Published On: Mon, Jul 18th, 2016

آزاد کشمیر ۔ جمہوریت کی تشکیل جدید

Share This
Tags

تحریر : اکرم سہیل
akram sohailکسی بھی ملک کا سیاسی نظام، اس ملک کی معاشی ، معاشرتی اور اس کے لئے بین الاقوامی تعلقات کا تعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ سیاسی نظام میں عوامی حاکمیت کے تصور کو جمہوریت کے لبادے میں ہی اگر اشرافیہ کی حکومت یا چند طاقتور طبقات میں تبدیل کردیا جائے تو ضروری ہو جاتا ہے کہ سیاسی نظام پر دوبارہ غور وفکر کرکے اس کو عوامی امنگوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ آزاد کشمیر ریاست کوئی خودمختار ملک نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایک حفا ظتی ریاست یا Protectorate ریاست کے طور پر موجود ہے۔ جس میں حکومت پاکستان کو یہاں ایک اچھی حکومت قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ آزاد کشمیر میں اگرچہ 1970ءتک صدر کا عہدہ برقرار تھا لیکن عملی طور پر وزارت امور کشمیر ہی حکمران تھی۔ 1970ءمیں یہاں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخابات ہوئے جس میں صدارتی نظام تھا اور صدر ہی ریاست کا منتظم اعلیٰ تھا۔
اس پہلے براہ راست انتخابات میں سردارعبدالقیوم خان صاحب صدر ریاست منتخب ہوئے۔ آئین 1970ءمیں قانون ساز اسمبلی اور انتظامیہ کو مکمل طور پر الگ رکھا گیا تھا ممبر قانون ساز اسمبلی وزیر مقرر نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ نظام جدید جمہوریت کے انتظامیہ کے مقننہ سے علیحدگی کے تصور Seperation of power کے اصولوں کے عین مطابق تھا۔ بعد میں اس آئین میں ترمیم کرکے ممبر قانون ساز اسمبلی کو وزیر بننے کا اہل قرار دیا گیا۔
اس نظام میں صدر ریاست کے الیکشن کے لئے تاﺅ بٹ سے لیکر چھمب بھمبر تک ہر شخص نے ووٹ ڈالنا تھا اور صدر ریاست بھی اپنے آپ کو آزاد کشمیر کے ہر شخص کے آگے جواب دہ سمجھتا تھا۔ بعد ازاں آزاد کشمیر میں 1974ءکا آئین نافذ کیا گیا جس میں نظام حکومت کو صدارتی سے پارلیمانی میں تبدیل کردیا گیا۔ اس آئین کے تحت پارلیمانی طرز حکومت چند سال آزاد کشمیر میں روبعمل رہا ۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد 1985ءمیں پھر پارلیمانی نظام کے تحت انتخابات ہوئے اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام چل رہا ہے۔
پارلیمانی نظام میں اچھی حکومتیں بھی آئیں جسکی بنیادی وجہ ان حکومتوں میں آنے والے لوگوں میں کچھ جمہوری روایات کی پاسداری کا احساس تھا لیکن گزشتہ دس سال سے پارلیمانی نظام حکومت نہ صرف ہچکولے کھا رہا ہے بلکہ ’اچھی حکومت‘ کا تصور تقریباً معدوم ہوکر رہا گیا ہے۔ 2006ءسے 2011ءکے دوران چار حکومتیں تبدیل ہوئیں۔ 2011ءتا2016 کی حکومت کے خلاف بھی دو دفعہ عدم اعتماد کی تحریکوں کیلئے ضروری ووٹ دستیاب ہوگئے تھے لیکن وفاقی حکومت کی مداخلت سے موجودہ حکومت کو سہارا ملتا رہا ہے اور یہ حکومت اپنی معیاد پوری کررہی ہے۔
اگر گزشتہ دس سال کے دور حکومت کا تجزیہ کیا جائے تو حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں ممبران قانون ساز اسمبلی کا بنیادی رول جو یا تو ان کی بلیک میلنگ تھی یا نئی آنے والی حکومت میں زیادہ اختیارات اور زیادہ مفادات سمیٹنے کی خواہش تھی۔ وزرائے اعظم کو اپنی وزارت عظمیٰ بچانے کیلئے ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر ان کے ہر ناجائز کام کو بھی کرنا پڑتا تھا اور انکار کی صورت میں تحریک عدم اعتماد کی تلوار سر پر لٹکنا شروع ہوجاتی۔ تقرریوں میں میر ٹ کی پامالی، وزراءکے ووٹروں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے ہی میرٹ کے مستحق ٹھہرے اور سفارش کے بغیر تقرری کا تصور ہی محال رہا ہے۔ تعمیر و ترقی صرف وزراءکی ہوئی، زمین پر خزانے کا پیسہ لگتاہوا کم ہی نظر آیا۔ ٹھیکیداراوں کا اور مو بلایئزیشن ۔۔ ایڈوانس بطور بھتہ دینے کا رواج پیدا ہوا۔ ترقیاتی بجٹ جو دس سال پہلے 20ارب تھا اور دس سال بعد اسے کم از کم 30یا 35ارب ہونا چاہئے تھا وہ کم ہو کر سالانہ 10ارب رہ گیا اور اس کا بھی 1/3 فیصد غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہوتا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں تو ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آنے والی حکومتیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گی۔ اگر نظام حکومت یہی رہا۔
