البتہ اس کی 1996میں پہلی دفعہ تواتر کی حیثیت متاثر ہوئی اور اب ہر سال ایجنڈے پر لانے کے لیئے یا د دہانی کی درخواست لازم ہوگی ہے۔ یہ مسئلہ بدستور اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں حل طلب مسئلہ کی حیثیت سے موجود ہے۔ مسئلہ کشمیر کے تین ہی نہیں بلکہ چار فریق ہیں یعی اہل کشمیر ، ہندوستان ، پاکستان اور اقوام متحدہ لہذا کو ئی بھی فریق اپنی سست روی سےا ست سے اس کی حیثیت کو متاثر نہیں کرسکتا۔
سیدعامر گردیزی : اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روح سے کشمیر یو ں کو استصواب رائے کا حق دیا جانا تھا جسکے مطابق کشمیر یوں کو ان کی مرضی کے مطا بق حق ہے کہ وہ جو فیصلہ کریں گے اس کو تسلیم کیا جائے گا لیکن کشمیر کے اندر تین گروپ ہیں ایک الحا ق پاکستان کی بات کرتا ہے دوسرا الحاق ہندوستان کی بات کرتا ہے اور تیسرا خود مختاری کی، کیا اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرانے کے لیے کشمیر یوں کا ایک پیج پر ہونا لازمی نہیں ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اقوام متحدہ کی قرادادیں کشمیریوں کو ایک صفحہ پر لاتی ہیں پہلے مر حلے میں حق خود اراد یت ہے جو کشمیر یوں کود یا جائے
جب رائے شماری ہو گی تو اس کے بعد کشمیریوں کی صوابدید پر ہے کہ وہ الحاق کریں یا ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں لائیں۔
الطاف حمید را ﺅ : کیا آپ کی این جی او اقوام متحدہ میں مستقل نمائندگی حاصل کرسکتی ہے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق، اقوام متحدہ میںموجود ہے، اس میں مستقل نمائندگی کا کوئی سوال نہیں ہے کیوں کہ ہم اپنے نمائندے کو خود نامزد کرتے ہیں ہم اقوام متحدہ کی ہر کاروائی میں حصہ لے سکتے ہیں مگر ووٹ نہیں دے سکتے ہیں ۔
سید عمر: کیا اقوام متحدہ بھارت کے سامنے بے بس ہے جو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلا ف ورزیوں پر ایکشن نہیں لے رہا ، کشمیری عوام کب تک اقوام متحدہ کو اپنا مسیحا سمجھتے رہیں گے؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:جو تنارعہ ہے وہ حق خود اراد یت کا ہے۔ حق خود اراد یت ایک خاص علاقے کے عوام کاہے اقوام متحدہ ایک عالمی عدالت کی حیثیت رکھتی ہے اور ان کے پاس کشمیریوں کا حق خود اراد یت کا مضبوط کیس ہے جن لوگوں کا حق زیر بحث ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے طریقہ کار کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔
کاشف میر:اقوام متحدہ کے پیس بلڈنگ کے سربراہ نے تو مسئلہ کشمیر کے مذاکرت میں براہ راست مداخلت کو خارج از امکان قرار دے دیا؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:اقوام متحدہ کی قراردادوں کی و ضاحت پیس بلڈنگ کمیشن کے سربراہ نہیں کرسکتے ۔ ان کے پاس صلاحیت ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی اختیار ہے ۔ وہ اقوام متحدہ کی قرراداووں کی تشر یح کرنے کے مجاز نہیں ہیں ۔ قررادادوں کی تشر یح سیکو رٹی کونسل کرسکتی ہے یا عالمی عدالت انصاف کرسکتی ہے۔
برکت حسین شاد:جب سے امریکہ نے اقوام متحدہ کو بائی پاس کرکے افغانستان پر حملہ کیا ہے، انڈیا بھی اسی طرح کے ایڈونچر کو اپنے لئے جائز سمجھتا اس کے خیال میں دہشتگردی کو بہانہ بنا کر آزاد کشمیر پر حملہ کرکے قبضہ کیا جا سکتا ہے خدا نہ کرے کبھی ایسی صورت حال درپیش آجائے تو اقوام متحدہ کیا پوزیشن لے گی ؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:افعانستان اور امریکہ کا تقابل بھارت اور پاکستان سے نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ بھارت کے دعوے کے خلاف پاکستا ن نے اقوام متحدہ میں جواب دعوہ دائر کیا اور اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو اقوام متحدہ کا اختیار ہے کہ وہ عمل درآمدکے لیے فوجی کاروائی کر سکتی ہے۔
