Published On: Mon, Feb 6th, 2017

اخلاق کا جنازہ ۔۔۔۔۔

Share This
Tags

riazکسی زمانہ میں یہ بول بڑے مشہور ہوئے تھے ”اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے”۔ ہم نے اردو زبان میں انگریزی کی اس قدر آمیزش کر دی کہ جنازہ نکالنے میں سہولت ہو گئی۔ ٹی وی کے کھانا پکانے کے پروگرام ہوں یا ایوارڈز کی تقسیم کا دھوم دھڑکا، ہم جیسے کم علم صرف دیکھتے ہیں، سمجھتے نہیں کیونکہ اتنی انگریزی میں اردو کے چند جملے کیا خاک بتائیں گے کہ اسٹیج پر موجود شخصیات کیا فرما رہی ہیں ؟چلیں یہ تو ایک پروگرام ہے۔ باتیں نہ سہی بدن کا لوچ، گیتوں کے سُراور فیشن کی بھرمار ہی سہی۔ڈراموں پر نظر ڈالیں۔ جب سے ہمارے چینلز پر بھارتی ڈراموں پر بندش لگی ہے، ہم نے جو ڈرامے تخلیق کیے ہیں انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک ہی شخص پر مختلف ناموں سے کاروبارِ گلشن کو فروغ دینے کا بوجھ آن پڑا ہے۔ایک مرکزی نکتہ تو سب میں موجود ہے، اور وہ ہے محبت۔ بلاشبہ محبت زندگی کا اہم ترین عنصر اور حسین ترین رشتہ ہے مگر اپنے ڈرامے دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ زندگی سوائے محبت کے اور کچھ نہیں، اور محبت بھی کیسی؟ ایک لڑکا، دو لڑکیاں، یا ایک لڑکی دو لڑکے، اور پھر شادی کے بعد بھی پرانی محبت دامنگیر رہتی ہے۔
کسی زمانے میں شادی ہو جانے کے بعد محبت کے مارے اندر ہی اندر پگھلتے اور مرتے رہتے تھے مگر عہدِ رفتہ کی بابت ذکر کرنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا کیونکہ ہماری اخلاقیات کا تقاضا تھا۔اب ہم نے اسے فرسودہ قرار دے کر اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
محبت کے ساتھ ہمارے ڈراموں کا ایک اور اہم نکتہ طلاق ہے۔ ٹی وی ایک تعلیمی اور تربیتی ادارہ بھی ہے(اگر بنایا جائے تو)لہٰذا یہاں دئیے ہوئے سبق بہت جلد ذہن نشین ہو جاتے ہیں۔فی الحال تو ہمارے ڈرامہ نگاروں نے طلاق دینے اور لینے کی اتنی تکرار کی ہے کہ اب اسے معیوب سمجھنا تنگ نظری اور فرسودگی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں طلاق کی شرح خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔
بات چونکہ ٹی وی ڈراموں کی ہے اس لیے لڑکیوں کے لباس پر دو چار حرف لکھنا بھی ضروری ہے۔زیادہ پرانی بات نہیں، شلوار قمیص ہر لڑکی کا پہناوا تھا۔ اب ڈرامے دیکھ کر لگتا ہے کہ جینز پہننا لڑکیوں کے لیے لازم ہو گیا ہے۔ لباس اس قدر چست کہ بدن کے ایک ایک انگ کی نمائش ہو رہی ہے۔
چلیں ٹی وی سے باہر کی وسیع دنیا پر نظر ڈالیں۔
ایک زمانہ تھا کہ بڑوں کے سامنے ننگے سر آنا معیوب جانا جاتا تھا۔ اونچی آواز سے بات کرنا بدتمیزی تھی۔ کسی کو بلانے کے لیے بلند آواز سے اس کا نام لینا سخت توہین گردانی جاتی تھی۔لڑکیاں اور دیگر خواتین سر جھکائے، دھیمے لہجے اور سر پر پلو ڈال کر مختصر بات کرتیں۔ بزرگوں کی آمد پر گویا انہیں سانپ سونگھ جاتا۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھانا، سرگوشیوں میں باتیں کرنااور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا ان کا زیور تھا۔مرد بھی پھکڑ پن اور اخلاق سے گری باتیں کرنامعیوب سمجھتے تھے۔ کیونکہ ہماری اخلاقیات کا تقاضا یہی تھا۔
