Published On: Mon, Jul 18th, 2016

برہان مظفر وانی کی شہادت کتاب شہادت کا نیا باب

Share This
Tags

حریت کشمیر قربانیوں سے مزین لیکن حل میں تاخیر کیوں؟

سید سجاد حسین شاہ

گھر کو لگی ہے آگ گھر کے چراغ سے کے مصداق اکثر یہ جملہ مختلف موقعوں پر استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جہاں تک ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کا تعلق ہے جو بلاشبہ لمحہ موجود میں دنیا کی قدیم ترین تحریک حریت ہے جو لگ بھگ ایک صدی پر محیط ہے اور جو بے شمار لازوال قربانیوں اپنوں اور غیروں کی ریشہ دوائیوں، حب جاہ و جلال ، اقتدار کے رسیاءکرداروں سے بھر پورہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد سے آج تک دنیا کے مختلف براعظموں میں درجنوں اقوام نے اپنا حق آزادی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ، لیکن برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور آزادی کے موقع پر فرنگی سامراج نے اس خطے میں ایک فتنے کو تخلیق کیا اور عالمی نقشہ پر ابھر نے والے دو پڑوسی ملکوں پاکستان اور ہندوستان کے لئے مسئلہ کشمیر کی شکل میں ایک رستہ ہوا ناسور چھوڑ کر نو آبادیاتی نظام کو خیرباد کہہ گئے، برطانوی سامراج جنوب مشرقی ایشیاءکے اس خطے کے محل وقوع ، اس کی علاقائی اہمیت اور یہاں کے عوام کی ذہنی استعداد کا ر سے بخوبی واقف تھے، لہذا برصغیر کی تقسیم کے وقت ہی ایک تنازعہ پیدا کرکے بھارت کی پیٹھ ٹھونکی گئی کہ تم قابض ہوکر جمے رہو اقوام متحدہ کو ہم سنبھال لیں گے۔ خیر یہ تو تھی اغیا رکی سازش اور ریشہ دوانیاں جس کے باعث بھارت آج تک کشمیر میں بغیر کسی قانونی ، اخلاقی اور آئینی جواز کے قابض ہو کر بیٹھا ہوا ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی قبضے کو چیلنج کرتے ہوئے بھارتی سامراج اور ڈوگرہ فورسز کے خلاف اعلان جہاد بلند کیا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام نے مسلح جدوجہد کے ذریعے 32 ہزار مربع میل کا علاقہ تو آزاد کرالیا لیکن بھارت جان چکا تھا کہ اگر یہ مسلح تحریک مزید طویل ہوئی توسرینگر ، جموں اور لداخ تمام علاقے اس کے ہاتھ نکل جائیں گے۔ موضوع بحث میں یہ تمہید اس لیئے بھی ضروری تھی کہ جب بھارت اپنی شکست کو بھانپ گیا تو وہ خود اقوام متحدہ میں پہنچا تا کہ کشمیری مجاہدین یا جنگجوﺅں سے اس کی جان چھڑائی جائے ، اقوام متحدہ میں جاکر بھارت کو الٹا منہ کی کھانا پڑی اور اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قرار دادوں نے بھارت اور پاکستان کو کشمیریوںکو ان کے بنیادی حق خود ارادیت کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے رائے شماری کیلئے پابند کردیا اور بھارت کو بین الاقوامی برادری کے سامنے اس بات کا عہد بادل ناخواستہ کرنا پڑا۔

تحریک آزادی کشمیر میں جولائی کی اہمیت
sajjadجولائی کا مہینہ تحریک آزادی کشمیر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے 13جولائی 1931ءکو 22 حریت پسندوں نے سر ینگر جیل کے سامنے شہادت دیکر تحریک کی آبیاری کی 19جولائی 1947 کو کشمیریوں نے اپنی تقد یر پاکستان کے قیام سے چند ہفتے قبل ہی ایک تاریخی قرار داد الحاق پاکستان کے ذریعے مملکت خداد داد کے ساتھ منسوب کردی۔اور آج 2016 میں 8 جولائی کے دن ایک غیر مند بہادر نوجوان حریت پسند برہان مظفر وانی نے اس تحریک کو اپنی عظیم قربانی دیکر کتاب شہادت کا ایک نیا باب رقم کیاجو 13جولائی 1931ءکو شروع ہوئی تھی اور پھر1947ءکی لازوال قربانیاں شہداءجموں، 1965, ، 1971 کی قربانیاں اور عظیم تحریک کے دوران ہجرتوں کا طویل سلسلہ اور بالآخر 1990ءمیں مسلح تحریک مزاحمت جس نے بھارت کے ناک میں دم کررکھا تھا اور جس تحریک کی پیٹھ میں پرویز مشرف نے چھرا گھونپ دیا ، لیکن برہان وانی نے اس جذبہ شوق شہادت کو ایک بار پھر اپنی عظیم قربانی سے آبیاری کرتے ہوئے جلا بخشی پوری وادی سراپا احتجاج ہے 30 شہیداور جبکہ، سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے ہیں لیکن عالمی ضمیر مردہ اور خاموش تماشائی بن چکا ہے ۔
(کشمیر ی قیادت کی ذمہ داریاں اور غفلت)
