Published On: Thu, May 19th, 2016

امریکی صدارتی امیدوا ر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کےلئے دجال ثابت ہوسکتے ہیں؟

Share This
Tags

 تحریر:سیدسجادحسین شاہ
قوموں کی تاریخ میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اور مشکلات کے بھنور سے نکالنے اور ملک کو ترقی کی اوج پر لے جانے کیلئے کسی قوم کی عوام اور قیادت کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ آج کل ریاست ہائے متحدہ امریکہ (یو ایس اے) میں صدارتی انتخابات کی دوڑ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن امیدوارا پنی اپنی سیاسی جماعتوں پر اثر انداز ہونے کیلئے انہماک سے مصروف ہیں، امریکہ جو دنیا کی ایک واحد سپر پاور اور اقتصادی طاقت بھی ہے، اس کی قیادت میں تبدیلی اور وائٹ ہاﺅس میں جلوہ فروز ہونے والی شخصیت کے دنیاکی سیاست اور اقتصادیات پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ حقیقت اپنی جگہ موجود کہ امریکہ میں بسنے والے افراد کوئی ایک قوم نہیں بلکہ مختلف اقوام اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ قوموں کی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارے میں امریکی کردار کو کسی طور منہا نہیں کیا جاسکتا لہذا امریکہ جیسے ملک کے اقتدار پر ایسی کسی شخصیت کو منتخب ہوکر آنا چاہئیے جو بطور ایک سپر پاور ملک کے صدر کے ایسے فیصلے کرے جس سے خو دامریکہ کی سالمیت اور بقا کے ساتھ دنیا کے امن پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں۔ امریکہ کو ترقی کی اس معراج پر لانے میں جہاں خود مقامی امریکی باشندوں کا اہم کردار ہے وہاں دیگر اقوام کے باشندے جو ہجرت کرکے امریکہ میں آباد ہوئے قطع نظر رنگ و نسل اور مذہب ان لوگوں نے بھی امریکہ کو دنیا کی عظیم اور طاقت ور قوم بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے، امریکہ کے ایٹم بم کا موجد ایک مہاجر اسرائیلی سائنسدان تھا، امریکہ دراصل مہاجروں کا ملک ہے اور یہاں رہنے والی تمام اقوام کے افراد ایک حسین گلدستے کی مانند ہیں اس لئے ہی امریکہ کو دنیا میں ایک رہنما کردار نصیب ہوا ہے۔ کیونکہ امریکہ میں بسنے والی تمام اقوام نے بطور امریکی محنت کرکے امریکہ کو اس مقام پر لایا ہے۔ بات ہورہی تھی امریکی صدارتی انتخابات کی ظاہر ہے امریکہ کی دو بڑی حریف سیاسی جماعتیں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن اپنے اپنے امیدوار کو میدان میں اس اہم عہدے کے حصول کیلئے زور و شور سے اتاریں گی لیکن حتمی فیصلہ امریکی عوام نے اپنی عقل و شعور اور دانش سے کرنا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کی بڑی اکثریت بھو لی اور معصوم ہوتی اور وہ سیاستدانوں کے مکروفریب میں بھی بہت جلد آجاتی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ امریکہ کی عوام کا اگر دیگر اقوام بالخصوص بھارت اور پاکستان یعنی جنوب مشرقی ایشیاءکی عوام سے موازانہ کیاجائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امریکہ کے نظام جمہوریت میں انتخابات میں صدارتی امیدواراوں کے درمیان انتخابی مہم کے دوران کھلے عام بحث و مباحبہ کا جو اہمتام کیا جاتا ہے اس سے بھی عوامی حمایت حاصل کرنے میں امیدوار کو آسانی رہتی ہے اورعوام بھی شعوری طور پر اپنے امیدوار کی پالیسی اور ملک کیلئے اس کے خیالات اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے آگاہی حاصل کرکے ہی ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں۔ آمدہ امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ جان ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم اینٹی اسلام اور انیٹی مسلم نظریئے کی بنیاد پر رکھی ہے، جو بلاشبہ امریکی معاشرے کیلئے زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہے، موصوف نے امریکہ میں مسلمانوں کی انٹری اور بالخصوص امریکہ میں ہجرت اختیار کرکے مستقل سکونت حاصل کرنے کے خواہشمند مسلمانوں پر امریکہ میں پابندی لگانے کی تجویز دی ہے، یہ امریکہ کے مضبوط معاشرتی سیاسی اور معاشی نظام میں دراڑ ڈالنے کے مترادف سوچ کاآئینہ دار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ عمل 57اسلامی ملکوں کے علاوہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے لمحہ اضطراب ہے۔ مختلف اقوام نے مل کر امریکہ کو عظمت کی بلندیوں تک لانے اور ایک بکھری ہوئی آبادی کو نئی قوم کا جو تصور پیش کیا تھا، صدر بش نے اپنی پالیسی کی نظر کرتے ہوئے اس تصور کو ختم کرکے مسلم کیمونٹی کے خلاف کردیا، سابق صدر بش کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جو دبنیادی طور پر ایک کنسٹرکشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے بلڈر اور امریکہ کے معرو ف ٹی و ی ر یلیٹی شو کے نامور اینکر رہے ہیں۔لیکن کونیئر نیوریاک 1946ءمیں پیدا ہونے والے ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ کسی طور ایک اچھے سیاستدان اور امریکہ کو سنبھالنے والے قائد ثابت نہیں ہوسکتے، کیونکہ دیگر اقوام خصوصاً مسلمانوں کیلئے زہر آلود بیانات کی وجہ سے ٹرمپ بین الاقوامی سطح پر اور امریکی معاشرے میں بھی ایک متنازعہ شخضیت بن کر سامنے آئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں صدر باراک اوبامہ کو اپنی خاموشی توڑنی پڑی اورانہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی صدارت ایک انتہائی اہم منصب ہے ، کوئی مذاق نہیں نہ ہی یہ کوئی ریلٹی شو ہے اور یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور انہیںبطور صدارتی امیدواراپنی انتخابی مہم ریلٹی شو طرز پر کرنے کی اجازت ہرگز نیہں ہونی چاہیے ۔
بلا شبہ امریکہ ایک ملٹی کلچر سوسائٹی کا مجموعہ ہے اور دیگر اقوام کی طرح امریکہ کی عوام کو بھی قوم پرست ہونے کا حق حاصل ہے کیونکہ قوم پرستی کوئی بری چیز نہیں اور یہ انسان کی جبلت میں شامل ہے لیکن اس کا بخار اور اس کے پردے میں ملک میں رہنے والی دیگر اکائیوں کے خلاف متعصبانہ رویہ کسی بھی طور پر عقلمندی اور دانش نہیں ہے کسی بھی قوم کا قائد اپنی عقلی دانش ”جیو اور جینے دو“ کے فارمولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ملک اور معاشرے کی تمام اکائیوں کو ساتھ لیکر چلے تو ملک کی نیک نامی اور عظمت کو چار چاند لگ جاتے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ جیسی منفی سوچ کی حامل شخضیت کسی طور بھی امریکہ جیسے عظیم ملک کی قیادت کا اہل نہیں ہوسکتی ، اسلام میں قرب قیادت کے حوالے سے جو پیشن گوئیاں کی گئی ہیں ان میں قیادت کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے غالباً اسرائیل کے علاقے سے ایک فتنہ کا ظہور ہونا ہے جو دجال کی شکل میں سامنے آئے گا دنیا کو تباہ و برباد کرکے رکھ دے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سامنے آنا اور منفی اور زہریلے خیالات کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ موصوف اسلام اور مغرب کے درمیان دنیا میں مغربی دجال کی شکل میں ایک نئے فتنے کا با عث بن سکتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بذات خود امریکی مفادات کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں، لہذا امریکی عوام کو اپنے ووٹ کے استعمال میں دانشمند ی اور عقل و شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نوعیت کے خیالات رکھنے والی شخصیت کو پذیرائی نہیں دینی چاہئے اسامہ بن لادن کو پہلے مسلم دنیا اور مغرب میں پذیرائی ملی لیکن بعد میں وہ امریکہ حتی کہ افغانیوں کیلئے بھی وبال جان بن گئے، بدقسمتی سے 9/11کے ناخوشگوار واقع کے بعد نسل پرستانہ سوچ، اینٹی اسلامی اور اینٹی تارکین وطن بالخصوص امریکہ میں آباد مسلم عرب باشندوں کے خلاف ایک غیر ضروری منفی تاثر پیدا کیا گیا جس میں بش انتظامیہ نے کلیدی کردار ادا کیا، ڈونلڈ ٹرمپ اسی عوامی کمزوری کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، ان کی صدارتی مہم کا مرکز و محور ہی اسلام مخالف جذبات کو ابھارنا اور امریکی عوامی کو غلط فہیموں کا شکار کرکے امریکی صدارت کا حصول ہے اور اس کیلئے ان کی مہم میں تشدد آمیزی کا عنصر غالب ہے جو امریکہ جیسی عالمی طاقت کے حامل ملک کیلئے مستقبل میں زہر قاتل ثابت ہوسکتی ہے ، امریکہ کے باشعور عوام ، اہل دانش کو اس بات کا لازمی ادراک ہوگا کہ مسلمان اور