پھر رفتہ رفتہ ہم آزاد ہوتے گئے۔ تمام پابندیاں بتدریج کم ہونا شروع ہوئیں۔ ہوتے ہوتے صرف آزادی ہی رہ گئی، ہر قسم کی آزادی۔اب اخلاقیات کا معیار تبدیل ہو گیا ۔ کل جو ناخوب تھا، آج خوبی بن گیا۔سوچنے کی بات ہے کہ اس تبدیلی کا آغاز بچوں سے ہوا یا بڑوں نے بیج بویا؟ پانی اوپر سے نیچے کو بہا یا نیچے سے اوپر گیا؟ بچے نے کسی کو گالی دی، بڑے نے گھور کر دیکھا، تنبیہ کی ،تھپڑ مارا ،یا قہقہہ لگایا، گالی کی تصحیح کی، خود بھی گالی دی؟
ہمارے ملک میں کسی سماجی اور اہم معاملہ میں سروے یا تحقیق کرنے کا کوئی رواج نہیں ۔ غالباً اس وجہ سے کہ ایسا کرنا ہماری اسلامی اقدار کے خلاف ہے یا یہ کہ اس کے پسِ پردہ ہنود و یہود کی سازش ہے۔پاکستان کا حصول اسلامی مملکت کے قیام کی خاطر تھا، ایک ایسی ریاست کا قیام جہاں لوگ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں، کسی پر ظلم نہ ہو، معاشی اور سماجی انصاف ہو، ہر طرف امن اور چین ہو، اور نئی مملکت اسلام کا قلعہ ثابت ہو۔ اگر کسی نے سروے کیا ہوتا تو بآسانی علم ہو جاتا کہ پورے ملک میں کتنے فیصد لوگ ان اصولوں کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ شاید اس کے لیے کسی سروے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ہم اپنے گھر، محلہ اور ارد گرد دیکھتے ہی رہتے ہیں۔
گھروں میں توتکاراور کھینچا تانی عام سی بات ہے۔ اس پر تعجب کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ انسانی فطرت اسی رنگ میں رنگی ہے۔ تاہم تعجب اس وقت ہوتا ہے جب ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے کرتے معاملہ دوسروں کی عزت اچھالنے، دامنِ عفت پر داغ لگانے اور بہو بیٹیوں کو کلموئی ثابت کرنے کا ہو۔ہماری خانہ دار اور باعزت خواتین یہ کام اتنی آسانی اور بلا جھجک کرتی ہیں( اور تماشایہ کہ بار بار اپنی حق پرستی کا نعرہ بلند کرتی ہیں) کہ شرافت سر پیٹ لیتی ہے۔گھر سے باہر اس کام میںمحلے دارنیاں مصروف نظر آتی ہیں۔ اب نشانہ بہو بیٹیاں ہی نہیں، لڑکے اور مرد بھی اس دائرے میں آ جاتے ہیں۔کوئی عیاش ہے تو کوئی رشوت خور، کسی کا تعلق فلاں لڑکی اور شادی شدہ عورت سے ہے تو کوئی اپنی آوارگی کی وجہ سے گھر دیر کو پلٹتا ہے۔ گویا الزامات کی کوئی حد نہیں، جتنا جی چاہے، گند اچھالو۔
کسی دور میں مذہبی، سیاسی اور علمی رہنما منہ سے کوئی غلط لفظ نکالنا، بلا ثبوت الزام لگانا اور دوسروں کی تضحیک کرنا انتہائی معیوب سمجھتے تھے۔قیامِ پاکستان سے پہلے جب گجرات کے ایک سیاستدان نے انتخاب میں کامیابی کے بعد سیاسی جماعت بدلی تو اس کے گھر کے باہر لوٹوں کا ڈھیر لگ گیا (سیاسی لوٹے کی اصطلاح کا آغاز اسی دور سے ہوا ہے)۔اگرچہ کسی خاص وقوعہ ، اصولوں کے ٹکرائو یا اپنے سیاسی فلسفے کے مدِ نظر جماعتوں کی تبدیلی قابلِ قبول ہے تاہم محض اقتدار کے مزے لوٹنے کی خاطر ہر بار سیاسی وفاداری تبدیل کر لینا اخلاقی زوال کا ثبوت ہے۔ ہمارے نام نہاد رہنمائوں کا یہ چلن ان کی اولاد کے لیے چراغِ راہ ہے کہ چونکہ تم ہمارے گدی نشین اور جانشین ہو اس لیے خوامخواہ کی اخلاقیات پر نہ جائو۔
