Published On: Thu, Aug 25th, 2016

بغاوت جو ناکام ہوگئی

Share This
Tags

aslam baig1

جنرل مرزا اسلم بیگ
سابق چیف آف آرمی سٹاف پاکستان
Email: friendsfoundation@live.co.uk

باغیوں نے ترکی میں جمہوری حکومت کو ناکام بنانے کیلئے بغاوت کی لیکن ناکامی ان کا مقدر بنی اور 1960 71 80 اور 97 کی بغاوتوں جیسی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔بغاوت کا سبب نظریاتی تصادم ہے کیونکہ فوج اپنے آپ کو سیکولرجمہوری نظام کی امین سمجھتی ہے جبکہ صدر اردگان اسلامی جمہوری نظام کے حامی ہیں لیکن توہم پرست قوتوں کیلئے یہ نظام ناقابل قبول ہے کیونکہ ان کی ترجیحات میں بنگلہ دیش کی طرز کا خالص سیکولر جمہوری نظام نافذ کرنا ہے۔مثال کے طور پرچند سال پہلے مصر میں اسلامی جمہوری نظام کو عسکری قوت کے بل بوتے پربے دردی سے کچل دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں فوجی حکومت قائم ہوئی جسے مشرق وسطی کے ڈالروں اور جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں کی تائید حاصل تھی۔نیو یارک ٹائمز 19 جولائی کے شمارے میں افسوس کے ساتھ لکھتا ہے کہ ترکی میں سیاسی اسلام فاتح کی حیثیت سے ابھر ا ہے اور اب ترکی ایک اسلامی ملک بن جائے گا جہاں عوامی طاقت یکجان ہو گی اور یہ صورت حال بڑی مشکلات کا باعث ہو گی۔
Bagawat Aslamصدر اردگان ایک مقبول سیاسی تحریک کے سربراہ ہیں جن کی متوازن پالیسیوں کے سبب ملک کی اقتصادیات مستحکم ہوئی ہیں۔اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کیلئے انہوں نے آئی ایم ایف کو 24 بلین ڈالر واپس کر دیے ہیں جی ڈی پی(GDP) میں% 64 اضافہ کیا ہے قومی ذخائر (Reserves) کو 25 بلین امریکی ڈالر سے بڑھا کر 135 بلین کیا ہیاور مہنگائی کی شرح 32 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کردی ہے۔ اسی طرح کے بہت سے قومی ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے ہیں جن سے قومی ترقی کا معیار بہت اونچا ہوا ہے۔حکومتی اقدامات کے سبب فوج کے اثرورسوخ میں بتدریج کمی کی جا چکی ہے جس سے فوج کی تعداد 8 لاکھ سے کم کر کے ساڑھیپانچ لاکھ کر دی گئی ہے۔یہ نچلے درجے کے افسران ہی تھے جنہوں نے بغاوت کی اور آرمی چیف اور ائرفورس کے سربراہ کو گرفتار کر لیا لیکن صدر اردگان کوگرفتار نہ کرسکے جنہوں نے عوام کو بغاوت کاروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی اور وہ ہزاروں کی تعداد میں باغی فوجوں کے خلاف باہر نکل آئے اور انہیں بیرکوں میں واپس جانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔پولیس کا کرداربھی بہت نمایاں رہاہے جس پر صدر اردگان کی گرفت مضبوط ہے اور اس نے حکومت سے وفاداری کا اعلی مظاہرہ کیا ہے۔ موثر انٹیلی جنس کا نظام اس قسم کیحالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح مستعد تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نیبھی حکومت سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بغاوت کاروں کے عمل کو مسترد کر دیاہے۔ قومی اتحاد و یکجہتی کا منفرد مظاہرہ کرتے ہوئے کرد ڈیموکریٹک پارٹی(HDP) اور دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی حکومت کا بھر پور ساتھ دیاہے۔
یہ بغاوت جونئیر افسروں کی مدد سیسابق ائر چیف کی زیر قیادت تیار کی گئی ان کیگن شپ ہیلی کاپٹروں نے پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا اوران کے فوجی دستے باسفورس کے پل کو بند کرنیپہنچ گئے تھے۔ آرمی چیف کی غیرموجودگی میں جنرل امت دندار(Umit Dundar) نے کمان سنبھالی اور بغاوت کو کچل دیا ۔ اب ترکی کیلئے اس موقع کو قومی مفاہمتی عمل کے طور پر استعمال کرنے کا موقع ہے۔معاشرتی و سیاسی یکجہتی سے اس بغاوت کی ناکامی سے مسفیض ہونے کا وقت ہے اور بکھرے ہوئے معاشرے کے غموں کا مداوا کرنے کیلئے ایک سنہری موقع ہے۔ بغاوت کی کوشش کے پیچھیترکی کی خارجہ پالیسی میں رونما ہونے والی تبدیلی کو روکنا مقصود تھا خصوصا روس سے مصالحت اور شام میں مداخلت کی پالیسی کوممکنہ طور پرترک کرنے کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔ان واقعات سیامریکہ کی جانب سیروس کو محدود کرنے کیلئے بحیرہ کیسپئن کے علاقے میں نیٹو کی موجودگی کو مستقل بنانے میں ناکامی کا سامنا ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک نوجوان ترکوں کی مدد کون کر رہا تھا? حکومت نے Incirlik ائر بیس کو بند کرکے نو فلائی زون کیوں قرار دیا? ڈالروں کی چمک یہاں کیوں نہ کام دکھا سکی اور اعلی عسکری قیادت کی ہمدردی کیوں نہ خریدی جا سکی? وجوہات جو بھی ہوں اب ترکی کے امریکہ اور یورپ سے تعلقات جیسے حساس معاملات حتمی نتیجے تک پہنچنے کی راہ جلد ہی واضح ہو جائیگی۔