موجودہ پارلیمانی نظام حکومت کی بڑی بڑی خامیاں یہ ہیں کہ جو لوگ قانون ساز اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے ہیں حکومتی جماعت کے تقریباً سارے ممبران وزراءبن جاتے ہیں اس طرح پارلیمان اور انتظامیہ کی علیحدگی کا تصور ختم ہوجاتا ہے ۔ وزراءاپنے اپنے حلقوں اور اپنی اپنی برادریوں تک محدود ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے انہی لوگوں سے ووٹ لینے ہو تے ہیں اور آئندہ کے انتخابات کیلئے انہیں خوش رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم کو انہیں ممبران نے منتخب کرنا ہوتا ہے لہذا وزیر اعظم کا عا م آدمی کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں بنتا ہے کہ اس نے تو عام آدمیوں سے وو ٹ ہی نہیں لینے ہوتے اسے تو ایم ایل اے کو ہی خوش کرنا پڑتا ہے اور اس کی خواہشات کی تعمیل ہی وزیر اعظم کیلئے باعث طمانیت ہوتی ہے کہ اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ۔
ریاست میں تعمیر و ترقی کی کیا صورتحال ہے ؟ترقیاتی بجٹ کہاں خرچ ہورہا ہے۔ تقرریوں میں میرٹ کی کیا پوزیشن ہے وزیر اعظم کی ان معاملات پر توجہ دینا ضرورت نہیں بس ”ایم ایل اے خوش تے ماہیا خوش“
آزاد کشمیر میں یہ خرابیاں اب ناسور بن چکی ہیں۔ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی ، روزگار کے نئے مواقع ، میرٹ پر بھرتی اور سماجی انصاف اور خوشحالی اس وقت تک ایک خواب ہی رہے گا جب تک اس فرسودہ نظام حکومت کو تبدیل نہ کردیا جائے۔ اس کیلئے ہمیں آزاد کشمیر میں جمہوریت کی تشکیل جدید کرنا پڑے گی۔ اس کیلئے دو آپشن کھلے ہیں کہ ریاست میں 1970ءکی طرز کا صدارتی نظام حکومت قائم کیا جائے اور صدر ریاست حکومت کا انتظامی سربراہ ہو اور وہ آزاد کشمیر کے لوگوں کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہو۔ تاکہ اسے پتہ ہو کہ وہ صرف اپنے حلقے یا ایم ایل اے کے سامنے جواب دہ نہیں بلکہ تاﺅ بٹ سے لیکر چھمب تک لوگوں کا ذمہ دار ہے۔ اپنی مرضی سے کابینہ تشکیل دے جس میں ہر شعبہ کے ماہرین شامل ہوں جو ہر شعبہ زندگی میں کسی سیاسی مجبوری کے بغیراصلاحات لا سکیں۔ صدر کو ممبران اسمبلی کی خوشی اور خواہشوں کی تکمیل کیلئے بلیک میل نہ ہونا پڑے۔ عوام کو بھی احساس ہو کہ انہوں نے منتظم اعلیٰ کو براہ راست ووٹ دیئے ہیں اور وہ ان کے مسائل حل کرنے کا ذمہ دار ہے اور اگر وزارت اعظمی کا عہدہ بھی رکھنا ہو تو اس کا بھی براہ راست انتخاب ہو اور کابینہ میںکوئی ایم ایل اے شامل نہ ہو اس سے ووٹوں کے لیئے ایم ایل ایز کی خریدوفروخت کا راستہ بھی بند ہو گااور وزراءکی حکومتی خزانہ لوٹنے کی حرص و ہوس کی دوڑ بھی ختم ہو گی جو وہ الیکشن کے اخراجات پورا کرنے کے لئے کرپشن کرتے ہیں۔
جہاں تک قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا تعلق ہے وہ اب بھی بطور ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوتے ہیں ان کا کام قانون بنانا حکومت کی رہنمائی کرنا اور حکومت کی کارگزاری پر نگاہ رکھنا اور چیک اینڈ بیلنس قائم رکھنا ہو۔ قانون ساز اسمبلی کے ممبران جس مقصد کیلئے منتخب ہوتے ہیں وہ وہی کام کریں تاکہ ممبران قانون ساز الگ اکائی کے طور پر دیکھے جائیں اور حکومت الگ ا کائی کے طور پر اپنا اپنا کام کرے اس وقت ممبران قانون ساز کے حکومتی وزیر بننے سے قانون ساز اسمبلی اور حکومت کے اختیارات کی تقسیم Seperation of Power کا تصور ختم ہوچکا ہے۔ جس سے چیک اینڈبیلنس یا Over Sight کا کوئی نظام موجود نہ رہا ہے۔ میرے خیال میں آزاد کشمیر کے سیاسی کارکنوں ، وکلاء، سول سوسائٹی، پروفیسرز، طلبائ،کو میری اس تجویزپر غور کرنا چاہئے اور اپنی رائے سے بھی آگاہ کریں تاکہ بحث و تمحیث کے بعد ہم آزاد کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کیلئے ، سنہری اصولوں کو حاصل کرسکیں اور موجودہ گلے سڑے نظام سے ریاست کے شہریوں اور نوجوان نسل کو چھٹکارا مل سکے۔
masohailajk@yahoo.com

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>