Published On: Mon, Jul 18th, 2016

آزادکشمیرمیں صدارتی نظام کامطالبہ

Share This
Tags

سیدعارف بہار ۔ رمضان المبارک کی ایک بھیگی ہوئی شام دریائے نیلم کے کنارے منعقدہ محفل کے چنیدہ شرکاءجن میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے موجودتھے آزادکشمیر کے عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے ساتھ ان کے حل پر کھل کربات کر رہے تھے ۔آزادکشمیر میں تھنک ٹینکس اور تحقیقی ادارے تو ہیں نہیں جہاں باقاعدگی سے معاشرے کو درپیش مسائل پر علمی اور عالمانہ انداز میں بحث ہو اور پھر ان مسائل کے حل کا کوئی مربوط خاکہ تیار کرکے ریاست وحکومت کو پیش کیا جائے ۔اس خطے کے بنجر ،خشک اور مضبوط اداروں اور توانا روایتوں سے محروم ماحول میں درد دل رکھنے والے کسی پارک میں کسی ہوٹل کے دالان میں میں چائے کی پیالی پر جمع ہوکر تو اپنا کتھارسس کرتے ہیں۔ ایسی ہی محفل میں جمع ہونے والوں نے ان لمحات کو محض خوش گپیوں میں صرف کرنے کی بجائے اپنے گردوپیش اور حالات کے جائزے کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ۔یہ محفل آزادکشمیر کے صحافتی منظر پر اُبھرتے ہوئے نوجوان صحافی کاشف میر نے سجائی تھی ۔ صحافتی دنیا کی رونق بڑھائے ہوئے ہے۔تقریب میں جہاں اکرم سہیل کی صورت میں ریٹائرڈ اور تجربہ کار بیوروکریٹس کی نمائندگی تھی وہیں سیکرٹری سروسز سید شاہد محی الدین، سیکرٹری الیکشن کمیشن طارق بٹ، سید ظہیر گردیزی، آزادکشمیر گزیٹیڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر سردار جاوید ایوب جنرل سیکرٹری سید سلیم گردیزی،راجہ طاہر ممتاز ،راجہ طاہر عظیم ،شریف ڈار سمیت کئی حاضر سروس بیوروکریٹس کی معقول تعداد بھی تھی ۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے دونوجوان اُبھرتے ہوئے سیاسی کارکن راجہ شجاعت اور راجہ منصور اور صحافی سید خالد گردیزی اور نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر مظفر عباسی اسلام آباد سے خصوصی طور محفل کا حصہ بننے آئے تھے۔ دو سیاسی کارکنوں کی طرح اگرتقریب میںطارق نقاش،سجاد میر،راجہ شجاعت،عبدالواجد خان،اقبال میر کی صورت شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ موجود نہ ہوتے توتقریب کا مجموعی رخ آزادکشمیر کی سروسز ،تعمیر وترقی اورگڈ گورننس تک محدو رہتا لیکن اسلام آباد سے آئے ہوئے راجہ شجاعت کی دھیرکوٹی میں گندھی ہوئی انگریزی تڑکے سے مزین جذباتی گفتگو کے بعد یہ سوال اُبھر کے سامنے آیاکہ کیا آزادکشمیر کا موجودہ نظام اپنی طبی عمر پوری کرچکا ہے؟اگر واقعی ایسا ہے تو پھر متبادل کیاہے؟کچھ عرصے سے پاکستان میں بھی پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کی آوازیں دھیمے سروں میں بلند ہورہی ہیں۔ابھی اس محفل سے بلند ہونے والی آواز کی گونج فضاﺅں میں موجود ہی تھی کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی اتحادی جماعت جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم نے بھی دوٹوک اندازمیں صدارتی نظام کے حق میں آواز بلند کی ۔ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے لئے صدارتی نظام زیادہ موزوں ہے ۔