جہاں تک مقبوضہ کشمیر کی کشمیری قیادت کا تعلق ہے وہاں شیخ محمد عبداللہ، فاروق عبداللہ، بخشی غلام محمد، مفتی محمد سعید و دیگر کے علاوہ اور اب محبوبہ مفتی کی شکل میں کٹھ پتلی کرداراوں نے اقتدار کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کی ابجد کو ہی بگاڑ کر رکھ دیااور بھارت کے غاصبانہ قبضے اور اس سیاہ رات کو طویل کرنے میں ان کٹھ پتلیوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے لئے تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
آزاد کشمیر کی حکومت اور ہماری کشمیری قیادت کس حد تک اس مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئی )
اس بات کا تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے کہ سیز فائر کے بعد آزادی کے بیس کیمپ کی صورت میں آزاد ریاست جموں کشمیر کا خطہ کشمیری قیادت کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں تھاہونا تو یہ چاہئے تھاکہ ہوس اقتدار کو ایک طرف رکھ کر ہماری قیادت اس نقطہ پر مجتمع اور متحد نظر آتی کہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت مسئلہ کشمیر کو اس کے حقیقی تناظر میں حکومت پاکستان کی مکمل حمایت و تعاون سے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے ، بھارتی پراپیگنڈا کو زائل کرنے اور اپنے حق کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کو اپنا نصب العین اور مقصد بناتی لیکن صورتحال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی چلی گئی۔ مسئلہ کشمیر بالخصوص سیاسی قیادت کے اذہان سے محو ہونے لگا، لیکن زخم خوردہ کشمیری عوام آخر کب تک بھارت کے ظلم و ستم کو سہتے رہتے اور پھر چشم فلک نے دیکھا 1990ءکی تحریک ایک جوالہ مکھی کی صورت سلگتی ہوئی چنگاری ایک آتش فشاں کی شکل میں نمودار ہوئی اور ایک مسلح جدوجہد شروع ہوگئی اس بحث سے قطع نظر کہ مسلح تحریک عجلت میں شروع کی گئی اور اس میں کوتاہی کا عنصر بھی موجود تھا نقطہ بحث یہ ہے کہ کشمیری نوجوانوں نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق بندوقیں ہاتھ میں اٹھالیں، ہجرت کی اور ایک لاکھ شہیدوں کی قربانی دی، عزت مآب خواتین کی بے حرمتی ، جان مال کی قربانی کے ساتھ جنت نظر کے قدرتی ماحول کو بھی بھارتی سفاک فوجیوں نے اپنی سنگیوں اور اسلحہ کے زور پر پامال کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ آزاد کشمیر میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کا کردار بھی قابل افسوس رہا ہے مثلا آزادکشمیر میں چوہدری عبدالمجید کی حکومت نے کوٹلی کے علاقے نکیال میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں دو افراد کی ہلاکت پر پورے آزاد کشمیر میں یوم سوگ منایا جو کوئی بری بات نہیں، لیکن آج گزشتہ چار دنوں میں مقبوضہ وادی میں بھارتی فو ج اور پولیس نے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور 35 افراد کی شہادت پر صرف فرضی بیان پر ہی اکتفا کیا گیا کوئی یوم سوگ یا احتجاج نہیں کیا گیا کیونکہ آج کل سیاسی قائدین اپنی اصل منزل اقتدار کے حصول کیلئے انتخابی مہم میں پوری تندہی سے کوشاں ہیں ۔ کمپنی کی مشہوری کیلئے بعد میں ضرور احتجاجی اقدامات ہونگے لیکن بے مقصد۔
(تحریک کی پیٹھ میں چھرا کس نے گھوپنا)
فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر1999 ءکو ایک عالمی سازش کا حصہ بنتے ہوئے ایک جمہوری منتخب حکومت کو فارغ کیا، پرویز مشرف نے اہل پاکستان اور کشمیریوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر کشمیر پر بات کی، بھارت کو للکارا، عوام کو محسوس ہوا کہ قوم کو مسیحا مل گیا اب تو کشمیر بھی آزاد ہوگا اور کالا باغ ڈیم بھی بنے گا لیکن پرویز مشرف کی کلا بازی اور مکے دکھانے کی حقیقت بالآخر قوم پر آشکار ہوگئی، پرویز مشرف نے اقتدار پر قابض ہوتے ہی کہا کہ بھارت کے ساتھ ہمارا کشمیر کے علاوہ اور کوئی تنازعہ نہیں ، باقی چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں یعنی ”Irritants“ جو مسئلہ کشمیر کے حل ہونے پر خود بخود حل ہوجائیں گے۔ پرویز مشرف نے بھارت کوکہیں بھی، کسی وقت اور کسی بھی سطح پر بات کرنے کی پیش کش کی یہ کہ بھارت اگر کشمیر پر بات کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہم تیار ہیں ،لیکن بھارت کی طرف سے پرویز مشرف کو سرد مہری کا سامنا رہا ، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا ماحول تھا اور دونوں طرف فوج آمنے سامنے تھی پھر اچانک 2003ءمیں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر یکطرفہ سیز فائر کا اعلان کیا۔ بہتر ماحول اور سازگار حالات بنانے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان رابطے بحال ہوئے ، واگہ بس سروس ، ہوائی سروس ، ٹرین سروس بحال ہوئی اور خاص طور پر سرینگر ۔مظفر آباد بس سروس کا آغاز ہوا۔ ثقافتی تحایفوں کا تبادلہ شروع ہوا صورتحال یکسر بدل گئی مشرف کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور ان کے چند مغربی دوستوں اور مغربی میڈیا نے مشرف کے کان میں ڈال دیا تھا کہ ان اقدامات سے انہیں ا من کا نوبل انعام ملے گا۔ مشرف کو شےخ چلی اور ماموں بنایا گیا اور بھارت اپنے ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ سیز فائر کے پردے میں لائن آف کنٹرول پر بھارت نے مضبوط مورچے قائم کرلئے۔ تحریک حریت کو جب بام عروج حاصل ہوا مشرف نے کمال ہوشیاری اور مہارت سے چلتی ہوئی تحریک کی بساط الٹ دی، مکے دکھانے والی سرکار نے ایسی کلابازی کھائی کہ تحریک کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔ تحریک آزادی کے ساتھ دھوکہ کرنے والے پرویز مشرف کا انجام آج دنیا کے سامنے ہے۔ اسے کشمیریوں کی آہ لگ گئی آج زوال اس کا مقدر ٹھہرا عدالتوں اور سزاﺅں سے بچنے کیلئے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹس کا سہارا لینا پڑرہا ہے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ تاریخ گواہ ہے جس نے بھی کشمیریوں کے خون سے غداری کی وہ اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچا، مسئلہ کشمیر وطن عزیز پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک نہیں بلکہ ایک حقیقت پر مبنی ہے کشمیر اورپاکستان لازم و ملزوم ہیں، موصوف نے صرف اتنا ہی نہیں کیابالآخر کشمیریوں پر دہشتگردی کا ٹھپہ لگانے کے لئے اپنی کتاب میں بین الاقوامی اصولوں پر مبنی جاری تحریک حریت کشمیر کو نوبل انعام کی لالچ میں موصوف نے دہشت گردی سے لنک کرکے دہشتگردی کے زمرے میں لا کر ایک تاریخی جرم کا ارتکاب کیا ۔
ایک مسلمہ اصول ہے کہ ادارے مسائل کے حل اور اصولوں کی پاسداری کیلئے معرض ووجود میں لائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں اکثر بجٹ پر بوجھ ڈالنے اور مختلف مدوں سے سرکاری خزانہ سے اخراجات کو قانونی شکل دینے کیلئے ادارے قائم کئے جاتے ہیںتاکہ معصوم عوام کو ایسا محسوس ہو کہ بہت کام ہورہا ہے۔ مثلاً پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا قیام کے مقاصد میں شامل ہے کہ اس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو قومی اور بین لاقوامی سطح پر اس کے حقیقی تناظر میں اجاگر کرنا اور بین الاقوامی حمایت کے حصو ل کو یقینی بنانا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صرف سیروسیاحت کا ذریعہ بنایا گیاکیونکہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اس کمیٹی کا کوئی کردار سامنے نظر نہیں آتا۔
ایک بے لاگ تبصرہ
آج تک جتنی پارلیمانی کشمیر کمیٹیاں قائم کی گئی ان میں سب سے معتبر جاندار اور باوقار 24رکنی کشمیر کمیٹی مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میںقائم کی گئی تھی جو دسمبر1993ءتا نومبر1996تک) قائم رہی اس کمیٹی نے موثر اور جاندار انداز میں کام کیا، مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کی سربراہی میں بننے والی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کی معتبریت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا البتہ بعد میں وجود میں آنے والی کشمیر کمیٹیاں سوائے سیاسی رشوت وقت گزاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں، چوہدری محمد سرور