Published On: Thu, Aug 25th, 2016

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) کا مینڈیٹ،ایک امتحان

Share This
Tags

bashir baig

محمد بشیر بیگ

آزاد کشمیر میں اکیس جولائی 2016 کو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کو توقعات سے کہیں بڑھ کر عوامی مینڈیٹ حاصل ہوا ہے،ایک بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا قیام ایک طرف آزاد کشمیر کے عوام کیلئے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تو دوسری طرف یہی مینڈیٹ وفاقی حکومت کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ آزاد کشمیر میں عوامی توقعات اس مینڈیٹ سے بہت بڑی ہیں ،اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پچھلے بیس سال میں آزاد کشمیر کے عوام کو جمہوری ثمرات میں سے بہت کم حصہ ملا ہے اور بظاہر جمہوری حکومتیں موجود رہی ہیں مگر ایک بھی ایسا قابل ذکر منصوبہ نہیں بتایا جا سکتا جسے عوامی عدالت میں سرخروئی کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکے۔آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت کے کارنامے سب کے سامنے ہیں،آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے اس دور حکومت کو تاریخ کا سیاہ ترین دور حکومت کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ اس دور حکومت میں جس کی سربراہی چوہدری عبدالمجید کر رہے تھے عوامی استحصال کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں،اقربا پروری اور کرپشن عروج پر رہی،ماسوائے چند تعلیمی اداروں کے قیام کے سوا پیپلز پارٹی کی جھولی میں ایک بھی قابل ذکر کارنامہ نہیں جس کے دم پر عوامی پارٹی ہونے کا صحیح معنوں میں دعویٰ کیاجا سکے۔پیپلز پارٹی کی بیڈ گورنس کا یہ عالم تھا کہ عوامی حلقوں کا اداروں سے اعتماد اٹھ رہا تھا اور وہ جلد ایک بڑی تبدیلی کی تمنا دل میں لیے ہوئے تھے اور جب قدرت نے عوام کو موقع دیا تو اس نے اپنے ووٹ کی قوت سے پیپلز پارٹی کا وہ حشر کیا جو اس سے قبل گلگت بلتستان میں کیا۔پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت یقینی طور پر سوچ رہی ہو گی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے؟اس سوال کا جواب انہیں وہ کاسہ ؛لیس نہیں دے سکیں گے جو اب تک اقتدار کو صرف ذاتی منفعت کا ذریعہ بنائے ہوئے تھے اور عوامی امنگوں کا خون کررہے تھے۔سات اگست 2016 کوآزاد کشمیر کابینہ نے حلف اٹھایا ہے،اس کابینہ میں جن افراد کو بطور وزیر لیا گیا ہے ان کی اہلیت و قابلیت کا اندازہ فوری نہیں لگایا جا سکتا مگر جن شخصیات کا انتخاب کیا گیا ہے وہ درست ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کابینہ آزاد کشمیر کے حالات اور ضروریات کے مطابق فوری کیا فیصلے کر سکتی ہے۔آزاد کشمیر کے ترقیاتی معاملات تسلی بخش نہیں ہیں حکومت کو فوری طور پر اس جانب توجہ دینی ہو گئی اور ٹیسٹ پیریڈ میں توانائی،مواصلات اور روزگار پر توجہ دینی ہو گی کیونکہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بارہ سے سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے کاروباری معاملات تسلی بخش نہیں اور مواصلات پر بھی اطمینان کا اظہار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کافی عرصہ سے مرکزی شاہرات کی تعمیر اور ان کی بہتری و کشادگی کے لیے سنجیدہ اقدام نہیں اٹھائے گئے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان ضروری معاملات کو ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے کام کا آغاز کرے۔