اس روش کا تعلق ہمارے دیگر اخلاقی رویّوں سے بھی ہے۔ کسی دور میں اپنے رقیب یا مخالف سیاستدان پر کیچڑ اچھالنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران جب احرار کے ایک لیڈر نے قائدِ اعظم کی شادی پر ناشائستہ قطعہ کہا توان ہی کے رہنما عطا اللہ شاہ بخاری نے سر پیٹ لیا کہ ہمارے ساتھی نے ستیاناس کر دیا ہے۔ آج ہمارے تمام سیاستدان قائدِ اعظم کا نام تو لیتے رہتے ہیں، یقیناً کسی کو بھی ایسی اخلاقی قدروں کا اندازہ نہیں۔ کون سا لیڈر ہے جو بیان دیتے ہوئے دوسروں کی عزت اچھالنا اپنا فرض نہیں سمجھتا۔ اور تو اور،ایک مذہبی جماعت کے سربراہ بھی بغیر ثبوت کے اپنے مخالف سیاستدان کو یہودیوں کا ایجنٹ کہتے نہیں تھکتے۔ عام سی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ ثبوت پیش کرو یا جھوٹ بولنے اور الزام لگانے پر معافی مانگ لو۔یہاں بالخصوص ایک شخصیت کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد ان کی مذہبیت، وضع قطع اور طلباء پر ہونے والے اثرات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔ کیا موصوف کے مقلدین اب کذب و افترا کو معیوب سمجھتے ہوں گے؟ چونکہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں اس لیے ایسے خطرناک الزامات پر کوئی عدالت میں جانے کا نام نہیں لیتا کیونکہ وہ خود بھی اسی رنگ میں رنگے ہیں اور مخالفین کو دنیا کا اسفل ترین شخص کہتے ہوئے نہیں تھکتے۔۔
جب رہنمائوں کی اخلاقی حالت یہ ہو کہ رشوت، بدمعاشی، اقربا پروری اور اپنے لیڈر کے جوتے زبان سے صاف کرنے کو اپنی زندگی کی معراج جانتے ہوں، ان کی اولاد بھی اسی نقشِ قدم پر چلتی ہے۔ معاملہ اور آگے بڑھتا ہے کہ ان اخلاق باختہ سیاسی رہنمائوں کا ہدف مختلف اداروں میں اپنی پسند کے افسروں کی تعیناتی ہے۔ المیہ یہ کہ وہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ پارٹی سربراہ کو بھی ایسے ضمیر فروشوں اور طبلچیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب من پسند افراد اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں تو وہ مالک کے آگے ہمیشہ سر جھکا کر رہتے ہیں۔مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ تھانے جیسے ادارے جن کا مقصدِ اولیٰ قانون کی عملداری ہے، وہاں بھی ایسے ہی لوگ تعینات ہیں ۔ نتیجتاً انہیں ہر ناجائز کام کے لیے گردن نگوں کرنا پڑتی ہے۔ اب ان کے اپنے بھی وارے نیارے اور مالک کو خوش کرنے کی غرض سے ناجائز پر ناجائز کام کیے جاتے ہیں۔ یہیں سے غنڈہ گردی اور دیگر سماجی برائیوں کو فروغ ملتا ہے۔