یہ بغاوت ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات جیسے حساس معاملات کی نوعیت کو سمجھیں جہاں روشن خیال اسلام پسندوں اور سیکولر طبقات کے درمیان خطرناک نظریاتی تصادم موجود ہے۔کٹڑ اسلام پرست مذہبی جماعتوں کو عوام نے نظرانداز کر رکھا ہے جس کی وجہ سیقوم کی نظریاتی اساس کے تحفظ کے حوالے سے ان کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ آئین میں ہمارے قومی نظریہ حیات کی تشریح یوں کی گئی ہے: پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہوگا جو قرآن و سنہ کے اصولوں پر مبنی ہوگا۔ لیکن ہمارے سربراہان مملکت حکومت اور قومی اداروں کے سربراہان جنہوں نے آئین پاکستان کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے انہوں نے بھی قرآن و سنہ کو فراموش کررکھا ہے اورصرف جمہوریت کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔اسی وجہ سیایک خلا پیدا ہوا ہے جو سیاسی اسلام اور سیکولرازم کے مابین خطرناک تناو کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی پاکستانی قوم کی نظریاتی اساس کو تبدیل کرنے کی پالیسی نے اس حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جس کے عوامل 1965-66 کے عرصے میں انڈونیشیا میں بپا ہونے والی خانہ جنگی سے مشابہ ہیں اور یہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔
ترکی میں اس بارتو بغاوت ناکام ہو گئی لیکن آئندہ جب ترکی کی مسلح افواج اپنی صلاحیتوں اور قدروں کو از سر نو مرتب کرلیں گی تو شاید بغاوت ناکام نہ ہو۔ ان کی اخلاقی طاقت کا منبع ان کی ماضی کی تاریخ ہے۔پہلی عالمی جنگ کی فاتح قوتوں نے دولت عثمانیہ کو تباہ کر دیا۔ اس مملکت کے کھنڈرات کے ٹکڑیظالم شہنشاہوں نااہل کرنیلوں اور ڈکٹیٹروںکوفراوانی سے پیش کئے گئے۔ایسے مشکل وقت میں مصطفی کمال پاشانیترکی کو ایک سیکولر مملکت کی حیثیت سے متحد کیا اور انہیں کی کمان میں ترک افواج نے گیلی پولی (Gallipoli)کے مقام پر دشمن افواج کو شکست دی ۔ یہ وہ اعزازہے جو ان کے دلوں کی گہرائیوں میں جاگزیں ہے اور خود بخود ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان میں کہانی مختلف ہے کیونکہ ہماری مسلح افواج کاآزادی کی جنگ میں بہت کم کردار رہاہے لیکن وہ اعلی عسکری روایات کے امین ہیں جو انہیں برطانیہ سے ورثے میں ملی ہیں ۔ہماری مسلح افواج کبھی بھی کمزور سیاسی نظام کی حامی نہیں رہیں اور یہی وجہ ہے کہ جلد ہی انہوں نے سول بیوروکریسی کے ساتھ مل کر اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیا جیسا کہ 1958 68 77 اور 1998 میں ہو چکا ہے اوروہ سیاسی جماعتیں جو اپنے طور پر انتخابات جیتنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں وہ ہمیشہ فوج کے ہم رکاب رہی ہیں۔اور اب جبکہ اچھی یا بری جمہوریت کانظام قائم ہے تو وہی ناکام سیاسی جماعتیں ایک بار پھر منتخب حکومت کو چلتا کرنے کے درپے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ فوج کو مداخلت پر اکسا رہی ہیں۔ممکن تھا کہ ایسا ہو بھی جائے لیکن ہوگا نہیں کیونکہ آج کی فوج ایک مختلف فوج ہے جواعلی تعلیم وتربیت سے لیس ہے قومی اقدار کی امین ہے اور یہی حقیقت اسے ماضی کی فوج سے ممتاز کرتی ہے۔یہ پیشہ ورانہ مہارت کا اعلی معیار ہے جس کے سبب پاک فوج قومی سلامتی کے مفادات کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
اعلی عسکری قیادت کا نظم و اتحاد اور اندرونی یکجہتی پاکستانی مسلح افواج کا طرہ امتیاز ہے جس کی بدولت پاک فوج ہر قسم کی فرقہ واریت اور معاشرتی و سیاسی تضادات سے پاک ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھنا لازم ہے کہ جب ہم اپنی فوج کو قابل اعتماد نہیں سمجھیں گے تومتعدد خطرناک معاملات درپیش ہوں گے جن کے تدارک کیلئے سوچ و فکر کا ہوناضروری ہے۔(رابرٹ فسک) اور یہی اہم مسئلہ ہمارا بھی ہے جسے حل کرنے کیلئے شہباز شریف اپنے بیمار بھائی کی خاطر انتھک کوششوں میں مصروف ہیں کیا یہ ممکن ہے!!

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>