جہاں تک آزاد کشمیر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بات ہے تو افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ سابق تین ادوار میں صرف اقربا پروری کو فروغ دیا گیا،میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں اور حقداروں کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا ، اداروں میں نا اہل اور سست لوگوں کی بھر مار سے ان کے کام کرنے کی استعداد چالیس فیصد سے بھی کم ہے جسے درست کرنے اور سو فیصد نتائج کے حصول کے لیے میرٹ اور اہلیت کو اولیت دینے کی اشد ضرورت ہے تا کہ ان اہداف کو حاصل کیا جا سکے جووزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دورہ مظفر آباد میں طے کیے تھے۔آزاد کشمیر کی مجموعی ترقیاتی صورتحال کو یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،اہلیت اور قابلیت کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو بہت کم عرصے میں آزاد کشمیر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے اور اگر روئیہ تبدیل نہ کیا گیاسابقہ حکومتوں کی طرح روایتی طریق اپنایا گیا تو نہ صرف عوامی اعتماد مجروح ہو گا بلکہ آزاد کشمیر کی معاشی و اقتصادی صورتحال گھمبیر ہو جائے گی،پالیسی سازوں کا فرض ہے کہ وہ نوزائدہ حکومت کی رہنمائی کریں اور ضروری معاملات کو یکسو کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیںیہ نہ ہو کہ ایک بڑے مینڈیٹ کی حامل حکومت ایک مذاق بن کر رہ جائے اور خطہ ترقی کے ثمرات سے محروم رہے۔مسلم لیگ(ن) کی نومنتخب حکومت کے کندھوں پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی کڑی ذمہ داریاں عائد ہیں جن سے عہدہ برآ ہونا اس کا فرض ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے کشمیریوں کا جینا مشکل تر بنا دیا ہے اور ایسے مشکل وقت میں آزاد کشمیر کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائے جن کی مدد سے عالمی سطح پر مظلوم کشمیر بھائیوں کی سفارتی و اخلاقی حمایت کو یقینی بنایا جا سکے،مقبوضہ کشمیرکے عوام اور سیاسی قیادت آزاد کشمیر کے عوام اور سیاسی قیادت کی اخلاقی و سفارتی مدد کے منتظر ہیں اس موقع پر پوری توجہ اور دلچسپی سے اپنے بہن بھائیوں کی عملی مدد کو اولین ترجیح بنایا جائے تا کہ اس پار بھی کشمیریوں کو محسوس ہو سکے کہ وہ تنہا نہیں بلکہ آازادی کی اس تحریک میں آزاد کشمیر کی عوام ان کے شانہ بشانہ ہیں۔آزاد کشمیر کی نومنتخب حکومت بڑی جیت کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ضروری اقدامات پر بھی توجہ دے تا کہ وقت کا ضیاع روکا جا سکے اور خطے کے عوام کو جمہوری ثمرات بہم پہنچائے جا سکیں۔حکومت آزاد کشمیر کو ان حلقہ جات پر بھی خصوصی توجہ دینی ہو گی جنہیں سیاسی مخالفت کا نشانہ بنایا گیا اور دیرینہ عوامی مطالبات کے مطابق کام نہیں کرایا گیا،کوٹلی ضلع اس حوالے سے محروم ضلع ہے جسے جان بوجھ کر بعض ترقیاتی کاموں سے محروم رکھا گیا بالخصوص ایک بڑی آبادی کے حامل ضلع کوٹلی میں نئے انتخابی حلقہ جات کے قیام کے ساتھ ساتھ بگ سٹی کا نوٹیفیکیشن فوری جاری کیا جائے میونسپل کارپوریشن کوٹلی کو فوری فندز فراہم کرکے متحرک کیا جائے اور گریٹر واٹرسپلائی منصوبہ کی فوری تکمیل کا انتظام بھی کیا جانا چاہیے۔