پاکستان کی کتنی یونیورسٹیاں دنیا کی پہلی دس، بیس، سو یا پانچ سو یونیورسٹیوں میں آتی ہیں؟وجہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ یہاں بھی ہم نے خود ساختہ اخلاقیات کو نافذ کر رکھا ہے۔ اساتذہ سے بدتمیزی، نقل پر زور، جعلی ڈگریوں کی بھرمار، کتابوں سے نفرت، تحقیق سے کوسوں دور،کسی پرانے تحقیقی مقالے میں معمولی رد و بدل کرکے نئی ڈگری کا حصول، جب یہی کچھ تعلیمی اداروں میں ہو گا تو کیا غیر ملکی ادارے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے؟
ہم آئے روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ امتحانی مراکز میں کس دیدہ دلیری، بلکہ غنڈہ گردی سے کتابیں (اور بعض اوقات اسلحہ )سامنے رکھ کر مستقبل کے معماروں کی فوج تیار کی جارہی ہے۔المیہ یہ کہ ان کی سرپرستی کرنے والے اخلاقیات کی بات کرتے تھکتے نہیں۔
اخلاقی زوال رفتہ رفتہ نہیں بلکہ سرعت سے پستی کی طرف آتا ہے۔ درباروں سے حجروں اور ڈیروں کی طرف، وہاں سے اداروں کی جانب، پھر گھروں اور میڈیا کی سمت رواں ہوتا ہے۔ یوں پورا معاشرہ زوال کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اس پر کسی تحقیق کی ضرورت نہیں۔تازہ ترین سرکاری اطلاع کے مطابق لاہور میں روزانہ تیس لاکھ لٹر کی پیداوار ہے مگر فروخت پنتالیس لاکھ لٹر ہے۔باقی پندرہ لاکھ لٹردودھ کہاں سے آتا ہے، اور آیا یہ دودھ ہے بھی یا نہیں؟ اسی طرح مردار جانوروں، گدھوںاور کتوں کے گوشت کی فروخت سے کون منکر ہے۔ بچوں کی گولیاں ٹافیوں سے لے کرہوٹلوں، ادویات سازی، سبزی اور گوشت کی دکانوں، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، فلاحی محکموں، غرضیکہ ہر اینٹ روڑے سے ایسی دلخراش داستانیں وابستہ ہیں۔ ینگ ڈاکٹر حضرات آئے دن سڑکوں پر انجمن سجائے بیٹھے نظر آتے ہیں۔ مریض جائیں بھاڑ میں۔ حالانکہ انہی ڈاکٹروں کی کثیر تعداد انسانیت کی خدمت کے نعرے سے اس مقدس پیشہ میں آتی ہے۔
اخلاقی حالت دیکھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ کسی نوجوان، خیر نوجوان کو چھوڑئیے، دس بارہ برس کے لڑکے کو اس کی بدتمیزی پر سرزنش کریں، اور پھر دیکھیں وہ صاحبزادہ آپ کو کیا کہتا ہے۔ چونکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور گھر اس سلسلہ میں بانجھ ہیں، نہ اپنی تربیت، نہ بچوں کی طرف توجہ، تو آداب، احترام اور بڑوں کی بات سننے کی تاب کیسے ہو؟
لگے ہاتھوں انٹرنیٹ کے فوائد پر بھی غور کریں۔ گوگل کی حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فحش مواد دیکھنے، یا کم از کم اس کی تلاش میں، پاکستان کا پہلا نمبر ہے۔ یقیناً کچھ محبانِ قوم اس سروے کو یہودیوں کی سازش قرار دیں گے مگر حقیقت سے چشم پوشی بھی اخلاقی زوال کا ایک سبب ہے۔کتنے والدین ہیں جو اس امر پر نگاہ رکھتے ہیں کہ ان کے گھر وں میں موجود کمپیوٹر کہاں ہے، اولاد کب کب دیکھتی ہے، کیا دیکھتی ہے اور یہ کہ چھپ چھپ کر کیا دیکھا جا رہا ہے؟ ماں یا باپ کو اتنی فرصت کہاں۔ ماں بیچاری اگر کچھ کرنا بھی چاہے تو اسے اولاد کی ڈانٹ اور بدتمیزی چپ رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ باقی رہ گئے والد صاحب، تو جو شخص دولت کمانے کے چکر اور ہوس میں آدھی رات تک گھر سے باہر رہے گا اسے خاک خبر کہ بچے کیا کر رہے ہیں؟