سٹیٹ ویوز :مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:حکومت پاکستان نے 3 اچھے کا م کیے ہیں ، اپریل 2015 میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یوم شہدا کے موقع پر مسئلہ کشمیر پر غیر مبہم پالیسی کا اظہار کیا ، ہمیں ایک فوجی سوچ کا پتہ چلا کہ ان کی کشمیر پر کیا سوچ ہے اور عسکری دانش اور فلسفہ کلیئر ہوگیا۔ جنرل راحیل شریف نے اکتوبر 2015 کو لندن کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ RUSI) ) میں اپنے خطاب میں کشمیر کی واضع تشر یح کی ۔ سیاسی طور پر وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اچھی تشر ےح کی اور مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلا کی بات کی مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس کو آگے بھی جاری رکھیں ۔
عنصر شہزاد: اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل ناکامی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی پر ایکشن نہ لینے سے اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان کے بعد بھی اس کو غیرجانبدار ادارہ کہا جاسکتا ہے۔ ؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی: یہ طرز فکر اہل کشمیر کے لیے نہایت مضر او حقائق کے منافی ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ناکام ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ نے حق خودارادیت پر کشمیری عوام کی آزادانہ رائے معلوم کرنے کے لیے ایک جامع پروگرام ہندوستان ، پاکستان اور جموں و کشمیر کی حکومت کے علاوہ کشمیری عوام اور ریاستی اکاہیوں (آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان کو دیاہے جبکہ نہ ہی کشمیری عوام اور نہ ہی ان کی منتخب حکومتوں نے 1948سے لے کر اب تک کسی طرح کا کوئی جامع اقدام کیا ۔ کشمیری عوام کی سستی کی وجہ سے حق خودارادیت کی معتبریت کو زک پہنچا اور کشمیری عوام اس مسئلے کو پاک بھارت دوطرفہ تنازعہ بن جانے پر کسی طرح بھی مضطرب اور پریشان نظر نہیں آتے۔ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کی پہلی ذمہ داری کشمیر یوں کی بے عملی اور بھارت کو کھلی چھوٹ ملنا ہے۔ نسل کشی اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کاروائی کے لیئے اقوام متحدہ نے کئی میکنیزم رکھے ہیں جن میں انٹرنیشل کریمنل کورٹ کا میکنیزم افریقہ اور سربیا کے حکمرانوں اور فوجی قیادت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس عدالت نے حکمرانوں کو باقاعدہ سزائیں سنائی ہیں ابھی تک اہل کشمیر نے نہ ہی شہداکے کسی عدد کا ریکاڈ رکھا اور نہ ہی مربوط طریقے سے اس نسل کشی کے خلاف بھارت کو اقوام متحدہ کے سامنے بے نقاب کیا۔ اہل کشمیر اور ان کے ہمد ردوں کی بے عملی اور غفلت کو اقوام متحدہ کی غیرجانبداریت سے نہیں جوڑاجاسکتا تھا۔
سیداسدحسین گردیزی:آپ کے خیال میں کشمیری قوم پرستوں کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی کا مسترد ہو جانا کشمیریوں کے حقوق پر یلغار نہیں؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:انتخابات میں حصہ لینا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق ایک انسانی حق ہے۔ آزادنہ اظہار رائے اس کی بنیاد ہے۔ انتخابات میں ووٹ کی آزادی قوم پرست یا غیر قوم پرست ےادوسرے مکاتب فکرکا خاصا نہیں بلکہ یہ ہر کشمیری شہری کا مشترکہ اور ناقابل تردید حق ہے۔ قوم پرست مکاتب فکر نے کبھی یکجا ہو کر مشترکہ طور پر کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف ریاستی سطح پر کوئی مناسب اقدام نہیں کیا جو بھی اقدامات ہوئے وہ غیرمو ثر اور ذاتی سطح تک محدود رہے ۔ کسی قوم پرست کا انتخابات میںحصہ لینا کسی دوسرے مکتبہ فکر کے لیے پریشانی کا باعث اس لیئے نہیں ہونا چاہے کیونکہ آزاد کشمیر حکومت اپنے وجود کی تصدیق UNCIP قراردادوں کے تحت دی گئی ذمہ داریوں کے حوالے سے کرتی ہے۔ کاغذات نامزدگی مسترد ہوجانا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور آزاد حکومت کے مقصد وجود سے صرحی انحراف ہے ۔ قوم پرست اکثر آزاد کشمیر کی سیاست میں فیشن کی حد تک ہی دلچسپی رکھتے ہیں یا اس غرض سے انتخابات میںحصہ لیتے ہیں کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں اور وہ اسے عالمی سطح پر دوسرے ملکوں میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں وگرنہ آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد ہی UNCIP کے تحت تجویز کردہ ذمہ داریاں ہیں ۔