عوامی خدمات کے عوض عوام سے بڑے مینڈیت کی توقع کی جا سکتی ہے یہ سبق خود مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو بھی یاد رکھنا ہو گا تا کہ گڈگورنس کی بنیاد مضبوط کی جا سکے اور عوامی امنگوں کو پورا کیا جا سکے۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کی وفاقی حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک ایک بار پھر خم ٹھونک کر میدان میں موجود ہیں اور اپنے اپنے طور پر چاہتی ہیں کہ کسی بھی طرح حکومت کوچلتا کیا جائے،اس کے لیے ان دونوں سیاسی جماعتوں نے احتجاج کے لیے ایک ہی وقت کاچنائو کیا ہے،پانامہ پیپرز کے حوالے سے تحریک انصاف کو اب تک یہی امید ہے کہ وہ اس کا استعمال کر کے نواز شریف حکومت کو گرا سکتی ہے مگر سنجیدہ عوامی حلقے جانتے ہیں کہ عمران خان کے ، سابقہ دھرنوں کے بعد انہیں سبق سیکھنا چاہیے تھا مگر لگتا ہے کہ وہ سنجیدہ روئیہ اختیار کرنا ہی نہیں چاہتے،اقتدار کے حصول کے لیے شارٹ کٹس اور جلد بازی کی سیاسی حکمت عملی نے ان کی ملک گیر شہرت کو پہلے ہی بری طرح متاثر کر دیا ہے اب رہی سہی کسر موجودہ احتجاجی تحریک میں ختم ہونے کو ہے کیونکہ سنجیدہ عوامی حلقے بخوبی جانتے ہیں کہ ملک اب اپنے پائوں پر پوری طرح کھڑا ہے اور معیشت میں بہتری کے واضح آثار دیکھے جا سکتے ہیں ،ایسے میں کسی غیر سنجیدہ تحریک کا حصہ بنے بغیر عوامی خواہش یہ ہے کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے، تاکہ جمہوری عمل کا تسلسل بھی قائم رہے ، لیکن آزاد کشمیر حکومت کو بھی اپنی سمت درست رکھنی ہو گی تا کہ عوامی حمایت سے بنی یہ حکومت ایک مثالی و عوام دوست حکومت ہو جس کی توجہ کا محور و مرکز صرف کام ہوصرف کام ،تو کیوں نہ ابھی سے ایک واضح سمت اختیار کی جائے تا کہ ن لیگ کی حکومت اپنے منشور کے مطابق اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔کام کے حوالے سے آزاد کشمیر میں چھوٹی کابینہ متحرک ہے مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر ممبر اسمبلی وزیر یا مشیر بننے کی دوڑ میں شامل ہے ،جن لوگوں کو ابھی تک وزارت نہیں دی گئی ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو حقیقتاً وزارت کے اہل ہیں اور کام کرنے کا جزبہ بھی رکھتے ہیں ،ان شخصیات میں میر پور سے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو عبرتناک شکست دینے والے چوہدری سعید،حلقہ کھڑی سے نومنتخب ممبر اسمبلی چوہدری رخسار،سہنسہ سے راجہ نصیر احمد خان،راولپنڈی سے مہاجریں کی نشست پر جیتنے والے نوجوان قا نون دان اور سیاسی رہنما حافظ محمد احمد رضا قادری شامل ہیں،آزاد کشمیر حکومت اگر واقعی کام کرنے کے موڈ میں ہے تو اسے کابینہ میں اہل افراد کو شامل کرنا ہو گا۔ تعداد مختصر رکھنے سے کام کی استعداد میں فرق پڑتا ہو یا نہ ہو مگر لوگ ضرور مایوس ہوتے ہیں اس لیے ابتداء میں ہی ایسے کام نہیں کرنے چاہیں جن سے بد مزگی پھیلے اور جماعت میں انتشار بڑھے اس لیے فوری طور پر کابینہ کو اعتماد میں لے کر مناسب تعداد میں وزراء اور مشیران کے ہمراہ کام کا آغاز کر دینا چاہیے کیونکہ پہلے پارلیمانی سال میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو ثابت کرنا ہے کہ وہ اس بڑے مینڈیٹ کی اہل ہے اور کام کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔راجہ فاروق حیدر خان کو وزراء و مشیران کی تعداد کے حوالے سے ریاستی مفاد مد نظر رکھنا ہو گا کسی کی پسند یا ناپسند کو دیکھا گیا تو یہ عوام اور خطے کے ساتھ زیادتی ہو گی۔راجہ فاروق حیدر خان مزاجاً کام کرنے والے رہنماء ہیں انہیں پوری جرات کے ساتھ فیصلے کرنے ہوں گے تا کہ خطے کی محرومیوں کا یقینی خاتمہ ممکن ہو سکے اور آزاد کشمیر کو تعمیر وترقی کے حوالے سے پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر لایا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>