دیگر تارکین وطن کسی طور بھی امریکی مفادات کے خلاف یا دشمنی کا جذبہ نہیں رکھتے ، امریکہ کی اپنی تاریخ میں دیگر تارکین وطن کے علاوہ مسلمانوں نے امریکہ کے لئے مختلف شعبوں میں ترقی کیلئے اعلیٰ خدمات پیش کی ہیں جو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ اگست1947ءمیں پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے جب ابھرا تو اگلے چند ماہ بعد ہی امریکہ اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات کا آغاز ہوا پاک امریکہ دوستی کا یہ سفر بہت سے نشیب و فراز سے گزر ا اور مختلف موقوں پر امریکہ کی طرف سے پاکستان کو سرد مہری اور پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا، اب دہشتگردی کے خلاف جنگ کو ہی لیجیئے، پاکستان بطور فرنٹ لائن ریاست کے استعمال ہورہا ہے اور امریکہ کی طرف سے ڈومور کی صدا ہمیشہ آتی ہے پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں خود کو مکمل جھونک کر اپنی سلامتی اور امن کو بھی دواﺅ پر لگادیا ، افغانستان امریکہ کیلئے ایک اور ویت نام کی شکل اختیار کرسکتا تھا لیکن پاکستان کی قربانیوں کے باعث امریکہ کا افغانستان سے محفوظ انخلاف ممکن ہوا۔ 1969ءمیں امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر خفیہ طور پر پاکستانی جہاز میں اسلام آباد آ ئے اور اسلام آباد سے بیجنگ گئے، جنگی حالات میں امریکہ اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کی ابتداءکرانے میں پاکستان کی خفیہ اور خاموش سفارت کاری کا بڑا عمل دخل ہے جو بعد ازاں صدر نکسن اور ماﺅزے تنگ کے درمیان اہم ملاقات کا موجب بنی اور ویت نام کی جنگ سے امریکہ کی جان چھڑانے کا سبب بھی بنی اور یہ ان رابطوں اور پاکستانی سفارت کاری اور کوششوں کا ثمر ہے کہ آج امریکہ چین کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں بطور اہم امریکی اتحادی، پاکستان کی قربانیوں کو امریکہ کبھی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ وقتی طور پر اپنی منفی سوچ اور زہر آلود بیانات سے محدود سطح تک پاکستان اور اسلام مخالف جذبات کو تو ابھار تو سکتے ہیں لیکن وہ حقائق کو جھٹلانے میں کبھی کامیاب نہیںہوسکتے، امریکہ فوجی طاقت اور آلات حرب میں دنیا میں سب سے آگے ہے لیکن اس کے باوجود 9/11میں اس کی فوجی طاقت کاغرور ٹوٹ گیا، تمام جاسوسی کا نٰظام مفلوج ہوکر رہ گیا، افغا نستان میں امریکی فوجی طاقت کو خفت اور شکت سے دوچار ہونا پڑا لہذا یہ بات امریکی عوام کو ضرور مد نظر رکھنی ہوگی کہ مشینی آلات اور فوجی طاقت کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جذبات ہمیشہ اس سے بڑھ کر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں امریکہ کے لیئے ضروری ہوگا کہ وہ مسلمانوں اور دیگر تارکین وطن کے احسانات اور پاکستان کی قربانیوں کو ہمیشہ مد نظر رکھ کر اپنی پالیسی کو ترتیب دے، امریکہ کی فوجی اور اقتصادی طاقت کا غرور مسلمانوں اور دیگر تارکین وطن کی محنت کی بوتل میں پھسنا ہوا ہے جو غلطیاں صدر بش اور ٹونی بلیئر نے کیں اب اس کا ریپلے ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار حاصل کرکے کرنا چاہتے ہیں جو کسی طور امریکی معاشرے کیلئے اچھی علامت قرار نہیں ہے ، ٹونی بلیئر نے بالآخر قوم سے مسلمانوں کے خلاف غلط پالیسیوں کا اعترف کرتے ہوئے معافی مانگ لی لیکن وہی بات کہ لمحوں کی خطا تھی صدیوں نے سزا پائی، آئندہ انتخابات میں باشعور امریکی عوام کو ڈونلڈ ٹرمپ کی مفنی اور زہر آلود سوچ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی عظمت رفتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جدید امریکہ کی بنیاد کیلئے آبیاری کرنا ہوگی اور ماضی کی طر ح تمام انسانون کیلئے بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہبی تعصب کے ایک محفوظ اور مضبوط امریکہ کا تصور اجاگر کرنا ہوگا تاکہ نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی امن بھی یقینی ہوسکے اور قیادت کا انتخاب اس ہدف کو حاصل کرنے میں کلیدی ہوگا اور بلاشبہ امریکی عوام کا اس فیصلے میں اہم کردار ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>