حنیف تبسم :اقوام متحدہ 68 سال سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہار ہے ؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:اس سوال کا جواب میرے انٹرویو میں پہلے ہی تفصیل سے دیا گیا ہے البتہ یہ کہنا ضروری ہوگا کہ اگست 2015میں وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی میں کافی عرصہ کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کو اس طوالت کی طرف متوجہ کیا ہے لیکن یہ امر بھی ضروری ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ کشمیر کو نومبر 1965سے لے کر اگست 1996 تک تقریبا 31 سال تک اقوام متحدہ میں زیربحث نہیں لایا گیا یہ اہل کشمیر اور ان کی قیادت اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ طوالت کے ان ماہ و سال کا شمار رکھیں اور اپنی حکمت عملی کو موثر کرنے کے اقدامات کریں۔اقوام متحدہ صرف وہی معاملات زیر بحث لاتی ہے جو متاثرہ اور متعلقہ فریق تواتر کے ساتھ زیر بحث لانے کے انتظامات کریں۔
راجہ سجاد:اقوام متحدہ میں صرف امریکہ کی ایما پر فیصلے ہوتے ہیں یا کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:اقوام متحدہ بظاہر امریکہ کے زیر اثر ہے لیکن مجموعی طورپر ایسا نہیں کیونکہ جہاں معاملات سیکورٹی کونسل میں امریکہ کے اثر سے متاثر ہوں وہ جنرل اسمبلی میں آجانے سے امریکی اثر اور مداخلت سے آزاد رہتے ہیں کیونکہ یہاں ایک ملک ایک ووٹ کا اصول رائج رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کو جنرل اسمبلی اور انسانی حقوق کونسل میں تحفط دینے میں ناکام رہا ہے اس کی بڑی مثال جنرل اسمبلی کے 70ویں اجلاس میں فلسطین کا اقوام متحدہ پر جھنڈا لہرانے کا معاملہ اور ووٹ کی اکثریت سے فلسطین کے مقاصد کامیاب ہوئے ۔
راجہ مشتاق:کیا اقوام متحدہ سے منسلک انسانی حقوق کی تنظیمیں آزادی سے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اور کوئی مثال ہے کہ ان کی وجہ سے کہیں اس ذیادتی میں کمی آئی ہو ؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی :ایسی کئی مثالیں ہیں جہاں امریکہ کو شرمندگی اور ناکامی ہوئی ایسی بڑی ناکامی اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق کی کونسل کا 2014 میں اسرائیل کے خلاف ووٹ تھا۔ اس قرارداد کے تحت ایک کمیشن مقرر ہوا جو اسرائیل کے غزا میں جنگی جرائم کی تحقیقات کررہاہے۔ جموں و کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق نے بھی اسرائیل پر بلائے گئے اس خصوصی اجلاس میں اپنی رپورٹ اسرائیل کے خلاف پیش کی۔
مسریب عباسی:کیا اقوام متحدہ صرف امریکہ کی مرضی کا اور اسرائیل کی مرضی کا کام نہیں کر رہی ؟ اگر نہیں تو فلسطین میں آج تک ظلم بند کیوں نہیں ہو سکا ؟ کشمیر کا تنازعہ اس میں رکاوٹ اقوام متحدہ ہی تو نہیں ؟ کیا مسئلہ کشمیر کا حل صرف جہاد نہیں ؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:اس سوال کے پہلے حصے کا جواب میں دے چکاہوں البتہ کیا مسئلہ کشمیر کا حل صرف جہاد نہیں کے سلسلے میں عرض ہے کہ یہ جہاد اقوام متحدہ کی نگرانی میں دنیا کے 195ممالک کو کرنے کی ترغیب دی جانی چاہے کیونکہ اہل کشمیر ہندوستان ، پاکستان کے علاوہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم فریق ہے اگر ہندوستان تواترکے ساتھ اقوام متحدہ کی قرادادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول سے روگردانی کی مہم جاری رکھے تو اقوام متحدہ فوجی کاروائی کاحق محفوظ رکھتی ہے۔ بہتر یہی ہوگا کہ کشمیری اپنے جہاد کے تجربے کے بعد اس عالمی جہاد کی طرف خصوصی توجہ دیں تاکہ ہندوستان کو دنیا کے 195 ممالک کی طرف سے کی جانے والی فوجی کاروائی کا خوف رہے۔