اسی میں موبائل سروسز کا بھی اضافہ کر لیں۔ کسی وقت بھی اپنے گھر سے باہر کھڑے ہو کر دیکھ لیں۔ کم وبیش ہر نوجوان، اور بہت سی لڑکیوں، کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر کسی اہم مسئلہ پر گفتگو فرماتے دکھائی دیں گے۔ مانا کہ یہ کام کی چیز بھی ہے مگر اتنا کیا کام کہ ہر وقت اسے کانوں سے لگائے رکھیں۔اس مضمون نگار کو ایک واقعہ دہرانے کی اجازت دیں۔ ہوا یہ کہ ایک دن ایک باریش صاحب مجھ سے ملنے آئے۔ ان کے ساتھ کوئی بائیس تیئس برس کی لڑکی تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی بیٹی (جو ان کے ہمراہ تھی)کی مزید تعلیم کے لیے میرا مشورہ چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں اندر بٹھایا۔ بیٹھتے ہی محترمہ نے اپنے موبائل پر چیٹنگ یا کوئی گیم شروع کر دی۔ میں ”کبھی ان کو، کبھی ان کے باپ کودیکھتے ہیں” کی تصویر بنا سوچ رہا تھا کہ اس دختر کی تربیت اور حوصلے کا یہ عالم ہے کہ اپنی ہی تعلیم کے سلسلہ میں اس قدر بیگانگی، اور بدتمیزی یہ کہ باپ اور میری موجودگی کا لحاظ کیے بغیر موبائل پر مصروف ہے۔اسے اتنا حوصلہ اور بے باکی کیسے ملی؟ یقیناً اپنے گھر سے۔ کاش وہ صاحب بھی اس بدتمیزی کا ادراک کرتے۔
یہ دہرانے کی ضرورت نہیں کہ ہم ہر موقع پر اسلامی تعلیمات کی بات کرتے ہیں۔ ہر لمحہ ہمارے رہنمائوں کی کثیر تعداد یہ نعرہ لگاتی ہے کہ اسلامی نظام ہماری زندگی کا مقصد ہے۔ ماشا اللہ، ہونا بھی چاہیے مگر عملی لحاظ سے اسلام کا ایک زرّہ بھی ہماری زندگیوں میں نظر نہیں آتا۔برصغیر کسی دور میں بت پرستی کا مرکز تھا۔ صوفیا کی آمد اور تعلیمات سے رفتہ رفتہ لوگوں کے ذہن اور قلب میں تبدیلی آتی گئی۔ انہوں نے تو کبھی اسلامی نظام کی بات نہیں کی تھی۔ ہاں البتہ اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیا تھاجس کا اثر ہر کہ و مہ پر ہوا۔افسوس تو یہ ہے کہ آج صوفیوں اور علماء کی اکثریت اوروں کو تو اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین کرتی ہے مگرخود ان کا جاہ و جلال اور کروفر دیکھنے کے
قابل ہے۔
تاریخ کا سبق ہے کہ اخلاقیات کی عمارت دھیرے دھیرے بلند ہوتی ہے مگر اس کو ڈھانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ کسی گھر یا قوم کو بگاڑنے کا سہل ترین راستہ یہ ہے کہ وہاں نئی اخلاقیات کی تعلیم شروع کر دیں، ایسی اخلاقیات جس میں آپس کے رشتے کانچ کے برتن ثابت ہوں، فحاشی اور دروغ گوئی معمول ہو، بڑوں سے بدتمیزی اور بے رخی کا پرچار ہو، مذہب اور بزرگوں کی تعلیمات کو فرسودہ کہا جا رہا ہو، پھر دیکھئے اخلاق کی عمارت کتنی جلدی مسمار ہوتی ہے۔ پھر یہ کہنا آسان ہو گا کہ ”اخلاق کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے”۔

(Visited 1 times, 1 visits today)
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>