بھی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے جو کشمیر میں سمندر تلاش کررہے تھے اور اب مولانا فضل الرحمن سے بصد احترام کے ساتھ لگتا ہے کہ موصوف کو کشمیر کمیٹی ٹھیکے پر دے دی گئی ہے، کشمیر کمیٹی کا جو مینڈیٹ ہے جن مقاصد کے حصول کیلئے اسے قائم کیا گیا ،وہ مقاصد کہیں نظر نہیں آتے البتہ اس اہم ادارے کو جو ایک اعلیٰ و اردنی مقاصد کے حصول کیلئے تخلیق کیا گیا تھا سیاسی رشوت کا ذریعہ بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مرحوم سردار عبدالقیوم خان بلاشبہ ایک اہم کشمیری سیاسی رہنما تھے لیکن صدر مشرف کی کشمیر کمیٹی میں ان کی کارکردگی بھی اس حوالے سے لاحاصل رہی وہ بھی سیاسی رشوت کا ذریعہ ہی ثابت ہوئی تھی۔
آزاد جمو ں کشمیر کونسل اور اس کا مینڈیٹ
آزاد جمو ں کشمیر کونسل کا ادارہ بنانے کی ضرورت کیونکر محسوس کی گئی اگر یہ ادارہ بنایا گیا تو اس کی افادیت کیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان آئینی طور پر اس کونسل کے چیئرمین ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ادارے کی موجودگی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بطور چیئرمین کیا وزیر اعظم پاکستان کماحقہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی ادا کررہے ہیں اور یہ سوال صرف موجودہ وزیر اعظم کے حوالے سے نہیں یہ تمام سابقہ وزائے اعظم سے بھی ہے کہ کیاانہوںنے اس ادارے کی افادیت اور اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بطور چیئرمین کونسل مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کون سے ایسے اقدامات اٹھائے جس سے مسئلہ کشمیر قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا اور بھارت کے ظلم و ستم اور منفی پروپیگنڈوں کو زائل کرنے کیلئے اس ادارے نے کون سی ایسی خاص حکمت عملی اور وسائل کے ساتھ عملی اقدامات کئے جس سے آج ہم فخر سے کہتے کہ اس ادارے کی بہت افاد یت اور اہمیت ہے۔ ہماری دانست میں کشمیر کونسل قومی بجٹ پر ایک بوجھ ہی ہے اور اس کا مقصد سیاسی طور پر آزاد کشمیر حکومت کومقامی سطح پر بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے۔ البتہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کی موجودہ گھمبیر صورتحال کے تناظر میںوزیر اعظم پاکستان نے جو خود وعلیل بھی ہیں نے فوری طور پر اس صورتحال اور مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایاہے جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن اس مسئلے کا انسانی پہلوجو ہے کہ کشمیریوںکا بنیادی حق خود ارادیت جسے دنیا نے تسلیم کررکھا ہے جس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا جاتا ہے کی تکمیل اور ان قرار دادوں پر عملدآمد کا وقت آگیا ہے۔ حکومت پاکستان کا فوکس اس وقت مسئلہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو صرف رکوانا ہی نہیں بلکہ بھارت کو اس بات پر مجبور کروانا بھی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جس کا وعدہ اس نے عالمی فورم پر کیا ہوا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان چیئرمین کشمیر کونسل کی حثیت سے بین الاقوامی رائے عامہ ہموار کرنے میں موثر کردارادا کر سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کیا اپنی ذمہ دایوں کو ادا کررہا ہے
ایسا نہیں ہے کہ دفتر خارجہ کشمیر کے معاملے میں اپنی ذمہ داریوںکو پورا کرنے میں ناکام ہے ،بلاشبہ دفتر خارجہ روز اول سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ہر حکومتی دور میں اپنے تئیںکام کرتا رہا ہے لیکن جو جذبہ اور جنون درکار تھا بھارت کے جھوٹ اور منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے کیلئے اس میں کافی حد تک کوتاہی اور تساہل بھی برتا گیا ہے، مسئلہ کشمیر پاکستان کی وزارت خارجہ پالیسی کا محور و مرکز اور بنیادی عنصر ہے ۔ لیکن ہر آنے والا حکمران اپنے مطلب کی کشمیر پالیسی ترتیب دیتا رہا جس کے مفنی اثرات قوم کے سامنے ہےں، پوری دنیا میں ہر ملک کی ایک وضع کردہ مستقل پالیسی ہوتی ہے او ر وہ پالیسی حکومتوں کے آنے جانے سے کبھی تبدیل نہیں ہوتیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران کبھی بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن قرار دینے کیلئے اور کبھی دوستانہ تعلقات کے فروغ کیلئے اس حد تک آگے چلے جاتے تھے کہ مسئلہ کشمیر قصہ پارینہ بن جاتا تھا جس کا شاخسانہ یہ ہے کہ بھارت پوری دنیا کے سامنے مکمل ڈھٹائی کے ساتھ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہا ہے اور اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے اس کی وزارت خارجہ، اس کے حکمران، اس کی سیاسی قیادت پورے انہماک کے ساتھ مصروف ہ ہے اور اس مقصد کیلئے وہ اپنے بجٹ کا خطیر حصہ اس جھوٹ پر خرچ کررہے ہیں لیکن دوسری طرف ہماری وزارت خارجہ سوائے چند وزرائے خارجہ یا افسران کے جنہوںنے بلاشبہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بہترین خدمات سرانجام د یں ہیں باقی ماندہ یا تو سیاست کرتے رہے ہیں یا نوکری کرتے رہے ، اب بھی دیر نہیںہوئی ، کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری وزارت خارجہ اس موقع کو غنیمت جان کر موجود حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ایسے میں جب کشمیر میں بھارت نے ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کردی ہے جو ننگے انسانیت اور حیوانی طریقے اپنائے جارہے ہیں ان تمام واقعات کو پوری دنیا کے سامنے طاقت، جرات اور ثبوتوں کے ساتھ آشکار کیا جائے ، حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ اور دیگر اہم ادارے جنگی بنیادوں پر اسے اب یا کبھی نہیں کی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر اٹھائیں اور بھارت کو دنیا کے سامنے ننگا کر کے رکھ دیں اور بین الاقوامی برادری کو مکمل ثبوت اور کوائف کے ساتھ کشمیر میں ہونے والے مظالم اور اقوام متحدہ کی قرار ادادوں کے تناظر میں مطمئین کرکے کشمیر کے لےے حمایت حاصل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، کشمیری جان دیتا رہے گا لیکن اس لئے نہیں کہ وہاں بھارت امن کردے اور اپنا قبضہ برقرار رکھے اور امن کی آشا کے گیت گائے۔
ہاں البتہ ایک مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے کہ دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کے مستقل ارکان ملکوںکے سفیروں اور دیگر اہم ممالک کے سفارت کاروں کو بلاکر مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورتحال پر بریفننگ دی اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جو بلاشبہ بروقت اور جو قابل ستائش اقدام ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کام کو مزید بڑھایا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی اور تساہل نہ برتا جائے ۔
OICکی افادیت کیا ہے۔
او آئی سی کا ادارہ اپنی افادیت کھوچکا ہے جب سے بھارت اس کے رکن ممالک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالم اسلام کا ایک اہم ملک ہونے کے باوجود اس فورم کو کشمیر کی آزادی کیلئے بھارت کے خلاف موثر انداز میں استعمال کرنے میں ناکام رہا ہے اور او آئی سی کی ناکامی کے ساتھ ساتھ ہمارے دفتر خارجہ کی غفلت اور کوتاہی بھی اس ناکامی کی ایک وجہ ہے۔ کیونکہ وزارت خارجہ ہی اسلامی ملکوں میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف ، اقوام متحدہ کی قرار ادادوں کے تناظر میں بھارت کے وعدے اور آج تک ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے اسلامی ملکوں کو اس بات پر آمادہ کرسکتی تھی کہ وہ بھلے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات استوار رکھیں لیکن کشمیر کے حوالے سے وہ بھارت پر دباﺅ ڈال سکتے تھے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے وعدے کی پاسداری کو یقینی بنائے ، لیکن حالات اس سے یکسر مختلف رہے، ہماری کوتاہیوں کے باعث او آئی سی کا فورم بھی بھارتی وزرات خارجہ اپنے حق میں کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی ہے جو ایک المیہ ہے اور ہمارے لیئے من حیث القوم لمحہ فکریہ بھی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>