سردار خالد ابراہیم آزادکشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کے صاحبزادے ہیں ۔پاکستان کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے ۔وہاں صوبوں کی اپنی سوچ ،اپنے زاویہ نگاہ ،مسائل اور خدشات ہیں۔وہاں 1973کا آئین صوبوں کے درمیان ایک بائنڈنگ فورس ہے۔جسے بہت جان جوکھوں سے متفقہ بناکر منظور کرایا گیا تھا۔اس آئین کے تحت ملک کا نظام پارلیمانی ہے ۔پارلیمانی نظام کو صدارتی میں تبدیل کرنے کی صورت میں سیاسی جماعتوں کا کسی ایک میثاق پراکٹھا ہونا ناممکن تو نہیں خاصامشکل ہے ۔یہ اور اس طرح کی حساسیت وہاں فوری طور پر نظام حکومت کی تبدیلی میںرکاوٹ ہو۔آزادکشمیر کا معاملہ قطعی اُلٹ ہے ۔یہاں صوبوں اور قومیتوں کا بکھیڑا ہی نہیں ۔آزادکشمیر میںبرادری ازم ہے اور برادری ازم کا مسئلہ نظام حکومت نہیں طاقت کے کیک میں معقول حصہ اور اقتدار کے کھیل میںمضبوط پوزیشن ہے۔یہاں کیل سے بھمبر تک سوچ کا ایک ہی انداز ہے ۔یہ کوئی تسلیم شدہ ریاست بھی نہیںجہاں تجربات کرنے سے دنیا میں جگ ہنسائی کا اندیشہ ہو۔چھوٹی سی لوکل اتھارٹی ہے جس کا انتظام اگر کسی ایک انداز سے ڈھنگ سے نہ چل سکے تو دوسرا انداز اپنا لینے میں کوئی حرج نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ 1985میں جس پارلیمانی نظام کا آغاز ہواوہ اب تین عشرے گزار چکا ہے ۔اس دوران کئی طاقتور وزرائے اعظم بھی آئے اور کئی مجبور وزرائے اعظم بھی ان میں طبعاََ دیانت دار بھی تھے اور فطرتاََ مال پسند بھی ۔ان میں درویش بھی تھے اور مجاور بھی مگر یہ پورا سفر بدسے بد تر کی طرف جاری رہا۔بدعنوانی میں مسلسل اضافہ ہوا،عوام کے وسائل زمین پر لگتے نظر نہیںآئے ۔شخصی ترقی تو دکھائی دیتی ہے مگر اجتماعی ترقی کا دور دور تک نشان نہیں ملتا ۔شخصی ترقی بھی دوطرح کی ہے ۔ ترقی کی ایک چکا چوند بدعنوانی کے ذریعے کمائے مال کے باعث ہے ۔سکیموں کا جو پیسہ زمین پر لگنا چاہئے تھا ذاتی جیبوں میں چلا گیا،جنگلات اور سرکاری محکموں میں لوٹ کھسوٹ سے کچھ لوگوں کا میعار زندگی بلند ہوا۔دوسری وجہ یہاں کے محنت کشوں کی بیرونی دنیا میں جا کر خون پسینے کی کمائی ہے جس کے اثرات عوام کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔مجاہدوں اور غازیوںکی دھرتی میں جس قدر جانفشانی اور دیانت داری سے جنگلات اور معدینات کے خلاف ”جہاد “ہوا اس جذبہ ¿ جہاد کا کم ترمظاہرہ اصلی میدان جہاد میںکیا گیا ہوتا تو آج حکومت کا یہ سارا نظام مظفر آباد کے کیمپ آفس کی بجائے سری نگر میں چل رہا ہوتا۔اگر ایک نظام اکتیس سال سے ڈلیور نہیں کرسکا تو وہ ہمارے خوابوں کا وہ شاہزادہ اور وہ مسیحا نفس کہاں سے اور کب آئے گا جو اس سسٹم کی شکستہ اور ناکارہ ناﺅ کوپُشتوں کو جوڑ کر دوبارہ کارآمد بنائے گا؟کوئی چھومنتر ہے جو اس سڑھی ہوئی سبزی کو دوبارہ تر وتازہ کردے ؟ نہ تو ایسے مسیحا نفس کے قدموں کی چاپ کہیں سنائی دے رہی ہے اور نہ ہی معجزاتی اور کرشماتی قسم کاشارٹ کٹ دور دور تک دکھائی دیتا ہے۔اس طرح سسٹم کی ناکامی اور اس کے دیوالیہ ہونے میں کوئی کلام ہی نہیں مگر اس کا متبادل کیا ہے؟ اس کے جواب میں ہی شاید صدارتی نظام کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>