ادارہ گاش:کیا ہندوستان کے سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بنے کے بعد مسئلہ کشمیر متاثر ہوسکتا ہے؟
ڈاکٹر سید نذیرگیلانی:۔کافی عرصہ سے سیکورٹی کونسل میں جمہوری طرز کی کارروائی اوردوسرے رکن ممالک کی سیکورٹی کونسل میں شمولیت کیلئے اصلاحات پربحث جاری ہے پاکستان اور جرمنی نے اس مرتبہ بھارت کی امیدواری پر کئی سوالات اٹھائے اور دلیل دی کہ کسی نئے رکن ملک کی شمولیت سے جمہوری فکر کو نقصان نہیں پہنچناچاہیے۔جہاں تک فہم عامہ کا سوال ہے بھارت کیلئے سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت اس کے گلے کا پھندا ثابت ہوسکتی ہے کشمیر کے تنازعہ پر بھارت کی ہٹ دھرمی اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کرنا ،اقوام متحدہ کے چارٹر (2)1کی صرحاًخلاف ورزی ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت ہندوستان نے اقوام متحدہ کا رکن ہونے کیلئے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ اقوام کے درمیان برابری کے اصول اور عوام کے حق خودارادیت کی تکمیل اور حصول کیلئے ہر ممکن اقدام کرئے گا جب تک بھارت چارٹر کے آرٹیکل (2)1کی خلاف ورزی کرتا رہے گا اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تعمیل میں روڑے اٹکاتارہے گا سیکورٹی کونسل کی رکنیت تو دورکی بات، بھارت کی ایک ممبر ملک کی حیثیت سے بنیادی رکنیت بھی ختم ہوسکتی ہے۔سیکورٹی کونسل تک رسائی کیلئے بھارت کی راہ میں کشمیر ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ موجود ہے ۔
ادارہ گاش:کشمیر میں 1990کے بعد سیاسی اور مسلح جدوجہد کے شروع ہونے کے بعداب تک بھارت کے ردعمل پر آپ کیا رائے دیتے ہیں؟
ڈاکٹر سید نذیر گیلانی:۔کشمیر سے متعلق بھارت کی روزاول سے یہی کوشش رہی ہے کہ طوالت کی فضا پیدا کرکے کشمیریوں کو بددل اور کم حوصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو مشکلات میں گھیرکرکشمیر سے لاتعلقی پر مجبور کرے ،لیکن کشمیریرں کی بے پناہ قربانیوں اور استقلال سے بھارت کا یہ منصوبہ ناکام رہا۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کی کشمیر کے حوالے سے قومی سوچ میں دڑاڑیں پڑنی شروع ہوئی ہیں اور بھارتی سوچ انتشار کا شکار رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نرسہما راﺅ نے کشمیریوں کا دل جیتنے کے لیےSky is the Limit) (کی پیشکش کی ۔وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے انسانیت کشمیریت اور جمہوریت کافلسفہ پیش کیا جبکہ وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے مسئلہ کشمیر کو طول دینے اور کشمیریوں کومصروف رکھنے کے لیے چار ورکنگ گروپ قائم کیے اوراب وزیراعظم نریندرمودی نے ترقی کا راگ الاپا ہے ان چاروں وزرائے اعظم کا اصل مقصد وقت کا ضیاع ،کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ کرنا انہیں کم حوصلہ کرنا اور بے بسی کے عالم میں گھیر کر پاکستان کے تئی وادی میں موجود جذبات کو ٹھنڈا کرنا ہے لیکن بھارت کشمیریوں کو حق خودارادیت کی جدوجہد اور کشمیر میں پاکستان کی حامی بھاری اکثریت کو زیر کرنے اورآزادی کے مقصد سے دور کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے ۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے پیس بلڈنگ کمشن کا ایک وفد سرینگر بھیجا جس سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا فریق یعنی اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے قیام امن اور حصول حق خودارادیت کیلئے متحرک ہے ۔بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ کشمیر کے چار فریق ہیں اور وہ اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے پابند ہیں ۔بھارت اور بھارتی افواج کا وجود عارضی اور کشمیری عوام کی مرضی کے طابع ہے۔

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>